افغان تعلقات اور بغاوت کی پالیسی

افغانستان اور پاکستان ایک عرصے سے ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگاتے آرہے ہیں


Zaheer Akhter Bedari October 06, 2015
[email protected]

BARA: افغانستان اور پاکستان ایک عرصے سے ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگاتے آرہے ہیں۔ پچھلے دنوں طالبان نے افغانستان کے ایک اہم شہرقندوز پر قبضہ کرلیا۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران الزام لگایا کہ قندوز پر طالبان کے قبضے میں پاکستان کا ہاتھ ہے ۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان سے افغانستان کے تعلقات ریاستی سطح پر ''برادرانہ نہیں دوستانہ ہیں'' دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کے لیے ایک بڑا مشترکہ خطرہ ہے۔ جب تک امن نہیں ہوگا دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بھی باقی رہیں گی پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنانا چاہیے۔

افغانستان کی دو اہم شخصیتوں عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کی طرف سے جس قسم کے الزامات کا اظہارکیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے افغان حکام کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کا یہ الزام غلط ہے کہ قندوز پر طالبان کے قبضے میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کے کسی حصے کا قبضہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان افغانستان وسیع تر تعاون پر یقین رکھتا ہے۔

ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا راستہ ترک کرنا چاہیے۔ سیکریٹری خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان عبداللہ عبداللہ کے الزام پر ردعمل کے بجائے تحمل سے کام لے گا۔پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ افغانستان کے تمام فریق مفاہمتی عمل بحال کریں، ضرب عضب کو کامیاب بنانے کے لیے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ جنرل راحیل نے کہا کہ مشکلات کے باوجود ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں پاکستان اس حوالے سے ' فریقین'' کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے انتہا پسندی کا خاتمہ ہر حال میں ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی ساری دنیا میں پھیل رہی ہے اور دہشت گردی کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے بڑی طاقتوں کے درمیان تنازعات سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کریں۔

ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں تاہم اپنے اطراف سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورت حال سے غافل نہیں رہ سکتے۔ پاک افغان تناؤ دونوں ملکوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات معطل ہوگئے ہیں پاکستان معطل شدہ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ اور کشیدگی دونوں ملکوں کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہیں کہ افغان حکومتیں دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں ہمیشہ نہ صرف رکاوٹ بنی رہی ہیں بلکہ تعلقات کی خرابی میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو افغانستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ افغان حکومتیں ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی دوستی کو ترجیح دیتی رہیں۔ اس پس منظر میں افغان صدر کا یہ تازہ بیان بڑے اسرار کا حامل ہے کہ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ''برادرانہ نہیں دوستانہ ہیں'' بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ افغان حکومتوں کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں بلکہ برادرانہ سے بڑھ کر رہے ہیں وہ حلقے جو مسلم ملکوں کو مذہب کے حوالے سے برادر ملک کہتے ہیں انھیں افغان صدر کے موقف کو اس پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ آج کی دنیا میں مختلف ملکوں کے درمیان تعلقات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے درمیان بھارت ہمیشہ منفی بلکہ مخالفانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔ جنرل اسمبلی میں نواز شریف کی تقریرکو بھارت بھر میں جارحانہ قرار دیا جا رہا ہے اور میڈیا چیخ رہا ہے کہ آج تک پاکستان کے کسی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے ایسی تقریر نہیں کی جیسی وزیر اعظم نواز شریف نے کی ہے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی تقریر کا 80 فیصد حصہ کشمیر کے حوالے سے ہے۔

بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا غالباً یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ نواز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کوئی الگ بات نہیں بلکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی بدلتی ہوئی جرأت مندانہ پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے بدلتی ہوئی پالیسی سے کافی پریشان ہے۔ ایک عالمی فورم پر کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کی حقیقت بیانی سے بین الاقوامی برادری میں بھارت کے امیج کو بڑا نقصان پہنچا ہے، جس کا ازالہ بھارت افغان حکمرانوں کی گمراہ کن تقاریر اور بیانات سے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عبداللہ عبداللہ اور افغان صدر کے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات اور خطے میں امن کی خواہش کا اظہارکرتی ہے لیکن عملاً اس خواہش کے خلاف اقدامات کرتی رہتی ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مذہبی انتہا پسندوں کے مخصوص دھڑوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے اور بوقت ضرورت انھیں استعمال بھی کرتی ہے دونوں ملکوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اسی سیاست کا ایک حصہ ہیں اور بھارت ہر وقت افغان حکمرانوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا آرہا ہے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام ہندوستان اور پاکستان کے مفادات کی روشنی میں حل نہیں ہوجاتا۔ یہ بات بھارتی قیادت اچھی طرح جانتی ہے لیکن اپنے نام نہاد قومی مفادات کے تحت وہ کشمیر پر اپنا قبضہ ضروری سمجھتی ہے۔

مقبول خبریں