قندوز پر طالبان کی یورش لمحہ فکریہ

یہ طالبان کاانتہائی مہلک حملہ ہےجس نےافغان انتظامیہ، فوج، ملیشیا اورپولیس کی مزاحمتی یا دفاعی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے


Editorial September 30, 2015
افغان قیادت پاکستان کی خیرسگالی کے کردار کو سمجھنے میں سخت غلطی کر رہی ہے۔ اللہ افغانستان پر رحم کرے۔ فوٹو : فائل

افغان طالبان نے پیر کو افغانستان کے اسٹرٹیجک لحاظ سے اہم شہر قندوز پر قبضہ کرلیا ۔جیلیں توڑ کر قیدی رہا کرالیے۔ اس غیر معمولی یورش نے خطے کی صورتحال کا ایک نہایت ہی تشویش ناک در کھولا ہے، کیونکہ اس سے قبل کابل حکومت نے عسکری اور داخلی انتظامات کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد اور طالبانی گروپ اس کے سیکیورٹی نظام کو کبھی تسخیر نہیں کرسکتے مگر قندوز پر قبضہ ان کے اظہار تفاخر پر ایک کاری ضرب ہے۔

جس سے امریکا سمیت عالمی قوتوں کی توجہ اس جانب مبذول ہونا ناگزیر ہے ، امریکا کے انخلا کے بعد یہ طالبان کا انتہائی مہلک حملہ ہے جس نے افغان انتظامیہ ، فوج ، ملیشیا اور پولیس کی مزاحمتی یا دفاعی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق طالبان شہر میں گشت کررہے ہیں، سڑکوں پر لاشیں پڑی ہیں جب کہ 3 لاکھ آبادی والے اہم شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد افغان حکومت کے لیے واقعی سوال پیدا ہوگیا کہ آیا وہ افغانستان پر اپنی گرفت قائم رکھ سکے گی، یا افغان حکومت طالبان کی قوت اور اس کے حملوں کی شدت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار تو نہیں ہوئی یا اسے کسی غیبی امداد کا انتظار ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اب طالبان کی آیندہ حکمت عملی مزید جارحانہ ہونیکا اندیشہ ہے۔

ادھر امریکی رد عمل بھی غیر معمولی ہوسکتا ہے، طالبان کی پیش قدمی کو اس مرحلے میں وہ نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ بلاشبہ طالبان کے حملے سے پاک افغان تعلقات بھی ایک نئی آزمائش سے دوچار ہوسکتے ہیں ، مبصرین کے مطابق افغان حکام اس حملے میں بھی بے بنیاد الزامات کا پٹارہ کھول سکتے ہیں جس کا عندیہ پریشانی میں گھرے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے ایک حالیہ انٹرویو میں دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنانا چاہیے، قطع نظر اس کے کہ نشانہ وہ خود ہو یا پھر کوئی اور ملک ۔ ان کی فرسٹریشن دوچند ہوگئی ہے ۔

چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات ''برادرانہ'' نہیں بلکہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔ تاہم اشرف غنی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کو بنیادی مسلہ قراردیا مگر ساتھ ہی ایک ملفوف دھمکی دی کہ جب تک امن کا حصول نہیں ہوتا تو (دہشتگردوں کی) پناہ گاہیں بھی رہیں گی اور ان کی مدد کا نظام بھی موجود رہے گا۔ اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ افغان قیادت پاکستان کی خیرسگالی کے کردار کو سمجھنے میں سخت غلطی کر رہی ہے۔ اللہ افغانستان پر رحم کرے۔