کھال بچی سو لاکھوں پائے

اب دیکھیں نا عید سے پہلے ہر جگہ کھالوں کے تذکرے اور کھالوں کے صحیح ’’حق داروں‘‘ کا جو میلہ لگا ہوا تھا


Saad Ulllah Jaan Baraq September 30, 2015
[email protected]

ایک زمانہ جانتا ہے، اور تو اور پاکستانی عوام بھی جانتے ہیں جو نہ ''جاننے اور پہچانے'' کے معاملے میں عالمی ریکارڈ ہولڈر ہیں کہ عادتیں اور علتیں کبھی نہیں چھوٹتیں، خاص طور پر بری عادتیں اور بری علتیں تو قبر تک لاحق رہتی ہیں حالانکہ رحمان بابا نے ہر دو بہنوں یعنی علت اور عادت میں اچھا خاصا اختلاف بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علت ممکن ہے چھوٹ بھی جائے لیکن عادت؟

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

علت کو عام طور پر اردو میں ''لت'' کہا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہمیشہ ''بری'' کی دم لگائی جاتی ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ''لت اور لیڈر'' کبھی اچھے ہو ہی نہیں سکتے۔ ''بری لت'' لکھنا اور بولنا ایسا ہے جیسے کوئی کوہ قاف کا پہاڑ، بحر ہند کا سمندر یا آگ کا دریا کہے۔

احمد بخاری مرحوم ہمارے ایک صحافی ساتھی تھے، وہ ہمیشہ ہمیں ٹوکتے رہتے اگر ہم کسی کو ذلیل آدمی یا شریف آدمی کہتے ان کا کہنا تھا کہ جو ذلیل ہے وہ آدمی نہیں اور جو آدمی ہے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا جس طرح آدمی کے ساتھ شریف لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بات کہاں پھسل گئی، دراصل ہم اپنی ایک علت یا عادت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں جو ہمیں بری طرح چمٹی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی دیوار پر اپلوں کو دیکھ کر عام آدمی تو صرف نظرے خوش گزرے ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں جب کہ ہم وہیں کھڑے ہو کر یہ سوچنا شروع کر دیتے کہ گائے نے اتنا اوپر جا کر یہ کام کیسے کیا ہو گا اور کیا یہ دیوار پہلے زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور گائے گزرنے کے بعد کھڑی کی گئی ہو گی۔

اب دیکھیں نا عید سے پہلے ہر جگہ کھالوں کے تذکرے اور کھالوں کے صحیح ''حق داروں'' کا جو میلہ لگا ہوا تھا وہ اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی بارونق تھا کیوں کہ اس سلسلے میں جو رجسٹرڈ اور سند یافتہ فقرے مروج ہیں وہ تو تھے ہی لیکن اب کے کچھ نئے نئے فقرے بھی مژدہ ہائے جان فزا سنا رہے تھے مثلاً یہ بات ہمیں پہلی مرتبہ پتہ چلی کہ قربانی اور کھال الگ الگ ہوتے ہیں، قربانی اللہ کے لیے ہوتی ہے اور کھال ۔۔۔۔۔ آگے جو بھی نام لگا لیجیے ہم دینی عالم نہیں ہیں ورنہ یہ مسئلہ ضرور اٹھاتے کہ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں لیکن یہاں قربانی میں باقاعدہ شراکت کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔

یعنی قربانی کا واحد مالک صرف اللہ نہیں بلکہ اس کے دوسرے شیئر ہولڈر بھی ہیں، خیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کھالوں کے اس معاملے میں کسی اور کی کھال پر کوئی پسو یا کان پر کوئی جوں نہیں رینگی لیکن برا ہو ہماری علت کا کہ ''اچانک'' تحقیق کی کھجلی ہونے لگی، رگ تحقیق تو اس وقت پھڑکنے لگی اور دل مچلنے لگا کہ تھوڑا سا ''کھال'' اور کھالوں کے حق داروں کے بارے میں کچھ ہو جائے لیکن بڑی مشکل سے خود کو عید تک روکے رکھا ؎

بس کہ روکا میں نے غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا

اور اس لیے روکا کہ ہمیں اپنی پتلی کھال بڑی عزیز ہے جو دنیا کے سب سے بڑے قصائی حکومت پاکستان اور اس کے چیلے چانٹوں یعنی سرکاری محکموں کے بار بار اتارنے چھیلنے اور کھنیچنے کی وجہ سے پہلے ہی کاغذی ہو رہی تھی، خدا نخواستہ اگر ہم کھالوں اور کھالوں کے حق داروں کے بارے میں کچھ لکھتے تو خطرہ تھا کہ اپنی پتلی کھال خطرے میں پڑ جائے۔

جس ماہر قصائی اور اس کے چیلے چانٹوں کے بارے میں ہم نے بتایا ہے وہ نہ صرف ستر سالہ تجربہ رکھتے ہیں بلکہ ''عالمی کھال کھنیچ'' آئی ایم ایف کا پاکستان میں نائب بھی ہے اور کھال اتارنے کھنیچنے اور چھیلنے میں اس درجہ کمال کی مہارت رکھتا ہے کہ صاحب حال کو بھی بہت بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس کی کھال کب کی کھنیچی جا چکی ہے اور وہ ؎

چیک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہماری ''کھال'' کو اب حاجت رفو کیا ہے

ہمیں یاد ہے ہمارے پڑوس میں ایک بکرا قصائی تھا۔ وہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد الٹا لٹکا دیتا تھا اور اس کی ٹانگ میں سوراخ کر کے ایک نلکی کے ذریعے ہوا بھرا دیتا تھا جس کی وجہ سے اکثر کھال خودبخود محض ہاتھ سے کھنیچ کر الگ ہونے لگتی تھی۔ ایسا ہی ایک اور شخص گلی میں ابلی ہوئی ''اروی'' بیچتا تھا۔ وہ اروی کو اتنا ابال لیتا تھا کہ ایک طرف سے دبانے پر اروی (کچالو) خود ہی اپنی کھال چھوڑ کر پلیٹ میں گر جاتی تھی ، یہ کچالو یا اروی والا طریقہ آج کل بجلی، گیس اور پٹرولیم کے محکمے اختیار کیے ہوئے ہیں کہ لوگ خود ہی دوڑ دوڑ کر ''بل'' کی صورت میں اپنی کھال اتار کر پہنچا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عید سے پہلے ہم نے کھال کے موضوع کو نہیں چھیڑا کہ

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہو اپنی ''کھال'' عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

لیکن اب کھالوں کے شکاری دکان اپنی بڑھا چکے ہیں بلکہ ''تقسیم'' کے ضروری کام میں حصہ بقدر جثہ میں مصروف ہوں گے، اس لیے کھال کھچوائی کھال اترائی اور کھال بٹوری پر کچھ لکھنے میں کچھ زیادہ خطرہ نہیں ہے، شاید آپ اس ''خطرے'' کو ہمارا وہم سمجھیں لیکن ایک مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ ہم نے بلا سوچے سمجھے کھالوں کی اس شکار گاہ میں قدم رکھ دیا تھا اور پھر ہماری کھال کے لالے پڑ گئے، بڑی مشکل سے اپنی کھال بچانے میں کامیاب ہوئے تھے ورنہ پھر روتے پھرتے کہ

کھال کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

ہوا یوں کہ ہم نے ایک عید پر ایک نئی کھال پارٹی کی آپسی بات چیت جنہوں نے کسی نامعلوم مقام پر مجاہدین کے لیے کھالوں کا چکر چلایا، پھر ایک نے نئی موٹر سائیکل خریدی، دوسرا فریج گھر لے آیا اور تیسرے نے شادی کے اخراجات نکالے، یہ دیکھ کر ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی کھال کھچائی کے اس دھندے میں شامل ہو جائیں لیکن صرف ارادے سے کیا ہوتا ہے سب سے پہلا مسئلہ تو ''کھالوں کے حق داروں'' کا پیش آیا۔ ادھر ادھر دیکھا تو تقریباً ہر ویکنسی پُر نظر آئی، مدرسوں، مسجدوں، یتیم خانوں، بیواؤں، مفت شفا خانوں وغیرہ ہر شاخ پر کوئی نہ کوئی بیٹھا ہوا نظر آیا، بڑی سوچ بچار کے بعد کینسر کے علاج میں ایک روشنی کی کرن دکھائی دی لیکن جب ہاتھ ڈالا تو کئی بچھوؤں نے کاٹ ڈالا، اب کیا کیا جائے ایسے کون سے حق دار بچے ہوئے ہیں پھر اچانک ذہن میں ایک جھمکا ہوا، دنیا جہاں کی فلاح و بہبود کے لیے درجنوں تنظیمیں بنی ہوئی ہیں لیکن بے چارے بوڑھوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، نام کا سوچا تو سب سے بہتر نام متاثرین اولاد ۔۔۔۔ یا اولاد زدگان کا نظر آیا، ایسی تنظیم بنانا ہمارے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کیوں کہ دو چار بوڑھے اولاد زدگان تو پہلے ہی سے ہمارے پاس تھے جو ہماری ہی طرح متاثرین تھے، ہم جانتے تھے کہ بوڑھوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے اگر آپ کے ذہن میں بیٹے اور بہوؤں کا اتیارچار آ رہا ہے تو اسے جھٹک دیجیے کیوں کہ ایسا کون سا بوڑھا ہے جو اولاد گزیدہ نہ ہو اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں لیکن اس کے بعد بوڑھوں کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ بے چاروں کو کوئی سننے والا نہیں ملتا، روٹی، کپڑا اور مکان اگر نہیں ہے تو پھر بھی گزارہ ہو جاتا ہے کہ بے چارے بوڑھے کھائیں گے کیا پئیں گے کیا اور دھوئیں گے کیا ۔۔۔ لیکن ان کی کوئی سننے والا نہ ہو یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، بے چارے غبارے کی طرح پھولے ہوئے رہتے ہیں لیکن مجال ہے جو کوئی ان کی بات پر کان دھرے، جہاں کہیں کسی جمگھٹے میں کسی بوڑھے کا نزول ہوا لوگ یوں تتر بتر ہو جاتے ہیں جیسے چیل کو دیکھ کر چوزے ادھر ادھر ہو جاتے ہیں، چنانچہ طے کیا کہ اگر کھالوں سے کچھ میسر آئے تو دو چار آدمی ایسے رکھ لیں گے جو ان کی باتیں سننے کی نوکری کر لیں۔ خیال اچھا تھا ہر بوڑھا کانوں کے لیے ترسا ہوا تھا چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ہماری تنظیم اچھی خاصی پرہجوم ہو گئی، ہمیں امید تھی کہ کان نہ سہی کھال تو ہمیں دے ہی دیں گے لیکن جب کھالوں کے لیے نکلے تو

جو میں نکلا، گڈی لے کے
رستے میں ۔۔۔ سڑک پر
ایک موڑ آیا میں وہی دل چھوڑ آیا

پہلی ہی کھال پر دیکھا تو کچھ لوگ آپس میں مشت و گریبان ہو رہے ہیں وہ تو اچھا ہوا کہ ہجوم بہت تھا ورنہ فریقین کے ہاتھوں چھریاں اور کلہاڑیاں بھی لگ چکی تھیں، تنازعہ اس کھال پر تھا جو ابھی اتری بھی نہیں تھی لیکن ہم فریقین کا نام نہیں بتائیں گے کیوں کہ قربانی کی کھالیں نہ سہی کم از کم اپنی کھال کو بچانا تو ہمارا فرض ہے۔