عیدالاضحی اور صفائی مہم

ابھی شہروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے اور قربانی کے عمل کو زیادہ آسان بنانے کے لیے مزیداقدامات کرنے کی ضرورت ہے


Editorial September 28, 2015
اس بار کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد بھی نظر آیا جو حکومت کی ایک کامیابی ہے۔ فوٹو: فائل

وطن عزیز میں عیدالاضحی روایتی مذہبی جوش و جذبے سے منائی گئی۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات بھی خاصے اچھے تھے جس کی وجہ سے پورے ملک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ اس پر حکومت کو داد دی جانی چاہیے، ملک میں دہشت گردی کی جو صورت حال ہے، اس کی وجہ سے پاکستان میں مذہبی تہواروں پر دہشت گردی کا خطرہ موجود رہتا ہے لیکن جب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا ہے، اس وقت سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، وہ اس دوران دہشت گردی کے واقعات ضرور ہوئے ہیں لیکن مجموعی صورت حال ماضی کے مقابلے میں مختلف رہی ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر بڑے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدر آباد اور سکھر میں ضلعی حکومتوں نے صفائی ستھرائی کے اچھے انتظامات کیے تھے جس کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں اس بار جانوروں کی آلائشوں پر مبنی گندگی کے ڈھیر کم نظر آئے، بلدیاتی عملہ خاصا مستعد رہا، مختلف شہروں میں مختلف سینٹرز بنائے گئے تھے جہاں عوام کو پلاسٹک کے بیگز مفت فراہم کیے گئے تاکہ لوگ جانوروں کی آلائشیں ان بیگز میں ڈال کر متعلقہ عملے کے حوالے کر دیں۔

میڈیا پر بھی صفائی کے لیے خصوصی مہم چلائی گئی تھی جو اچھی بات ہے، عید سے پہلے جانوروں کے بیوپاریوں سے میونسپل کمیٹیوں اور پولیس کے عملے کی بدسلوکی کی خبریں آتی رہیں تاہم عید کے ایام میں صفائی کے انتظامات بہتر رہے، البتہ گلیوں اور محلوں میں گندگی اور تعفن پھیلا رہا، لوگوں کی اکثریت نے قربانی کے جانوروں گھروں اور گلیوں میں ذبح کیے جس کی وجہ سے گلیوں اور محلوں میں خون پھیل گیا، جن گھروں میں جانور قربان کیے گئے وہاں گھر دھونے سے سارا پانی گلیوں میں پھیل گیا،جانوروں کی آلائشیں بھی گلیوں میں پھینک دی گئیں جس کی وجہ سے کئی شہروں کی گلیوں اور محلوں میں تعفن پھیلا رہا، اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، بلاشبہ حالات ماضی کے مقابلے میں بہتر ہو رہے ہیں ۔ پہلے سڑکوں کے کنارے سری پائے بھوننے والے بیٹھ جاتے تھے۔ یہ لوگ ٹائر جلا کر سری پائے بھونتے تھے جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا تھا۔ اب حکومت نے اس معاملے پر سخت پابندی عائد کی ہے جس کی وجہ سے صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

ابھی شہروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے اور قربانی کے عمل کو زیادہ آسان بنانے کے لیے مزیداقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ یونین کونسل میں کونسلرز کے بلاکس کی سطح پر کوئی جگہ مختص کر دی جانی چاہیے اور لوگ وہاں آ کر جانور قربان کریں، اس طریقے سے گلی محلوں میں گندگی نہیں پھیلے گی اور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔ حکومت کو اس حوالے سے عوامی بیداری کے لیے تشہیری مہم چلانی چاہیے، اس بار کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد بھی نظر آیا جو حکومت کی ایک کامیابی ہے۔