آؤ دونوں ساتھ چلیں

یہ ایان کا ایک بہت مشکل خواب تھا جس کی تعبیر اسے 5 برس کی جدوجہد کے بعد ملی ہے۔


Zahida Hina September 30, 2015
[email protected]

کوئی دن نہیں جاتا جب اخبار، ٹیلی وژن اور ریڈیو سے وہ خبریں اور تبصرے نشر نہ ہوتے ہوں جن میں پاکستان اور ہندوستان نے ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات عائد نہ کیے ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگ جو تمام گلے شکوے کے باوجود صرف 68 برس پہلے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے، پشاور سے کولکتہ تک سفر کرتے تھے، جن کے درمیان ادب اور ادیب مشترک تھے، اب عزیزوں اوردوستوں سے ملنا تو درکنار مختلف زیارات کے لیے ترستے ہیں۔ رسائل اور جرائد کا ،اعلیٰ ادبی کتابوں کا ایک دوسرے تک پہنچنا لگ بھگ ناممکن ہوچکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کو دعائیں دیں کہ اس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کی فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔ موسیقی سن سکتے ہیں اور خواہش کرسکتے ہیں کہ کاش کوئی دن ایسا بھی ہو جب اپنی دشمنیاں بھول کر ہم انسانوں کی طرح ایک دوسرے سے مل سکیں۔

چند دنوں پہلے جب لندن کے سائنس میوزیم سے سائنس دانوں اور صحافیوں کے ایک منتخب اجتماع میں دنیا کی پہلی خلانورد خاتون ویلنٹینا تر شکووانے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ اس سے کہیں زیادہ حیران کرنے والی بات یہ تھی کہ آج بھی روس اور مغرب کے درمیان جس قدر تناؤ اور سیاسی اختلافات ہیں، ان سب کے باوجود گزشتہ 5 برسوں کے دوران لندن کے سائنس میوزیم کے ڈائریکٹر ایان بلاخ فورڈ اور دوسروں نے تمام سیاسی پیچیدگیوں کے علاوہ روس اور برطانیہ کی نوکر شاہی کی اڑچنوں کے باوجود اس سائنسی نمائش کو ممکن بنایا جو لندن میں 18 ستمبر 2015 کو شروع ہوئی اور 13 مارچ 2016 ، تک جاری رہے گی۔ اس نمائش میں خلائی تسخیر کے حوالے سے روسیوں کی کامیابیوں کی تشہیرکی گئی ہے۔

لندن سائنس میوزیم کے ڈائریکٹر ایان کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں سوویت یونین اور روسیوں نے بنی نوع انسان کو تسخیرکائنات کی جن کامیابیوں سے ہمکنارکیا، وہ اس وقت ناقابل تصور تھیں۔ امریکا اور مغرب کے دوسرے تمام ملک خلائی تسخیرکی دوڑ میں بہت پیچھے تھے۔روسیوں نے دنیا میں خلائی دورکا آغاز کیا اوران کی کامیابیاں ساری دنیا کے انسانوں کی فتوحات تھیں۔ ایان کا کہنا ہے کہ ہماری خواہش رہی کہ ہم اہل مغرب، روسیوں کو خلا میں ان کی بے مثال زقند پر داد دیں اور اس کا اعتراف کریں کہ بعد میں امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں نے اس شعبے میں جتنی کامیابیاں حاصل کیں اس کی ابتداء روسیوں نے کی تھی۔

یہ ایان کا ایک بہت مشکل خواب تھا جس کی تعبیر اسے 5 برس کی جدوجہد کے بعد ملی ہے۔ ایان نے خلانوردی کے دورکا آغاز جو سوویت یونین نے کیا تھا۔ اس کے لیے روس سے صرف خلائی جہاز اور دوسرا سازوسامان جس کی تعداد 150 ہے، ہی اکٹھا، نہیںکیا بلکہ 1963 میں دنیا کی ہیروئن ویلنٹیناکو لندن آنے اور اس شاندار سائنسی نمائش کا افتتاح کرنے کی دعوت دی۔

آج ہمارے لوگوں کی اکثریت ویلنٹینا سے واقف نہیں لیکن جب وہ خلا میں 48 گھنٹے گزار کر زمین پر واپس آئی تو وہ خلا میں جانے والی پہلی عورت تھی جس نے اپنی محنت ، ہمت اور حوصلے سے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ایک فیکٹری میں کام کرنے والی کارکن جسے اپنے فارغ اوقات میں اس کاشوق تھا کہ وہ اسکائی ڈائیونگ کرے۔ سوویت یونین میں جب خلامیں بھیجی جانے والی 6 عورتوں کا انتخاب ہوا تو وہ ان میں سے ایک تھی۔

اپنی کامیاب پرواز کے بعد وہ جب واپس آئی تو ماسکو کے ریڈاسکوائر میں سوویت رہنما نکیتا خروشچیف کے برابرکھڑی تھی اور خروشچیف نے اپنے مخصوص انداز میں اتراتے ہوئے کہا تھا کہ بورژوازی ہمیشہ عورتوں کو صنف نازک قرار دیتی ہے ۔ مغرب والو! دیکھ لو کہ میرے برابر میں ایک سوویت عورت کھڑی ہے جس نے امریکی خلا نوردوں بتادیا ہے کہ وہ کون ہے۔''

63 کے وہ دن اب خواب وخیال ہوچکے لیکن 17 ستمبر کو لندن سائنس میوزیم میں صحافیوں کے سامنے بیٹھی ہوئی 78 سالہ ویلنٹینا کی آنکھوں میں خواب ابھی زندہ ہیں۔ اپنی 70 ویں سالگرہ پر اس نے روسی صدر پیوٹن سے اس خواہش کا اظہارکیا تھا کہ وہ مریخ کے سفر پر جانا چاہتی ہے خواہ اس سے زندہ واپس نہ آسکے اور 8 برس بعد لندن میں پریس کانفرنس کے اختتام پر اس نے اس نمائش کے کرتا دھرتا ایان سے کہا،آؤ ایان ہم دونوں خلا میں ساتھ چلیں۔ یہ روسی اور برطانوی اشتراک و تعاون کا سب سے بڑا ثبوت ہوگا۔ یہ وہ جملہ تھا جس پر زوردار تالیاں بجیں۔ ان کے سامنے 1963 کی وہ عالمی ہیروئن تھی کہ جب اس کے خلائی جہاز نے زمین کی کشش کو پارکیا تو اس نے چیخ کر کہا تھا کہ اے آسمان! میرے سامنے سرجھکا ! میں تیری طرف آرہی ہوں۔

صحافی ویلنٹینا کا یہ بیان سانس روکے سنتے رہے کہ جب خلاسے واپسی کا سفر شروع ہونے کا وقت آیا تو اچانک اس پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ انجینئروں سے بھیانک غلطی ہوئی ہے اور انھوں نے واپسی کا سفر نیچے کی طرف پروگرام کرنے کے بجائے اوپر کی طرف جانے کے لیے پروگرام کردیا ہے۔ اس نے ایمرجنسی میں یہ اطلاع زمینی اسٹیشن کودی۔ انھوں نے اپنی اس فاشی غلطی کو دورکرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ ویلنٹینا خلائے بسیط میں تنہا تھی اور جانتی تھی کہ اگر یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں تو وہ کبھی زمین پر نہیں پہنچ سکے گی۔ آخرکار اس کا واپسی کا سفر شروع ہوا جو 27 ہزارکلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے تھا۔ اس کا کیپسول اس رفتار کی وجہ سے جھلس کر کوئلے کی طرح سیاہ ہوگیا اور آخری 4 میل اس نے کیپسول سے نکل کر پیرا شوٹ کے ذریعے طے کیے۔ اس کاکہنا ہے کہ اگر مجھے اسکائی ڈائیونگ سے جنون کی حد تک عشق نہ ہوتا تو میرے لیے زندہ بچ جانا ممکن نہ تھا۔اس کے کیپسول میں اس کا سامان رکھنے والوں سے ایک اور غلطی بھی ہوئی تھی ۔ وہ اس کا ٹوتھ برش رکھنا بھول گئے تھے۔

یہ جانتے ہی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے پوچھا کہ پھر آپ نے تین دن کس طرح گزارے۔ پہلے تو اس نے بات ٹالنی چاہی لیکن پھر اس نے کہا یہ کوئی ایسی بڑی مشکل تو نہ تھی ۔ میرے پاس ٹوتھ پیسٹ تھا، پانی تھا اور میری انگلیاں تھیں۔ اس جواب پر بھی ایک قہقہہ پڑا۔

بی بی سی کی خصوصی نمایندہ پلاب گھوش سے ایک خصوصی ملاقات میں اس نے کہا کہ عورتوں نے دنیا کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ خلا میں میرا جانا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ دنیا کی ترقی میں عورتوں کی حصے داری جاری ہے اور رہے گی۔دنیا کی پہلی خلانورد خاتون ویلنٹینا ترشکووا کو اس کی 70 ویں سالگرہ پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنی رہائش گا پر بلایا اور اس کے اعزاز میں ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا جس میں اسے مبارکباد دینے کے لیے منتخب روسی سائنسدان' سیاستدان اور ادیب موجود تھے۔ ان لوگوں کے سامنے ویلنٹینا نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں مریخ کے سفر پر جانا چاہتی ہوں خواہ اس سے واپس نہ آسکوں۔

لندن کے سائنس میوزیم میں ہونے والی یہ نمائش جو برطانوی سائنس دانوں ، دانشوروں اور عوام کی جانب سے خلا نوردی میں روسیوں کی بے مثال پہل کاری کو ایک شاندارخراج تحسین ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے سے جھگڑتے رہیں، جنگجوئی کے پرستار ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دیتے رہیں لیکن اگر دانشور ، ادیب ، صحافی اور عوام ایک دوسرے کی کامیابیوں پر ناز کریں تو آخر کار جنگ جوئی پسپا ہوتی ہے اور لندن سائنس میوزیم میں ہونے والی نمائشیں اپنی جگہ بنالیتی ہیں۔

جی چاہتا ہے کبھی ایسا بھی ہو کہ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ صرف نصرت فتح علی، مہیش بھٹ اور راحت فتح علی کا ہی آناجانا نہ ہو، ہمارے ادیب ، دانشور، مصور اور سائنس دان بھی یکجا ہوکر اپنی فتوحات کا جشن مناسکیں۔ ہم جودنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، ہم کیوں نہیں اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرکے دنیا تسخیر کرسکتے ہیں؟ویلنٹینا تر شکووا کی ''آؤ ہم دونوں ساتھ چلیں '' کی خواہش پر عمل کرکے ہم اپنے خطے کو بہت خوبصورت بناسکتے ہیں۔

مقبول خبریں