وزیر اعظم کا چار نکاتی امن فارمولا

بھارت کے ساتھ تعلقات کے لیے متعدد بار کوششیں کیں، جامع مذاکرات کشمیر اور قیام امن کے لیے شروع ہوئے تھے


Editorial October 02, 2015
اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پیش کردہ امن فارمولے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں، فوٹو : فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو چار نکاتی امن فارمولا دیتے ہوئے اسے جنگ نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش کی ہے۔

اس چار نکاتی فارمولے کے تحت لائن آف کنٹرول پر مکمل فائر بندی کی جائے، طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دی جائیں، کشمیر سے فوجوں کو نکالا جائے، سیاچن کو خالی کیا اور غیر فوجی علاقہ بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کا کھلم کھلا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تخریب کاری کے پیچھے بھارتی خفیہ ادارے ہیں، پاکستان پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے لیے متعدد بار کوششیں کیں، جامع مذاکرات کشمیر اور قیام امن کے لیے شروع ہوئے تھے، ہمارا اولین ہمسایہ خطے اور پاکستان میں امن نہیں چاہتا، لائن آف کنٹرول پر بھارتی کشیدگی جارحیت بڑھا رہی ہے، سرحدی کشیدگی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کو مزید مضبوط بنانا چاہیے، کچھ ممالک نے عوام کے حق خودارادیت کو کچل رکھا ہے،کشمیر بنیادی مسئلہ ہے جس کو حل ہونا چاہیے، یہ مسئلہ 1947سے حل طلب ہے اس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں عملدرآمد کی منتظر ہیں جو اس عالمی ادارے کی ناکامی ہے۔ کشمیریوں کی تین نسلوں کو شکستہ وعدوں اور جابرانہ اقدامات کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کشمیریوں کا شامل ہونا ناگزیر ہے، کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عالمی فورم پر جنوبی ایشیا کی سلامتی اور امن کے لیے بھارت کی جانب سے پیدا کردہ تناؤ اور کشیدہ صورت حال کو اجاگر کر کے پاکستان کا موقف نہ صرف بڑے جرات مندانہ انداز سے پیش کیا بلکہ اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اگر اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرا دیتی تو آج دونوں ممالک کے درمیان جو کشیدہ صورت حال موجود ہے وہ نہ ہوتی اور ان کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوجاتے جس سے پورے خطے میں امن قائم ہو جاتا اور ممکن ہے کہ جنگ کے خطرات بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کے حل، سرحدی کشیدگی ختم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے منفی اور شرانگیز رویوں کو ختم کرنے کے لیے جو فارمولا پیش کیا ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس امن فارمولے کے جواب میں کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے، اگر وہ مثبت رویہ اختیار کرتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تنازعات حل کرنے کی جانب یہ اہم پیش رفت ہو گی لیکن اگر وہ اپنی جارحیت سے باز نہیں آتا اور سرحدوں پر کشیدگی کے ساتھ ساتھ دھمکی آمیز رویے کو قائم رکھتا ہے تو اس سے معاملات جوں کے توں چلتے رہیں گے۔ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سلامتی کونسل نے خود قرار داد منظور کی تھی مگر اس کی عدم دلچسپی اور بے حسی اس سے واضح ہو جاتی ہے کہ اس نے اس مسئلے کے حل کے لیے نہ کبھی بھارت پر دباؤ ڈالا اور نہ کبھی کوئی واضح اور ٹھوس پالیسی اپنائی۔

وزیراعظم نے عالمی برادری کی دہشت گردی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے اس کی وجوہات کو ختم کرنا ہو گا، دہشت گردی پھیلنے کی ایک وجہ بڑی طاقتوں کے درمیان تنازعات بھی ہیں۔

سلامتی کونسل طاقتور ملکوں کا کلب بن چکا ہے اور انھوں نے آج تک جو بھی فیصلے کیے وہ صرف اپنے مفادات سامنے رکھ کر کیے ہیں، مشرقی تیمور کی علیحدگی اور سوڈان کی تقسیم تو انھوں نے بلاتاخیر کر دی مگر مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل کی جانب انھوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ عالمی برادری کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے کو روکنا ہو گا۔

بھارت ایک عرصے سے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے مگر اس کی یہ کوششیں بارآور نہیں ہو سکیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے واضح کیا کہ نا انصافیاں ختم کیے بغیر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، انھوں نے تجویز پیش کی کہ سلامتی کونسل میں ایسی ترامیم کی جائیں جس سے تمام ممالک کے حقوق کا تحفظ ہو۔

افغانستان کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وہاں استحکام چاہتا ہے پاک افغان تناؤ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پیش کردہ امن فارمولے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں تاکہ اس خطے میں مستقل طور پر امن قائم ہو سکے۔