بلوچستان عبدالمالک کے بعد
بلوچستان کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہاں نسبتاً امن و امان کی صورت حال بہتر ہے
بلوچستان کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہاں نسبتاً امن و امان کی صورت حال بہتر ہے اور اس کا کریڈٹ بلاشبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو جاتا ہے۔ بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے جب کہ بلوچستان کی تاریخ میں عموماً اقتدار بلوچستان کے سرداروں کے ہاتھوں میں رہا، کیا امن و امان کی اس بدلی ہوئی صورتحال کو ہم اقتدار کی بدلی ہوئی طبقاتی صورتحال کا کرشمہ کہہ سکتے ہیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان صدیوں سے سرداری نظام میں جکڑا ہوا ہے، یہ صورتحال صرف بلوچستان کی ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں بھی اس سے ملتا جلتا قبائلی نظام موجود ہے۔
قبائلی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی عمارت روایات پر کھڑی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں پچھلے دس بارہ سال سے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جو بد ترین صورتحال ہے، اسے اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے اگر اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ناخواندگی اور غربت نے اس صوبے کو مذہبی انتہا پسندی اور اس کی پروڈکٹ دہشت گردی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اگرچہ عبدالمالک کے دور حکومت میں اس صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی ہے لیکن مرکز گریز قوتیں یہاں آج بھی متحرک ہیں۔ مرکز گریز قوتوں میں ایک تو سرداری نظام کے متولین ہیں جن کے مفادات مرکز گریز تحریکوں سے مختلف ہیں لیکن ان دونوں طاقتوں کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ یہ دونوں طاقتیں بلوچستان میں بلوچوں کی بالادستی چاہتی ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے صوبوں کی آبادی میں اتنا بڑا فرق ہے کہ ایک صوبہ آبادی کے حوالے سے دوسرے تین صوبوں سے بڑا ہے، آبادی کے اس فرق کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم فیکٹر یہ ہے کہ مقتدرہ کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے، یہی وہ صورتحال تھی جس نے ہمارے ایک حصے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے اس حد تک بد ظن کر دیا کہ وہ علیحدگی کی راہ پر چل پڑا اور بھارت کی غیر اصولی، غیر اخلاقی مدد سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کامیاب رہا۔
ہماری سیاست میں سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ میں جو اتحاد رہا ہے اس کا اندازہ 1971ء میں بھٹو مرحوم کے کردار سے لگایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی لیکن اگر سیاسی قیادت اس کی حامی اور ہم سفر نہ ہوتی تو شاید 1971ء کا المیہ وجود میں نہ آتا، بھٹو صاحب اگرچہ ایک مقبول عوامی لیڈر تھے لیکن بنیادی طور پر ان کا طبقاتی تعلق اس کلاس سے تھا جو صرف اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتی ہے ملکی مفادات اور سیاسی اخلاقیات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
جب 1970ء کے انتخابی نتائج نے مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو مرکز میں حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا تھا۔ اگر بھٹو عوامی لیگ کے حق کو تسلیم کر لیتے تو شاید وہ المیہ پیش نہ آتا جسے ہم سقوط ڈھاکا کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مشرق پاکستان کو بھی وہی شکایت تھی جو مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں کو رہی ہے میں نے 1970ء میں اپنے دورے کے دوران مشرقی پاکستان پر مغربی پاکستان کی بالادستی کے جو مناظر دیکھے وہ مناظر 19،20 کے فرق سے بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں، اس حوالے سے ایک بڑی در پردہ حقیقت یہ تھی کہ مغربی پاکستان کا جاگیردار طبقہ بھی مشرقی پاکستان کی مڈل کلاس قیادت کو پاکستان کی مرکزی حکومت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا جس کی نمائندگی یحییٰ خان کے ساتھ ساتھ بھٹو صاحب بھی کر رہے تھے۔
بلوچستان میں پاکستانی اہمیت اور دنیا کی دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ بلوچستان میں بے اندازہ معدنیات کی موجودگی ہے جس کی داستانیں ساری دنیا میں گونج رہی ہیں، بلوچستان میں قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں اب گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وجہ بلوچستان کی پاکستان کے اندر اور باہر جو اہمیت پیدا ہو گئی ہے وہ بااثر طبقات کے درمیان مزید کھینچا تانی کا سبب بن رہی ہے۔
یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ساری اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی نظر میں بلوچستان کی معدنی دولت اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر ہی لگی ہوئی ہیں بلوچستان کے غریب اور ضروریات زندگی سے محروم عوام کی طرف سے سب آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ بلوچستان سرداری نظام میں جکڑا ہوا ایک انتہائی پسماندہ صوبہ ہے۔ آبادی بکھری ہوئی ہے قبائلی کلچر بہت مضبوط ہے عوام تعلیم سے محروم ہیں اس محرومی کی وجہ سے یہاں کا سیاسی نظام یعنی سرداری نظام اب بھی بہت مضبوط ہے۔
بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوان پنجاب سے تو نالاں نہیں لیکن اپنے صوبے میں صدیوں سے مسلط سرداری نظام کی طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں غوث بخش بزنجو اور عطا اﷲ مینگل جیسے مخلص رہنما بھی پیدا ہوئے اور پاکستانی حکومتوں کی مسلسل زیادتیوں کا شکار رہے لیکن یہ اکابرین ہمیشہ پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف لڑتے رہے۔ بی ایس کے نوجوان یقیناً بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی اور بلوچستان کے پاکستان سے جڑے رہنے کے فوائد و نقصان کا درست اندازہ نہیں کر پا رہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت کے دوران بلوچستان کے حالات میں اگرچہ تبدیلی آئی ہے امن و امان کا نفاذ قدرے بہتر بھی ہوا ہے لیکن اصل مسائل یعنی بلوچستان پر بلوچوں کی بالادستی بلوچستان کے وسائل اور انتظامیہ پر حقیقی معنوں میں بلوچ عوام کی بالادستی بلوچستان کو دنیا بھر کے لیے باعث کشش بنانے والے دوسرے بڑے عنصر اقتصادی راہداری کے حوالے سے جب تک بلوچستان کی نئی نسل کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا صورتحال میں کسی جوہری تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے بد قسمتی سے موجودہ اتحادی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاہدے کے مطابق عبدالمالک بلوچ کو اس سال کے آخر تک اپنا عہدہ چھوڑنا ہے ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی بندہ وزیر اعلیٰ نامزد ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) مرکز میں حکمران ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت امن و امان کو مزید بہتر بنائے گی یا بدتر؟