زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر

آئی ایم ایف نے پاکستان کو 50کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی آٹھویں قسط جاری کر دی ہے۔


Editorial October 03, 2015
اگر ملکی معیشت بہتر ہے تو اس کے ثمرات بھی عام آدمی تک پہنچنے چاہئیں۔ ۔فوٹو: اے ایف پی/فائل

KARACHI: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جو ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیرخزانہ کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ''(ن) لیگ کی حکومت نے قوم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ آئی ایم ایف کا پروگرام گزشتہ حکومت کے قرضوں کی واپسی کے لیے لیا ہے''۔

واضح رہے کہ عالمی اقتصادی نظام کچھ اس انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ کسی ملک کی اقتصادی حالت کا اندازہ بنیادی طور پر اس کے خزانے میں زر مبادلہ کے ذخائر کی مالیت سے لگایا جاتا ہے جو کہ اس وقت ہمارے وزیر خزانہ کے دعوے کے مطابق ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے محفوظ پوزیشن میں ہے۔

ان ذخائر سے وطن عزیز کو درامدات کی ادائیگی بھی بسہولت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے جو ایک کلیدی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈالروں کے اس اتنے بڑے انبار سے ملک کے ناداروں کو کیا فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے؟ ہمارے ارباب بست و کشاد کو اس پہلو پر بھی توجہ منعطف کرنا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا فی الحال اسٹیٹ بینک کے پاس 15 ارب ڈالر سے زائد ہیں اور کمرشل بینکوں کے پاس 4 ارب 83 کروڑ ڈالر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ سطح قومی معیشت میں استحکام کی مظہر ہے اور یہ کامیابی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں گزشتہ دو برسوں کے دوران موجودہ حکومت کی جامع اقتصادی پالیسیوں اور اصلاحات کی بدولت ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 50کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی آٹھویں قسط جاری کر دی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بیان میں زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سے تجاوز کرنے پر وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہاں ایک اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈالروں کے اتنے بڑے ذخائر کے باوجود بازار میں ڈالر کی قیمت میں کیوں کمی نہیں ہو رہی؟ بہر حال اب اگر ملکی معیشت بہتر ہے تو اس کے ثمرات بھی عام آدمی تک پہنچنے چاہئیں۔