ایم کیو ایم کا پالیسی بیان
92کے آپریشن میں ہزاروں کارکن بیرون ملک گئے۔ بھارت جانے والوں نے اجازت لی نہ پارٹی پالیسی کا حصہ ہے۔
92کے آپریشن میں ہزاروں کارکن بیرون ملک گئے۔ بھارت جانے والوں نے اجازت لی نہ پارٹی پالیسی کا حصہ ہے۔ بھارت جانے والوں کی تربیت وغیرہ کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں۔اسٹیبلشمنٹ تلخیاں بھلا کر زخموں پر مرہم رکھے۔ایم کیوایم کل بھی ایک محب وطن جماعت تھی اور آج بھی ہے۔
ایم کیو ایم نے ایک پالیسی بیان میں اپنے کارکنوں پر ''را'' کا ایجنٹ ہونے کے الزامات کی وضاحت کی ہے۔اس کے ساتھ ہی ایم کیو ایم نے گزشتہ مہینے اپنے اِن کارکنوں کے بارے میں تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جن پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے الزامات ہیں۔کراچی کی صورتحال 90کی دہائی سے خراب ہے۔
ایم کیو ایم اردو بولنے والی برادری کی نمایندہ جماعت کی حیثیت سے ابھری مگر اس کی مقبولیت کے ساتھ شہرکے حالات خراب ہوتے گئے،کراچی اوراندرون سندھ کے باسیوں کو مختلف نوعیت کے لسانی فسادات کو برداشت کرنا پڑا۔کراچی اور حیدرآباد میں پہلے ایم کیو ایم کے مخالف سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، پھر ایم کیو ایم کے کارکن نشانہ بننے لگے۔
90 میں سندھ میں آپریشن ہوا۔اندرون سندھ ڈاکو اس آپریشن کا نشانہ بنے، کراچی میں ایم کیوایم کے دفاتر پر چھاپے پڑے ۔ایم کیوایم حقیقی قائم ہوئی اور شہر میں لڑائی ہوئی۔اس لڑائی میں کتنے لوگ مارے گئے، یہ اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں مگر حقیقی کے مرکزی رہنماؤں میں آفاق احمد اور عامر خان ہی زندہ بچے مگر شہر میں حقیقی بنیادوں پر امن قائم نہیں ہوا۔ بے نظیر بھٹو حکومت کے دوسرے دور میں میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ بابرکی نگرانی میں آپریشن ہوا۔ اس آپریشن کے اثرات نوازشریف کے دوسرے دور تک جاری رہے ۔
جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ایم کیوایم اور پرویز مشرف میں مفاہمت ہوگئی۔ شہر میں امن رہا مگر سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ مکمل طور پر نہ رک سکا۔حتیٰ کہ ایم کیو ایم اور اس کی ذیلی تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کے کئی رہنما اِس دوران نامعلوم افرادکی گولیوں کا نشانہ بنے۔
92آپریشن میں متحرک کردار ادا کرنے والے پولیس افسر بھی قتل ہوئے۔ پولیس قتل کی کسی واردات کا سراغ نہ لگا سکی۔ آصف زرداری نے ایوان صدرکا اقتدار سنبھالا تو ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں سے مفاہمت کی۔ ایم کیو ایم صوبائی اور مرکزی حکومت میں شامل ہو گئی مگر کراچی کے حالات بہتر نہیں ہوئے۔ نادرن بائی پاس، نیشنل ہائی وے اور سپرہائی وے کے درمیانی علاقے کی زمینوں پر قبضے کی جنگ کراچی میں داخل ہوگئی۔ اس کی شکل پھر لسانی ہوگئی اور سیاسی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اس دوران طالبان نے کراچی کے مضافاتی علاقوں پر قبضہ کیا اور لیاری مکمل طور پر گینگ وارکی زد میں آگیا۔ لیاری گینگ وار میں ملوث گروپوں نے شہر میں بھتہ وصول کرنے ،اغواء برائے تاوان اورکرائے کے قاتل فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ یوں تو کراچی کے سارے علاقے امن و امان سے متاثر ہوئے مگر ضلع وسطی اور ضلع شرقی میں صورتحال زیادہ خراب رہی۔خاص طور پرعزیزآباد، دستگیر، ناظم آباد، لیاقت آباد میں کئی مذہبی، سیاسی کارکن،اساتذہ و مذہبی رہنما اس خوف ناک دہشت گردی کا شکار ہوئے۔
پولیس، رینجرز، سول وعسکری خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے اپنی بریفنگ میں یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ ضلع وسطی اور ضلع شرقی ایم کیوایم کے مضبوط گڑھ ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں ایم کیو ایم کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے پھر ان علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کیوں ہو رہی ہے آخر کارگرفتار ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بھارت میں ٹریننگ کے اعتراضات کی خبریں شایع ہونے لگیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما ٹاک شوز میں ان الزامات کی تردید کرنے اور ان بیانات کو پولیس کے تھرڈ ڈگری تشدد کا نتیجہ قرار دیتے تھے مگر اس سال کے شروع میں ایم کیوایم کے ہیڈ کوارٹر پر رینجرز کے چھاپے اور وہاں سے ٹارگٹ کلرزکی گرفتاریوں کے الزامات اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل اورقائد تحریک کی تقاریر پرپابندی کے بعد نئی تبدیلی رونما ہوئی۔ شاید ایم کیو ایم میں خود یہ احساس پیدا ہوا کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کارکنوں سے چھٹکارا ضروری ہے۔
کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کی بناء پر ایم کیو ایم کی قیادت کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اب بھی سندھ کے شہری علاقوں کی نمایندہ تنظیم ہے۔اس نے مشکل صورتحال میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھاہے۔گزشتہ دنوں عزیزآباد کا ضمنی الیکشن اس کی واضح مثال ہے ۔
بلدیاتی انتخابات ایم کیوایم کا امتحان ہے۔ ایم کیو ایم کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین نے احتجاجاً استعفے دے دیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مصالحتی مشن کا مرحلہ مکمل کرچکے ہیں۔ اس صورتحال میں وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم کی قیادت کے درمیان فوری طور پر مذاکرات شروع ہونے چاہئیں۔ ان مذاکرات میں صوبائی حکومت کو بھی شریک کرنا چاہیے۔
ان مذاکرات میں ایم کیو ایم کے اراکین کی اسمبلیوں میں واپسی کے ساتھ اس لائحہ عمل پر اتفاق ہونا چاہیے جس کے باعث ایم کیو ایم اپنی صفوں میں شامل مجرموں کی تطہیرکرے اور اس عمل میں حکومت ایم کیو ایم کی مددکرے ۔ اس کے ساتھ ایم کیو ایم کو ایک کھلے ڈھانچے کے ساتھ جدید سیاسی اور جمہوری جماعت میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم قومی دھارے میں شامل ہوکر نہ صرف سیاسی نظام کو مستحکم کرے بلکہ کراچی کے شہریوں کی امنگوں کو پورا کرے۔ یہی راستہ کراچی، سندھ اورملک کے مفاد میں ہے۔