کسان پیکیج مس ٹائمنگ کا شاخسانہ

یہ شیک اپ کال ہر اس سیاسی جماعت اور اہل سیاست کے لیے ہے جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی حرمت اور اہمیت پر یقین رکھتی ہیں


Editorial October 02, 2015
پنجاب و سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات پر پابندی رہے گی۔ فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کسان پیکیج کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے3 نکات پر عملدرآمد 3 دسمبر تک روک دیا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے میڈیا کو اِن کیمرہ بریفنگ میں بتایا کہ یہ پیکیج انتخابی ضابطہ اخلاق کی شق27کی خلاف ورزی ہے اور اس کی 3 شقوں پر اس وقت تک عملدرآمد روک دیا جائے جب تک پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تینوں مراحل مکمل نہیں ہو جاتے۔

بادی النظر میں الیکشن کمیشن کا جزوی اقدام اگرچہ حکومت کے لیے سیٹ بیک ہے تاہم یہ شیک اپ کال ہر اس سیاسی جماعت اور اہل سیاست کے لیے ہے جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی حرمت اور اہمیت پر یقین رکھتی ہیں، دوسری چیز سیاست میں ٹائمنگ کی بڑی اہمیت ہے، بعض اوقات ایک اچھا کام غلط وقت پر کرنے کا الٹا نقصان ہوتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ الیکشن کمیشن کا اقدام انتخابی ضابطہ اخلاق سے مشروط ہے اور ارباب اختیار کو ادراک ہونا چاہیے تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے بعد ایسا اعلان منفی رد عمل کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے جب وزیر اعظم نے 15 ستمبر کو341 ارب روپے کے کسان پیکیج کا اعلان کیا تو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں متحرک اپوزیشن کے رد عمل پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا، اگلے روز سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور سیکریٹری اطلاعات کا موقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔

بلاشبہ اپنے مقاصد، فوائد اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی حکومت غافل نہیں رہ سکتی اور نہ الیکشن کمیشن کا کسان پیکیج پر عمدرآمد روکنا کوئی انتقامی کارروائی ہے، اسے بس مس ٹائمنگ کا شاخسانہ کہنا مناسب ہے۔ ایک قول ہے کہ ''آپ دشمن سے جنگ اس کی ٹائمنگ کا درست اندازہ لگا کر جیت لیتے ہیں جب کہ اس کے خلاف ایسی ٹائمنگ استعمال کرتے ہیں جس سے دشمن بے خبر ہوتا ہے۔''

سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق کسان پیکیج کی ضرورت سے زیادہ تشہیر کی گئی، نیز اعلان کردہ پیکیج بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کمیشن کی طرف سے یہ وضاحت بھی آئی کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے خلاف نہیں تاہم تمام امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں انتخابی ماحول فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔

پنجاب و سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات پر پابندی رہے گی۔ چنانچہ امید کی جانی چاہیے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے پیش نظر طے شدہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنائیں گی۔