نیپرا کی رپورٹ
70 سالہ شاہ نور اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر ڈی ون کے 80 گز کے مکان میں رہتے ہیں۔
70 سالہ شاہ نور اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر ڈی ون کے 80 گز کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کا گھر تین کمروں پر مشتمل ہے۔ ان کے گھر میں روشنی کے لیے 3 انرجی سیور، 3پنکھے اور ایک ٹیلی وژن ہے۔ چند ماہ قبل انھیں 30 ہزار روپے کا بل بھیجاگیا۔ شاہ نور کا کہنا ہے کہ کراچی میں 80 گز کے مکانات پر مشتمل گھروں میں 7 ہزار سے 10ہزار روپے تک کے بل آ رہے ہیں۔
یوں لاکھوں افراد اوور بلنگ کی بناء پر شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹر ریڈر باقاعدگی سے ریڈنگ لے کر جاتے ہیں مگر پی ایم ٹی پر نصب میٹر کی ریڈنگ کی بنیاد پر بل تیار ہوتے ہیں۔ جب غریب لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر بل ٹھیک کرانے جاتے ہیں تو انھیں خاطرخواہ جواب نہیں دیا جاتا۔ اورنگی ٹاؤن، گلشن بہار، لانڈھی، کورنگی، لیاری، پاک کالونی اور دیگر بستیوں کے مکین شاہ نور کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
ان مکینوں کا کہنا ہے کہ کنڈے لگانے اور بجلی چوری کے معاملات میں متعلقہ عملہ ملوث ہے مگر جو لوگ بل باقاعدگی سے دیتے ہیں ان سے زیادہ رقم وصول کر کے چوری ہونے والی بجلی کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ نیپرا کی سالانہ رپورٹ میں ان صارفین کے بجلی کمپنیوں پر عائد الزامات کی تصدیق کی گئی ہے۔ قومی اخبارات میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ شایع ہوئی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیاں اوور بلنگ کرتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام کمپنیاں بجلی کی پیداوار ٹرانسمیشن اور تقسیم کے معیار کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کی ٹیموں نے مختلف کمپنیوں کے صارفین کے میٹرزکا معائنہ کیا تو 70 فیصد میٹر پرانے نکلے۔ یہ کمپنیاں کچھ صارفین کو بجلی کے استعمال سے زیادہ اور کچھ کو استعمال سے کم بل بھیجتی ہیں۔ اسی طرح بجلی کے پول اور تار انتہائی ناقص حالت میں پائے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی معطلی کی ایک وجہ ناقص اور پرانے تاروں اور کھمبوں کا استعمال ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ معائنہ ٹیموں نے جب 11KV میٹرنگ روم کا معائنہ کیا تو انتہائی بری حالت میں پائے گئے۔ اسی طرح B2 صارفین کو مقررہ استعداد سے زیادہ بجلی کا لوڈ فراہم کیا گیا تھا۔
بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر عام شہری کے لیے اس حق کا تحفظ مشکل ہوگیا ہے۔ ایک طرف بجلی کے ٹیرف میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے وقت صارفین کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ پھر جب بین الاقوامی منڈی میں فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو بجلی کی کمپنیوں کو فائدہ ہوتا ہے مگر اس فائدے میں صارفین کو شامل نہیں کیا جاتا۔ کراچی شہر کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے لیے طبقاتی طور پر تقسیم کر دیا گیا ہے اور اجتماعی سزا کو رائج کیا گیا ہے۔ امراء اور متوسط طبقے کی بستیوں کو لوڈ شیڈنگ سے مبرا قرار دیدیا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جہاں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی شرح سو فی صد ہے وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔ اسی طرح جن علاقوں میں بلوں کی ادائیگی کی شرح 50 سے 60 فیصد ہے وہاں دن میں دو سے تین دفعہ دو سے تین گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جہاں یہ شرح اور زیادہ کم ہے ان علاقوں میں 6 سے 7 گھنٹے سے 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ اس فارمولے کے تحت ان صارفین کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جو باقاعدہ بل ادا کرتے ہیں مگر ان کے گھروں سے متصل ایسی بستیاں ہیں جہاں بجلی کے بل ادا کرنے کی شرح کم ہے، یوں یہ لوگ بل ادا کرنے کی سزا پاتے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔ غریب بستیوں کے مکینوں کی ماہانہ آمدنی اتنی کم ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے مصارف پورے نہیں کر سکتے۔
ان کے لیے بھاری بل ادا کرنا ممکن نہیں۔ حکومت ان کے لیے بجلی کے ٹیرف میں سبسڈی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ بیچارے کنڈے سے بجلی لیتے ہیں اور جب کسی وجہ سے بجلی معطل ہوتی ہے تو پھر عملہ بجلی کی فراہمی میں حائل خرابی کو دور نہیں کرتا۔ یوں ان علاقوں میں کئی کئی دن بجلی کی سپلائی معطل رہتی ہے۔
کراچی کی قدیم بستی لیاقت آباد کے مکین عمران احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ جون میں ان کے علاقے میں بجلی فراہم کرنے والی پی ایم ٹی زیادہ لوڈ کی بناء پر جل گئی مگر کئی دنوں تک اس کی مرمت نہیں کی۔ عملے کا کہنا تھا کہ علاقے میں بلوں کی ادائیگی کی شرح غیر اطمینان بخش ہے۔ جب کئی دن تک علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل رہی تو مکینوں نے احتجاج کیا جس پر حکام بالا کی مداخلت سے بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکی۔
دوسری طرف امراء، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، صنعت کار اور تاجر جدید طریقوں کی مدد سے بجلی چوری کرتے ہیں مگر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ اووربلنگ کے ذریعے چوری شدہ بجلی کے نقصان کو پورا کیا جاتا ہے۔ کراچی میں پانی کی قلت کی ایک وجہ لوڈشیڈنگ بھی ہے۔ واٹر بورڈ کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر رپورٹر کا کہنا ہے کہ دھابیجی میں پانی کھینچنے والی پمپنگ مشین نصب ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کی بناء پر یہ مشین خاموش ہوجاتی ہے اور پانی پمپنگ کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال شہر کے ہر علاقے میں واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنوں کی ہے۔
کے الیکٹرک والے کہتے ہیں کہ کراچی واٹر بورڈ کروڑوںروپے کا مقروض ہے، صوبائی اور وفاقی حکومت اس قضیے کا حل نہیں تلاش کر پائی، جس کے منطقی نتیجے میں شہری پانے کے لیے ترستے ہیں۔گزشتہ جون میں کراچی میں گرمی کی شدید لہر میں 2 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے، اتنے زیادہ لوگوں کے مرنے کی ایک بنیادی وجہ لوڈشیڈنگ بھی تھی۔ صوبائی حکومت کے الیکٹرک کی انتظامیہ پر لوڈ شیڈنگ کا الزام لگاتی ہے مگر مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے پر کہیں توجہ نہیں دی جاتی۔
نیپرا کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ پنجاب اور خیبرپختون خواہ میں بجلی کی چوری اور اوور بلنگ میں عملہ بھی شامل ہوتا ہے۔بلوچستان کے مضافاتی علاقوں میں تو صورتحال اور زیادہ خراب ہے۔ حکومت کو سستی اور بغیر رکاوٹ کے پورے ملک میں بجلی کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہر شہری کو بجلی صرف حکومتی ادارے فراہم کر سکتے ہیں، نجی کمپنیاں یہ کام نہیں کرسکتیں۔ نیپرا کی اس رپورٹ پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ بجلی کا استعمال ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔