افغان بحران جنرل راحیل کی صائب تجویز

ضرب عضب کے کامیاب خاتمے کے لیے پاک افغان سرحد کی بہتر مینجمنٹ اور اسے محفوظ بنانا ضروری ہے


Editorial October 01, 2015
ضرب عضب کے کامیاب خاتمے کے لیے پاک افغان سرحد کی بہتر مینجمنٹ اور اسے محفوظ بنانا ضروری ہے، فوٹو: فائل 

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مفاہمتی عمل آگے بڑھانا ہوگا، مسئلہ افغانستان کے تمام فریق مفاہمتی عمل کو بحال کریں، پاکستان تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے، ضرب عضب کے کامیاب خاتمے کے لیے پاک افغان سرحد کی بہتر مینجمنٹ اور اسے محفوظ بنانا ضروری ہے، مشکلات کے باوجود افغانستان میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے کیے جانے والے ''ٹویٹس'' کے مطابق آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار جرمنی کے شہر میونخ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے منعقد کردہ ''ایشیا سلامتی کانفرنس'' سے خطاب کے دوران کیا۔جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سراہا اور خطے میں امن واستحکام کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

حقیقت میں ایشیا سلامتی کانفرنس کا انعقاد 2002 سے ایک اہم عالمی سیکیورٹی فورم پر پیش کردہ حقائق ، رپورٹوں اور ٹھوس سفارشات کی شکل میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک ہونے والے اجتماعات میں پاکستان ، چین، امریکا، جرمنی، فرانس، روس ، برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت، جاپان، انڈونیشیا، ویت نام، بنگلہ دیش ، کمبوڈیا، کوریا ، برونائی سمیت متعدد ملکوں کے سربراہان مملکت ، وزرائے اعظم ، عسکری شخصیات، سیاسی مفکر، دانشور اور سول سوسائٹی کے اہم افراد نے شرکت کی ہے۔

جنرل راحیل شریف پیر کو ایک روزہ سرکاری دورہ پر جرمنی (میونخ) پہنچے۔ موجودہ میونخ کانفرنس میں علاقائی امن اور سلامتی کے موضوع پر بحث و مباحثہ ہوا جس میں جنرل راحیل شریف نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مسلسل عدم استحکام رہنے سے علاقے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود امن اور مفاہمت کا عمل افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

انھوں نے افغانستان کے مسئلے کے تمام فریقین پر مفاہمتی عمل کی بحالی کے لیے زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی فضا پر اندرونی و بیرونی عدم استحکام کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اندرونی استحکام کی بحالی کی کوششوں کے نتیجے میں ہمارے اور تمام خطے کے لیے اقتصادی مواقعے سامنے آئے ہیں۔ فوجی آپریشن ''ضرب عضب'' میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور اس آپریشن کے کامیاب خاتمے کے لیے پاک افغان سرحد کی بہتر مینجمنٹ کرنی ہوگی اور اسے محفوظ بنانا ہوگا۔

جنرل راحیل نے ایک ایسے بحرانی اور مخدوش افغانی منظر نامے میں مسئلہ افغانستان کے تمام فریقوں کو مفاہمتی عمل کی بحالی کی دعوت دی ہے جب خود افغانستان کی داخلی سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورتحال اور عسکری افراط و تفریط ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ طالبان نے قندوز پر قبضہ کرلیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان فورسز کی کارروائی شروع ہوگئی ہے اور متعدد عمارتوں کا قبضہ چھڑا لیا گیا ہے، صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ سرکاری فورسز نے طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، طالبان شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں، ادھر طالبان ذرایع کا دعویٰ ہے کہ وہ ایئر پورٹ کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں، دریں اثنا امریکا کے موقر روزنامے نیو یارک ٹائمز نے قندوز پر قبضہ کو بحران میں شدت سے تعبیر کیا ہے جب کہ پنٹاگان کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے اسے ''سیٹ بیک'' قرار دیا ہے۔

اخبار کے مطابق افغان فورسز قندوز کو طالبان سے آزاد کرانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہیں ،ادھر ایک افغان سیاسی تجزیہ کار اور تاریخ دان ہیلینا ملک یار نے افغان سیاسی و عسکری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس اندیشہ کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کو ''بیداری'' مہم کے نام پر مسلح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ملک 1990 کی انارکی میں داخل ہوسکتا ہے، انھوں نے صوبہ فریاب کے بعض مکینوں کی شکایات کے حوالے سے انکشاف کیا کہ مسلح ملیشیا لوٹ مار ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، تشدد اور لڑکیوں سے بدسلوکی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان فورسز کی قندوز واقعہ کے تناظر میں پسپائی پر عالمی عسکری ماہرین سخت حیرت زدہ رہ گئے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اتنی توانا اور امریکی تربیت پانے والی فوج، اسپیشل سیکیورٹی اسکواڈ ، بے رحم ملیشیا ، مقامی پولیس کے 28 ہزار جوان طالبانی حملہ کے خلاف جوابی کارروائی میں کیسے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ۔

بلاشبہ اس حملے میں طالبان کی جارحیت اور پیش قدمی افغان عسکری تیاریوں کا پول کھول گئی جس سے خطے میں ایک بار پھر بدامنی کا دور دورہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔جب کہ افغان فورسز کو اس بات کا بھی ادراک نہیں ہوا کہ طالبان گذشتہ سال سے قندوز پر مسلسل حملے کررہے تھے، اس کا تدارک کرنا افغان حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی ، مگر کیا کہیے کہ افغان حکام کو پاکستان کے خلاف بے بنیاد ، خود ساختہ الزاماتی مشاغل سے فرصت ہوتی اور پاکستان پر بار بار بہتان تراشنے کا عمل رک جاتا تو اس جانب توجہ دی جاسکتی تھی۔

تاہم اب بھی افغان قیادت کو ہمارا یہ صائب مشورہ ہے کہ وہ برادرانہ تاریخی رشتوں، سیاسی تعلقات، خطے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کے اہم مقاصد کے حصول میں اشتراک عمل کو یقینی بنائے۔ جنرل راحیل کا یہی پیغام ہے کہ مشکلات کے باوجود پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ ایک مجفوظ و پرامن افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ قندوز پر حملہ افغان صورتحال میں تھرتھلی مچنے کے مصداق ہے، یہ اضطراب انگیز طالبانی کارروائی ہے جس کے خطے سمیت غیر معمولی عالمی اثرات و مضمرات ہو سکتے ہیں، یہی وقت ہے کہ افغان معاشرہ دہشت گردی کے عفریت اور بربادی کی داستان بننے سے محفوظ ہوسکتا ہے، اسے پاک افغان تعلقات کی حالیہ سیاسی و عسکری کوششوں ، یکجہتی ، امن کے قیام اور ترقی و آسودگی کے مشترکہ خوابوں کو شرمندہ تعبیر بنانا ہے۔

شمالی شہر قندوز وہ طالبانی ہدف ہے جس پر انھوں نے 2001 ء میں قبضہ کیا تھا۔ طالبان اس پر اکتفا نہیں کریں گے، وہ ہولناک پیشقدمی جاری رکھیں گے، افغان فورسز کو ان کا راستہ روکنا ہوگا ، امریکا کا پھر سے اس آتش افغان میں کود پڑنے کا خطرہ بھی ٹالا نہیں جاسکتا۔ حالات گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ ان تمام مطلوب طالبان رہنماؤں اور کمانڈروں کو پاکستان کے حوالہ کرنا ہوگا جو اس کے معزز مہمان ہوتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کراتے ہیں ۔

ادھر افغانستان کے نائب صدر جنرل رشید دوستم ، اور عطا نور سمیت دیگر با اثر لارڈز کی مقامی ملیشیا کو از سر نو مسلح کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، جب کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ نے صائب بات کی کہ ایک پرامن افغانستان سے علاقائی رابطوں کو استوار کرنے کی راہ کھلے گی، پاک چین اقتصادی راہداری کے فوائد سے خطے کے سب ممالک مستفید ہونگے، تاہم پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسندی کی لعنت کو ختم کیا جائے۔ ان کے اس دور رس پیغام کا ادراک وقت کا تقاضا ہے۔