پاکستان سپر لیگ بھارتیوں کی بھی ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی

اب تک کی رپورٹس حوصلہ افزا ہیں جب کہ ٹیمیں خریدنے میں بہت لوگ دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں، شہریارخان


Saleem Khaliq September 25, 2015
مستقبل میں ایونٹ کو پاکستان لانے کی کوشش ضرور کریں گے مگر اس کا انحصار سیکیورٹی حالات پر ہوگا، چیئرمین بورڈ ۔ فوٹو: فائل

بھارتی شخصیات نے بھی پاکستان سپر لیگ میں ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر دی، چیئرمین پی سی بی شہریارخان کے مطابق انگلینڈ اور آسٹریلیا سے بھی آفرز موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر لحاظ سے اطمینان کے بعد سے فرنچائزز فروخت کی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق اولین پی ایس ایل کا انعقاد دبئی اور شارجہ میں ہوگا، اس حوالے سے ٹیموں کی فروخت کیلیے کام شروع کر دیا گیا، چیئرمین پی سی بی شہریارخان کا کہنا ہے کہ اب تک کی رپورٹس حوصلہ افزا ہیں،ٹیمیں خریدنے میں بہت لوگ دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

اتنے اسپانسرز مل چکے کہ ہمیں کوئی طریقہ کار بنانا پڑے گا کہ کسے ٹیم خریدنے کا موقع دیں، ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی بھی کہیں سے پیسے لا کر کہے کہ میں ٹیم خریدنا چاہتا ہوں، ساکھ اور کرکٹ سے وابستگی کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا، ہمیں بھارت سمیت انگلینڈ اورآسٹریلیا سے بھی آفرز موصول ہوئی ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے تسلیم کیا کہ سپر لیگ پر بہت پیسہ خرچ ہو رہا ہے مگر میری شرط یہی ہے کہ یہ رقم واپس بھی آنی چاہیے، میں لیگ کو نہیں چلا رہا۔

اس کیلیے نجم سیٹھی کی زیرسربراہی قابل افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنی ہے،مارکیٹنگ اور فنانس کے لوگ بھی آئے ہیں، سپر لیگ پی سی بی کے اندر ہی ایک اسپیشلائز شعبہ ہے،ہم پہلے سال بیلنس دیکھیں گے، ابتدا میں کامیابی اہم ہے،فوراً مالی فائدے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، شہریارخان نے کہا کہ افتتاحی تقریب پر تنقید سامنے آئی کہ اس میں بینڈ باجا ہی تھا کرکٹ پر توجہ نہیں دی گئی،ایک لحاظ سے یہ ٹھیک بھی ہے، مگر دنیا بھر میں اس قسم کی چیمپئن شپ کا آغاز ایسے ہی ہوتا ہے۔

آپ آئی پی ایل دیکھ لیں، شاہ رخ خان جیسے اداکار اور بڑے بڑے کاروباری افراد وہاں نظر آتے ہیں،اس ہلے گلے سے ہی آنے والا پیسہ پھر پلیئرز کے پاس جاتا ہے، ابھی ایونٹ کا آغاز ہو گا یقیناً ہم غلطیاں بھی کریں گے۔

ارادہ یہی ہے کہ سپر لیگ کامیاب ہو جائے۔ چیئرمین بورڈ نے کہا کہ مستقبل میں ایونٹ کو پاکستان لانے کی کوشش ضرور کریں گے مگر اس کا انحصار سیکیورٹی حالات پر ہوگا،ہم یہی چاہتے ہیں کہ پی ایس ایل کا پاکستان کو مالی اور کرکٹ کے لحاظ سے فائدہ ہو، ساتھ شائقین بھی لطف اندوز ہوں، ملک میں آپریشن کامیابی سے جاری اور امید ہے کہ جلد حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔