حصص مارکیٹ میں فروخت پر دباؤ کےباعث مزید475 پوائنٹس کمی

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس475.44 پوائنٹس کی کمی سے 32214.58 ہوگیا


Business Reporter September 30, 2015
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس475.44 پوائنٹس کی کمی سے 32214.58 ہوگیا ۔ فوٹو : اے ایف پی

امریکا میں شرح سود بڑھنے اور چینی معیشت سے متعلق خدشات پرعالمی سطح پر حصص کی تجارت میں مندی اور غیرملکیوں کی جانب سے سرمائے کے انخلا کا رحجان غالب ہونے جیسے عوامل کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر بھی اثرانداز رہے اور منگل کو فروخت کے شدید دباؤ کے باعث مندی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 32600، 32500، 32400 اور32300 کی 4 حدیں بیک وقت گرگئیں، 78.27 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید89 ارب8 کروڑ94 لاکھ62 ہزار905 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ حصص کی تجارت میں مستقبل مندی کے سبب عمومی سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے لیکن اس مندی میں بھی بیشتردوراندیش سرمایہ کار نچلی قیمتوں پرمستحکم کمپنیوں کے حصص کی خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر31 لاکھ67 ہزار146 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے46 لاکھ 11 ہزار 189 ڈالر، میوچل فنڈزکی جانب سے14 لاکھ 18 ہزار37 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے1 لاکھ81 ہزار751 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ تمام دورانیے میں مارکیٹ منفی زون میں رہی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس475.44 پوائنٹس کی کمی سے 32214.58 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 315.28 پوائنٹس کی کمی سے 19268.92 اورکے ایم آئی30 انڈیکس781.79 پوائنٹس کی کمی سے 53787.47 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت61.21 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ87 لاکھ39 ہزار930 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار359 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 65 کے بھاؤ میں اضافہ، 281 کے داموں میں کمی اور 13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔