سرحدیں کھول دو پناہ گزینوں کو آنے دو

ایسی صورت حال میں کئی یورپی ملکوں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں ’’یوم عمل‘‘ منایا گیا۔


Zaheer Akhter Bedari September 28, 2015
[email protected]

رنگ، نسل، زبان، ملک و ملت، مذہب، ذات پات، فرقوں، مسلکوں کے حوالوں سے بٹی ہوئی اس دنیا میں اگرکہیں سے انسان دوستی محبت خلوص بھائی چارے کی آواز سنائی دیتی ہے تو احساس ہوتا ہے، امید بندھتی ہے کہ انسان مرا نہیں ابھی زندہ ہے۔ مغربی ملکوں کے عوام بھی پسماندہ ملکوں کے عوام کی طرح مختلف مسائل میں گھرے ہیں۔ سیکڑوں سال کی جد وجہد کے بعد اگرچہ ان ملکوں کے عوام کا معیار زندگی ہم سے کچھ بہتر ہوا ہے لیکن ان ملکوں کے عوام بھی ابھی تک ایک آسودہ اور خوشحال زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہم بغیر حقائق کو سمجھے مغرب سے نفرت کرتے ہیں، بلا شبہ مغرب میں بھی قومی دولت مٹھی بھر انسان نما سانپوں کے ہی قبضے میں ہے اور مذہب و ملت کے نام پر عوام میں نفرتیں پھیلانے والے عوام کو ایک دوسرے کا خون بہانے کی ترغیب فراہم کرنے والے عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے والے موجود ہیں لیکن نفرتوں، تعصبات، تنگ نظریوں کے ان اندھیروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو انسانیت کا سرمایہ ہیں۔

پچھلے ایک طویل عرصے سے دنیا کے مختلف ملکوں سے ان ہی آزار کے شکار لاکھوں عوام ترک وطن کرکے مختلف ملکوں میں پناہ کی تلاش میں ایک انتہائی پر خطر سفرکے مسافر بن رہے ہیں، سیکڑوں، ہزاروں سالوں سے اپنی دھرتی ماں کے سینے پرگزارہ کرنے والے ان معصوم لوگوں کو مختلف ناموں، مختلف زبان بولنے والوں، مختلف عقائد کو ماننے والے شیطانوں نے ان معصوم لوگوں پر زندگی اس قدر تنگ کردی کہ یہ لوگ بے سرو سامانی میں اپنا وطن، اپنا گھر بار، اپنے اجداد کی قبریں چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں انتہائی خطرناک سفر کے مسافر بنے ہوئے ہیں۔ ان مسافروں میں اب تک ہزاروں مسافر سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہیں، کشتیوں کے ڈوبنے سے بڑوں کے ساتھ ساتھ معصوم بچے بھی ڈوب گئے، ایسے بد قسمت بچوں کی لاشیں جب ساحلوں پر ملیں تو انھیں دیکھ کر انسانوں کی روح لرزگئی انسان کا انسان پر سے اعتماد اٹھ گیا، ننھے فرشتوں کی لاشیں دیکھ کر لوگوں نے دل تھام لیے۔

ایسی صورت حال میں کئی یورپی ملکوں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں ''یوم عمل'' منایا گیا۔ ڈنمارک، جرمنی، پولینڈ، سویڈن وغیرہ کے شہروں میں ہزاروں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر ''سرحدیں کھول دو، پناہ گزینوں کو آنے دو'' لکھا تھا۔ ابھی ابھی یونان میں کشتی ڈوبنے سے 34 تارکین وطن ہلاک ہوئے، آسٹریا میں پھولوں سے لدے ایک ٹرک میں42 تارکین وطن پھولوں کے نیچے چھپے بیٹھے تھے اب تک لاکھوں تارکین وطن مغربی ملکوں میں پہنچ چکے ہیں، ہم جیسے اعلیٰ اقدار کے حامل لوگ تارکین وطن کے نام سے منہ چڑاتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ملک و ملت کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو نفرت سکھاتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تارکین وطن کی غیر منصوبہ بند آمد کے مضمرات اور المیوں کا ادراک رکھتے ہیں جرمن، برطانیہ، فرانس، ڈنمارک، پولینڈ، سویڈن سمیت کئی مغربی ملکوں میں عوام تارکین وطن کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور یہ حکومتیں اعلانات کررہی ہیں کہ وہ مزید بیس ہزار، پچیس ہزار، تیس ہزار تارکین وطن کو قبول کریںگے اور ان کی رہائش کا انتظام کریںگے۔

اس پس منظر میں جب میں 1947 کے المیے پر غور کرتا ہوں جس میں 22 لاکھ بے گناہ انسان انتہائی بے دردی سے قتل کردیے گئے، کروڑوں کو ''مہاجر'' بننا پڑا، میں جب افغان مہاجرین کے حال پر غور کرتا ہوں جب میں 20 لاکھ بنگالی تارکین وطن کی سرگرمیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مشرق اور مغرب کے تارکین وطن کا فرق میری نظروں میں آجاتا ہے۔ مغرب کے حکمران طبقات میں بہت ساری کمزوریاں ہوسکتی ہیں لیکن ان میں اخلاق کی اتنی رمق باقی ہے کہ وہ مہاجرین کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرتے، مغرب کا کلچر خواہ کتنا بڑا سہی لیکن وہاں جرائم پیشہ لوگوں کو اتنی چھوٹ حاصل نہیں جتنی پسماندہ ملکوں کے جرائم پیشہ لوگوں کو حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں رہنے والے تارکین وطن کی اکثریت جرائم سے دور رہتی ہے اور محنت، مشقت اور ایمانداری سے اپنی روزی کماتی ہے۔

بلا شبہ مجھے مغربی ملکوں کے عوام اور حکومتوں کی اس اعلیٰ ظرفی انسانیت دوستی کا احترام ہے لیکن میرے ذہن میں بہر حال ایک بات کانٹے کی طرح چھبتی ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن کا استقبال انھیں اپنے ملکوں میں آباد کرنے سے مہاجرین اور تارکین وطن کا روز بروز بڑھتا ہوا سیلاب رک جائے گا؟ کیا غیر ملکی تارکین وطن کو اپنے ملکوں میں جگہ دینے سے مہاجرین اور تارکین وطن کا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں جنگوں، خون خرابوں، خوف ودہشت کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ ہورہاہے، پسماندہ ایشیائی ملکوں سے جو لوگ ترک وطن کرکے مغربی ملکوں میں جارہے ہیں ان میں مختلف مذاہب، مختلف زبانوں، مختلف نسلوں، مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ یہ ایک ایک کشتی ہی میں بیٹھ کر سفر کررہے ہیں، منزل مقصود تک پہنچ رہے ہیں یا ہلاک ہورہے ہیں کیوں کہ یہ تمام تر تعصبات، تمام تر امتیازات، تمام تر تحفظات، تمام تر اختلافات سے بالاتر ہوگئے ہیں۔ کیا اپنے اپنے ملکوں میں رہنے والے ان تمام تر بد بختیوں سے آزاد نہیں ہوسکتے اگر ایسا ہو تو پھر کسی کو نہ ترک وطن کی ضرورت رہے گی نہ مہاجر بننے کی۔

رنگ، نسل، زبان، مذہب، عقائد وغیرہ کے حوالے سے انسانوں میں جو گندگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیا وہ خود بخود پیدا ہوتی ہے؟ جی نہیں بلکہ یہ زہر وہ سانپ انسانوں میں پھیلاتے ہیں جو رنگ نسل زبان مذہب وغیرہ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، کہا جارہاہے کہ جو لوگ ترک وطن کررہے ہیں ان میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں عرب ملکوں میں شام عراق وغیرہ سرفہرست ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ملکوں کے بڑے حصے پر داعش نے قبضہ کرلیا ہے اور جن جن ملکوں کے علاقوں پر داعش کا قبضہ ہے ان ملکوں سے سب سے زیادہ ترک وطن کا سلسلہ جاری ہے، داعش کا مطلب اسلامک اسٹیٹ ہے اور داعش ساری دنیا میں اسلام نافذ کرنا چاہتی ہے، پھر داعش کے زیر قبضہ مسلم ملکوں سے مسلمانوں کا ترک وطن کیوں جاری ہے؟

مقبول خبریں