سانحہ منیٰ

سعودی حکومت نے سانحہ منیٰ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ سیکیورٹی اداروں کا اجلاس بھی بلا لیا ہے


Editorial September 28, 2015
حجاج کرام کو بھی چاہیے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بدنظمی کا مظاہرہ نہ کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات رونما نہ ہوں۔ فوٹو : اے ایف پی

سعودی عرب میں جمعرات کو حج کے موقع پر منیٰ میں رمی کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے متعدد پاکستانیوں سمیت 769 حجاج شہید اور 934 زخمی ہو گئے۔ عرب ٹی وی کے مطابق مکہ سے پانچ کلومیٹر دور منیٰ میں حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے میں مصروف تھے، گرمی کی شدت سے لوگ بے ہوش ہو کر گرے اور ان کے اوپر لوگ چلتے گئے، اس دوران جانے والے راستے پر کچھ حاجی پلٹ آئے اور سامنے سے آنے والوں سے ٹکرا گئے، یوں بھگڈر مچ گئی۔ سعودی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق منیٰ کی گلی نمبر 204 اور 223 کے سنگم پر مکتب نمبر93 کے قریب حادثہ پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے باشندے موجود تھے، سعودی مرکزی حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ بعض افریقی باشندوں کی وجہ سے بھگڈر مچی۔ شہید ہونیوالوں میں زیادہ تر معمرافراد ہیں جو دم گھٹنے اور کچلے جانے سے دم توڑ گئے۔ بھگدڑ کے فوری بعد رمی کا عمل روک دیا گیا جو تین گھنٹے معطل رہا۔

بھگدڑ مچنے کے بعد منیٰ میں کچھ خیموں میں آگ بھی بھڑک اٹھی تھی تاہم اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ سعودی وزیر صحت نے بتایا کہ سانحہ حجاج کی جانب سے بدنظمی کی وجہ سے پیش آیا، حجاج ہدایات کی پابندی کرتے تو حادثہ نہ ہوتا۔ حادثے کے بعد انتظامیہ نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں، چار ہزار ریسکیو اہلکاروں، 220 ایمبولینسوں اور چھ ہیلی کاپٹروں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ منیٰ میں 1100حجاج شہید اور 2100 کے قریب زخمی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق شہداء کی شناخت میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ سعودی حکومت نے سانحہ منیٰ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ سیکیورٹی اداروں کا اجلاس بھی بلا لیا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق سانحہ میں 100 بھارتی بھی شہید ہوئے۔

وزیراعظم نواز شریف، صدر ممنون حسین، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے سانحہ منیٰ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ زخمی ہونے والے پاکستانیوں کی عیادت کریں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کریں۔ علاوہ ازیں حاجیوں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے گزشتہ روز 300 حاجیوں کو لے کر پہلی پرواز جدہ سے لاہور ایئر پورٹ پہنچی تو حاجیوں کے عزیزواقارب نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے پیاروں کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔

سانحہ منیٰ میں حادثے کے وقت یہ کہا گیا کہ اس میں شہید ہونے والے پاکستانی حاجیوں کی تعداد بہت کم ہے مگر اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق 300 سے زائد پاکستانی حاجی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں مل رہیں۔ حادثے کے بعد بعض غیر ملکی ذرایع ابلاغ نے یہ دعویٰ کیا کہ شہید ہونے والے حاجیوں میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ اس افسوسناک سانحہ کے بعد شہید اور زخمی ہونے والے پاکستانی حجاج کرام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نہ صرف سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی نااہلی، ناقص کارکردگی اور بے حسی کھل کر سامنے آئی بلکہ پاکستان میں بھی وزارت مذہبی اور خارجہ امور کے متعلقہ عملے کی نالائقی اور بے حسی کا پول کھل گیا۔ ہمارے متعلقہ محکمے کے افراد ابھی تک یہ بتا ہی نہیں پا رہے کہ اس سانحے میں مصدقہ طور پر کتنے پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے اور شہید حاجیوں کی لاشیں کہاں ہیں، ایک جانب شہید حاجیوں کی لاشوں میں پاکستانیوں کی شناخت ہی نہیں ہو پا رہی تو دوسری جانب پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے شناخت کے عمل میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

لاپتہ ہونے والے پاکستانی حاجیوں کے لواحقین متعلقہ محکموں سے بار بار رابطہ کر رہے ہیں مگر انھیں وہاں سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا جس کے باعث ان کی پریشانی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دیگر ممالک کے سفارتخانے کے افراد فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور اپنے متعلقہ شہریوں کی مدد کا عمل شروع کردیا۔ اس کے برعکس پاکستانی وزارت مذہبی اور خارجہ امور کے متعلقہ محکموں کے افراد سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،یوں لگتا ہے کہ پاکستانیوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ حج کے دوران ایسا حادثہ پہلی بار پیش نہیں آیا بلکہ گزشتہ 25برسوں کے دوران پیش آنے والے حادثات میں حجاج کرام کی بڑے پیمانے پر شہادتیں سامنے آئی ہیں، حج کی تاریخ میں سب سے زیادہ شہادتیں 1990ء میں 1426 ہوئیں، 2006ء منیٰ میں بھگدڑ سے 346 حاجی شہید اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے، 2004ء میں منی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے 251 حجاج کرام شہید اور 244 زخمی ہوئے تھے۔ چند ہفتے قبل بھی مسجد الحرام میں تعمیراتی کرین گرنے سے 109 حاجی شہید ہو گئے تھے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے حج کے دوران پیش آنے والے بھگدڑ کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ حادثہ کیوں پیش آیا اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے اعادہ کو روکا جا سکے۔ خبروں کے مطابق بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ رمی کے لیے جا رہے تھے کہ ان کے سامنے کنکریاں مار کر واپس آنے والے حاجی آ گئے، پھر افراتفری کا سماں تھا اور اچانک لوگ گرنے لگے انھیں کوئی اٹھانے والا نہیں تھا، وہاں نائیجیرئین' چاڈ، سینیگال اور دیگر قومیتوں کے لوگ تھے۔ بعض غیر ملکی ذرایع یہ دعویٰ کر رہے ہیں اس حادثے سے سعودی انتظامیہ کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا جس نے حاجیوں کے لیے بعض راستے بند کر دیے تھے، ان بند راستوں کے باعث بھگدڑ مچی۔ تاہم سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اس دعویٰ کو شرانگیز اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ منیٰ کی سڑکیں سعودی شاہی خاندان کے افراد کے قافلے کو گزارنے کے لیے بند کی گئی تھیں۔

اس حادثے کی وجوہات جو کچھ بھی تھیں ان کے بارے میں مکمل تحقیقات سامنے لائی جانی چاہیے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے منیٰ کے حادثے کے بعد حج کے سیکیورٹی انتظامات کے ازسرنو جائزے کا حکم دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حج کے انتظامات اور حاجیوں کے نقل و حمل کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے گا۔ بعض ذرایع یہ کہہ رہے ہیں کہ حج کے موقع پر بیس لاکھ سے زائد حاجیوں کے لیے انتظامات کرنا کوئی آسان کام نہیں لہٰذا ایسے حادثات کو روکنا ایک مشکل امر ہے، سعودی حکومت ہر ممکن طور پر بہتر سے بہتر انتظامات کرنے کی کوشش کرتی ہے،حجاج کرام کو بھی چاہیے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بدنظمی کا مظاہرہ نہ کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات رونما نہ ہوں۔