بھارت اور امریکا اصل مجرم ہیں

پاکستان کے صدر اور بھارت کے وزیراعظم کے خیالات صرف اپنی اپنی اسٹیٹ پالیسیوں کی ترجمانی کرتے ہیں


Zaheer Akhter Bedari October 21, 2012
[email protected]

پچھلے دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کر دیا۔

زرداری کی اس ''گستاخی'' کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی سیکولر اور جمہوریت کے وزیراعظم سردار منموہن سنگھ نے اپنے ردّعمل کا اظہار کیا اور جنرل اسمبلی میں زرداری کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے ذکر کو بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہتے ہوئے یہ عاقبت نااندیشانہ روایت دہرائی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورموں میں اٹھانے سے دونوں ملکوں میں آتی ہوئی بہتری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسی قسم کے خیالات کا اظہار بھارت کی وزارت خارجہ کی طرف سے بھی کیا گیا۔ بھارت کے اس ردّعمل پر ہم امید کر رہے تھے کہ بھارت کا غیر جانبداری کا دعویٰ کرنے والا طبقہ جس میں اہلِ دانش اور اہلِ قلم شامل ہیں، بھارتی حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور مسئلہ کشمیر کے گہرے مضمرات اور نقصانات سے بھارتی حکمران طبقے کو آگاہ کریں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے اس خطے میں رہنے والے ان اہلِ علم اور اہلِ دانش دوستوں کو سخت مایوسی ہوئی جو اس خطے میں رہنے والے دو ارب کے لگ بھگ انسانوں کو بھوک، غربت، جہالت کی دلدلوں سے نکلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے صدر اور بھارت کے وزیراعظم کے خیالات صرف اپنی اپنی اسٹیٹ پالیسیوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان میں نہ دانشورانہ یا تزویراتی گہرائی ہے، نہ سیاسی بصیرت جو اس مسئلے کو سمجھنے، اس کے اس خطے پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ بھارت کا حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کسی نہ کسی حوالے بہانے سے ہمیشہ رکاوٹ ڈالتا آ رہا ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد اس طبقے کو یہ بہانا ہاتھ آ گیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی میں پس پیش کر رہا ہے۔

بھارت کی اس دلیل کو اگر ہم درست بھی مان لیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ ''اس قسم کا پس و پیش'' کیوں کر رہا ہے؟ بھارت کا حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے سے بچنے کے لیے جس قسم کے بہانے تراشتا رہتا ہے، اس خطے کے اہلِ دانش اس سے آگے جاتے ہوئے ان افسوس ناک حقائق سے بھی آگاہ ہیں کہ کشمیر کے مسئلے ہی کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے مذہبی انتہا پسند طبقات کی سرپرستی کی ضرورت محسوس کی اور خود پاکستان کے لیے بہت سارے تزویراتی گہرائی رکھنے والے مسائل پیدا کر لیے لیکن ان ساری مشکلات کا سب سے بڑا سبب مسئلہ کشمیر ہی ہے جس کے حل نہ ہونے کی سو فیصد ذمے داری بھارت کے حکمران طبقے پر ہی عاید ہوتی ہے۔

ہم برصغیر کے عوام کے درمیان بہتر تعلقات اور اس خطے میں سیکولر طرزِ فکر کے فروغ کے حامی ہیں اور ان رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو اس خطے کے عوام کی معاشی خوش حالی اور فکری آزادی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم ان رکاوٹوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ کی شکل میں کھڑا نظر آتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ہم اس حوالے سے نہیں دیکھتے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اس لیے اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے بلکہ اسے اس حوالے سے دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اس پورے خطے کے عوام کی معاشی بد حالی اور نظریاتی پس ماندگی کا سبب بنا ہوا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے اس خطے میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

بھارت کے حکمران طبقے کو ان افسوس ناک حقائق کا یا تو ادراک نہیں یا پھر وہ ان حقائق کو محض ریاستی مفادات کی خاطر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ بھارتی حکمران ممبئی حملوں کے حوالے سے اس مسئلے کو حل کرنے سے جس طرح بچنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ پاکستان میں کراچی سے خیبر تک روز ہونے والے ممبئی حملوں کو اور ان سے پہنچنے والے نقصانات کو نہیں دیکھ سکتے۔ کیا انھیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ مسئلہ کشمیر ہی اس خطے میں اس مذہبی انتہا پسندی کا باعث بنا ہوا ہے جو اپنے ہی دینی اور قومی بھائیوں کو ہر روز سفّاکی سے قتل کر رہی ہے۔

دنیا اس وقت جس عذاب سے دو چار ہے اس سے نجات کے لیے ساری دنیا کو متحد ہونا پڑے گا اور ان مسائل کو حل کرنا ہو گا جو اس عالمی عذاب کا باعث بن رہے ہیں۔ اب حالات جس موڑ پر آ گئے ہیں، اس کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا اور اس کے 48 اتحادی اس عذاب سے نجات حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، جس کے پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے کی ذمے داری خود امریکا پر عاید ہوتی ہے۔ امریکا 9/11 کے واحد نقصان اور بھارت ممبئی حملوں کے نقصان کے بعد جس خوف کا شکار ہیں، پاکستان تو اس عذاب سے ہر روز گزر رہا ہے۔ پاکستان کا ہر شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔

کراچی جیسا روشنی اور روشن خیالی کا شہر قتل گاہ بن گیا ہے جہاں کے رہنے والے صبح گھروں سے نکلتے ہیں تو شام کو خیریت سے گھروں کو واپس آنے کی انھیں کوئی امید نہیں ہوتی۔ آج پاکستان جس عذاب سے گزر رہا ہے کل امریکا اور بھارت کو بھی اسی عذاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس خوف ناک حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو اور امریکا فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

آنے والے دنوں میں پیش آنے والی اس خطرناک صورت حال کا اندازہ ''قومی مفادات'' کے کنویں میں بند حکمرانوں کو شاید نہ ہو لیکن اگر بھارت اور امریکا میں دانش اور اہلِ دانش زندہ ہیں تو کم از کم انھیں ان خوف ناک حقائق کا ادراک ہونا چاہیے جن کا سامنا آج پاکستان کر رہا ہے، کل ساری دنیا کو کرنا پڑے گا۔ ہم حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ نہ ہندوستان کا اہلِ فکر، اہلِ قلم، اہلِ دانش اِس خوف ناک صورتِ حال کا سنجیدگی سے نوٹس لے رہا ہے نہ امریکا میں کوئی تھنک ٹینک اس مسئلے پر حقیقت پسندانہ انداز میں غور کر رہا ہے۔

اس کے برخلاف ہندوستان اپنی فوجی طاقت بڑھانے میں مصروف نظر آ رہا ہے اور امریکا اپنے عالمی مفادات کی فکر میں غلطاں نظر آ رہا ہے۔ بھارت، پاکستان، امریکا اور ساری دنیا کے عوام امن اور خوش حالی کے ساتھ زندہ رہنے کے خواہش مند ہیں تو پھر انھیں آگے بڑھ کر اپنی خواہشوں کے سامنے دیوار بنے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے حکمرانوں پر دبائو ڈالنا ہو گا۔

مقبول خبریں