سیاسی مزار مجاورین اور معتقدین

ان دو سلسلوں کے علاوہ بھی کئی چھوٹے بڑے سلسلے ہیں جو مزارات کا دیا کھاتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq October 01, 2015
ان دو سلسلوں کے علاوہ بھی کئی چھوٹے بڑے سلسلے ہیں جو مزارات کا دیا کھاتے ہیں۔

RIYADH: اپنی اپنی مرضی اپنا اپنا خیال اور اپنی اپنی پسند ہے ورنہ ہمارے اپنے خیال تک اس ملک میں جس کا نام پہلے خداداد پاکستان اور اب اللہ داد پاکستان ہے سیاست کو سیاست کہنا بہت بڑی تہمت اور الزام ہے، یہ ایسا لگے گا جیسے کسی چور اچکے، غنڈے، بدمعاش، حاجی صوفی یا بزرگوار کو کہا جائے بلکہ ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ خود سیاست سے جائز یا ناجائز کوئی بھی تعلق رکھنے والوں کو خود یعنی ''سوموٹو'' ایکشن لے کر یہ نام تیاگ دینا چاہیے اور اخباروں میں اشتہار دینا چاہیے کہ آیندہ ہمیں اس نام سے ہرگز پکارا اور لکھا نہ جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا متبادل کیا ہو، احتیاط کی اشد ضرورت اس لیے ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ مجھے یوں ہی کالو کالو کہتے ہیں ورنہ میرا اصل نام تو ''کوا'' ہے۔

سیدھی سی بات ہے کہ سیاست میں تو کچھ پارٹیاں ہوتی ہیں ان کے کچھ نظریات اور اصول ہوتے ہیں کچھ پروگرام ہوتے ہیں، منشور ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے صرف چند مزارات ہیں یا پیر دستگیر ہیں اور پھر ان کے ''مجاورین'' ہیں اور اندھے بہرے گونگے معتقدین (کارکن) ہیں، کون سی پارٹی ہے جس کے پاس بزرگوں یا شہداء کے ایک دو مزار یا ''زندہ پیر'' نہیں ہیں۔ زندہ پیر بھی ایک طرح سے ویٹنگ لسٹ مزاریں ہی ہوتی ہیں لیکن مزاروں والی پارٹیوں جیسی بات کہاں؟ جن کے پاس جتنے زیادہ مزار ہوتے ہیں وہ اتنے ہی زیادہ کامیاب اور متمول رہتی ہیں۔

پارٹیاں کہنے پر معافی چاہتے ہیں اصل نام تو ان کا ''سلسلہ فلانیہ و فلانیہ'' ہونا چاہیے کیوں کہ جن مزاروں کو یہ آج کل کیش کر رہے ہیں انھوں نے زندگی میں بھی اپنے لیے جنت اور اولادوں کے لیے بہت سارا دھن کمایا ہوا ہے اور مرنے کے بعد آرام سے لیٹے ''اوور ٹائم'' لگا رہے ہیں۔ کسی زمانے میں ہمارا ایک دوست تھا جو ایک بہت بڑے مزار شریف کی مقدس اولادوں میں سے تھا، خاندان بہت بڑا تھا اس لیے سال کے تین سو پینسٹھ دنوں کو باقاعدہ تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ہمیں اپنے گاؤں لے گیا وہ دن ان کے خاندان کا تھا ہم نے مزار شریف پر نوٹوں کے ڈھیر دیکھے تو جل کر بولے، دادا اس کو کہتے ہیں جو مر کر بھی کمائے چلا جا رہا ہے، ایک وہ ہمارے دادا تو ہمارے لیے زندگی میں بھی کچھ نہیں کر پائے تھے۔

اب سیاست میں بھی یہ سلسلہ چل نکلا ہے ہر کسی کے پاس ایک یا ایک سے زیادہ مزارات ہیں اور ان کی کمائیاں پیٹ بھر کر کھا رہے ہیں، اب مسلم لیگ کو لیجیے ان کے پاس چھوٹے بڑے مزار تو بے شمار ہیں لیکن دو نہایت ہی بڑے اور کماؤ مزار تو مشہور و عام ہیں، ایک مزار پاکستان کا ہے جسے پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہی ہاتھوں شہادت کے مرتبے پر فائز کیا گیا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس کا گلا پیدا ہوتے ہی نہیں گھونٹا گیا تھا بلکہ بعد میں خلیج بنگال میں ڈبو کر شہید کیا گیا تھا۔

بہرحال شہادت اور تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن برکات کے بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہے کیونکہ ان کی سبز پوش اولادیں آج بھی اس ملک میں ''سادات'' ہونے کی دعوے دار ہیں، لیکن ان کی تعداد بڑھ گئی یا کوئی اور وجہ ہو گئی کہ ایک مزار پر ان کا گزارہ نہیں ہو سکا چنانچہ دوسرا مزار قائد کا بنایا تاکہ بوقت ضرورت کام آئے، اس بزرگ کے ساتھ تو ان کی عقیدت اتنی زیادہ ہے کہ جن لوگوں نے ایک میل دور سے بھی ان کا دیدار کیا تھا اسے آج کل ''ممتاز مسلم لیگی راہ نما'' کا خطاب حاصل ہے۔

ہمیں یاد ہے پشاور میں ایک صاحب ہوا کرتے تھے وہ اکثر ہمارے دفتر آتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ ہم ان پر مضمون لکھیں کیونکہ جن دنوں قائداعظم اسلامیہ کالج آئے تھے تو میں نے بھی ان سے ہاتھ ملایا تھا اور پھر وہ بڑی عقیدت کے ساتھ اپنے مرحوم صاحب کی مناقب بیان کرنے لگتے بلکہ ایک بیگم صاحبہ تو صرف اس وجہ سے ممتاز مسلم لیگی لیڈرہ یا ممتاز مسلم لیگی راہ نمائین ہیں کہ ان کے شوہر نے شادی سے پہلے قائداعظم کا کننگم پارک میں لائیو دیدار کیا تھا بلکہ ان کے اتنے قریب پہنچ گئے تھے کہ درمیان میں صرف دو سو گز کا فاصلہ رہ گیا۔

دو چار سال بعد اس کی شادی مذکورہ بیگم صاحبہ سے ہو گئی اور آٹھ دس سال بعد جب وہ ان کی تاب نہ لا کر اگلے جہان سدھار گئے تو موصوفہ وراثت کی بنیاد پر ممتاز مسلم لیگی رہنمائین بن گئیں مزار پاکستان اور دیگر قائدین کے مزار کے متولیوں اور مجاوروں کے قصے تو بے شمار ہیں جو الگ سے ایک کتاب کے متقاضی ہیں لیکن جو بات طے شدہ ہے کہ ان سبز پوشوں کا صرف جھنڈا ہی سبز نہیں ہے بلکہ ان کے قدم بھی سبز ہیں اور یہ سبز قدم جب سے ان سرزمین پر پڑے ہیں اس میں برکات ہی برکات کا دور دورہ ہے، یہ الگ بات ہے کہ یہ برکات آفات سماوی اور ارضی میں ہوتی ہیں کیوں کہ یہ خود بھی آفات ارضی و سماوی سے کم نہیں ہیں غالب نے ان ہی کے لیے کہا ہے کہ

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

ان سبز پوش، سبز قدم اور سبزہ کار فرقے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کے ہاں رقص کرنا ممنوع نہیں بلکہ کار ثواب ہے جس طرح قونیہ کے درویش یا مادھو لال حسین کے ملنگ رقص کو عبادت سمجھتے ہیں اسی طرح ان کے نزدیک بھی رقص کرنا ثواب دارین ہے لیکن یہ رقص ہر وقت اور ہر جگہ نہیں کیا جاتا بلکہ جو بھی ''باوردی'' بزرگ سریر آرائے سلطنت ہوتا ہے یہ یہاں وہاں کے سوراخوں سے نکل کر اس کے گرد بھنگڑا ڈال دیتے ہیں اور دین و دنیا دونوں کی سعادت پاتے ہیں۔

دوسرا سب سے بڑا مجاورین مزارات کا سلسلہ سبز کی جگہ، چتکبرا یا سہ رنگا کا سلسلہ کہلاتا ہے اصل میں تو یہ سلسلہ بھی اسی سبز سلسلے سے نکلا ہے کیوں کہ ان کے سب سے اولین بزرگ اس وقت ایوب خان کے ساتھ کنونشن لیگ کے خلیفہ تھے جسے سیاست میں جنرل سیکریٹری کہا جاتا ہے اور اپنے عقیدے میں اتنے پرجوش تھے کہ اپنے پیر و مرشد ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے اور مشورہ دیا تھا کہ ہر ضلع کا ڈی سی کنونشن لیگ کا صدر ہونا چاہیے، لیکن پھر اچانک اس پر ''اوپر'' سے ''القاء'' ہوئی بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ القاء بہت دور دراز کے ایک شہر کے سفید آستانے کی طرف سے ہوئی تھی بہرحال جو کچھ بھی تھا اس نے فوراً اپنا الگ فرقہ بنا لیا جس کے تین رنگ تھے حالاں کہ اسے کہا گیا کہ

سہ رنگی چھوڑ کر یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا

لیکن اس نے کہا کہ دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں برے، بہت برے اور بہت ہی برے اور مجھے ان سب کو صراط مستقیم پر چلانا ہے چنانچہ اس نے چن چن کر ان لوگوں کو جمع کیا جو خلق خدا کی روٹی، کپڑا اور مکان چھینے ہوئے تھے اور عوام کو طلسم ہوشربا دکھایا کہ ان سے روٹی کپڑا اور مکان لے کر تم کو دیں گے، لیکن بدقسمتی سے یہ پروگرام کم از کم قیامت کے دوسرے دن تک کا وقت چاہتا تھا اور اس کا اپنا وقت ختم ہو گیا تھا، شہادت کی گھڑی آپہنچی ... اور حیات کے بجائے اس نے ممات کو چن کر اپنے پس ماندگان کو ایک عدد مزار دینے کا فیصلہ کیا، کچھ خاندان پیدائشی طور پر مبارک ہوتے ہیں خاص طور پر مزارات تو کسی کسی کے نصیب میں ہوتے ہیں ورنہ کوشش تو بہت کرتے ہیں لیکن

ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں

ان دو سلسلوں کے علاوہ بھی کئی چھوٹے بڑے سلسلے ہیں جو مزارات کا دیا کھاتے ہیں۔