تین سائنسدانوں کو نوبل انعام

پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام مل چکا ہے جب کہ ڈاکٹر عبدالسلام فزکس کا نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں


Editorial October 07, 2015
نوبل انعام صرف اس فرد کے لیے ہی باعث اعزاز نہیں ہوتا جو جیتتا ہے بلکہ یہ پوری قوم اور ملک کے لیے فخر کی بات ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: جاپان' چین اور آئرلینڈ کے تین حیاتیاتی سائنسدانوں کو مختلف بیماریوں کی ادویات کی تیاری میں کامیابی پر میڈیسن کے شعبے کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا گیا ہے ان تینوں کی عمریں اسی سال یا اس سے متجاوز ہیں جب کہ ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

چین سے تعلق رکھنے والی یویوتو اس شعبے میں نوبل انعام جیتنے والی 13ویں خاتون ہیں۔ تینوں کی تصاویر عالمی میڈیا کی زینت بنی ہیں۔ آئرلینڈ میں پیدا ہونے والے ولیم کیمبیل اور جاپان کے ستوشتی امورا کو ریور بلائنڈنس یا دریائی نابینائی کی دوا تیار کرنے پر نصف نصف نوبل انعام دیا گیا جب کہ چین کی خاتون سائنسدان نویویو کو ملیریا کی دوا پر یہ موقر نوبل انعام دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق غریب ملکوں میں رہنے والے ساڑھے تین ارب کے لگ بھگ لوگوں کو بیماریوں کا خطرہ ہے اس صورت میں علاج کے شعبے میں کام کرنے والے سائنسدان بیماروں کے مسیحا کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کی قبولیت کی سند کے طور پر انھیں نوبل انعام کا مستحق قرار دیا جاتا ہے جو صرف کاغذ پر چھپے ایک سرٹیفکیٹ کا نام ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہزارہا ڈالر کی رقم بھی منسلک ہوتی ہے۔

ولیم سی کیمبل اور ساتوشی اومورا نے خوردبینی جانوروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ علاج دریافت کیا' نوبل انعام کی شریک خاتون فاتح یویو تو ہیں' جنہوں نے ملیریا کے خلاف ایک نئی دوا ایجاد کی ہے۔یہ دوا اور طریقہ علاج دنیا میں رائج ہے۔ان طبی سائنسدانوں کی محنت کے باعث ہزاروں لوگ بیماریوں سے محفوظ ہو رہے ہیں۔عالمی میڈیا کے مطابق یویوتو کی تیار کردہ دوا سے صرف براعظم افریقہ میں ملیریا سے ہلاک ہونے والے ایک لاکھ لوگوں کی زندگی بچائی جا رہی ہے۔ نوبل انعام صرف اس فرد کے لیے ہی باعث اعزاز نہیں ہوتا جو جیتتا ہے بلکہ یہ پوری قوم اور ملک کے لیے فخر کی بات ہوتی ہے۔

خصوصاً علم و ادب اور سائنسی تحقیق کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات اپنے وطن کی شناخت بن جاتے ہیں ۔پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ سائنس کے میدان میں زیادہ سے زیادہ کام کرے اور اپنے سائنسدانوں اور اہل علم کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ بھی دنیا میں طب' کیمیا' فزکس اور ان جیسے دیگر سائنسی شعبوں میں نوبل انعام جیت سکیں اور پھر وطن عزیز میں کام کر سکیں ۔

پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام مل چکا ہے جب کہ ڈاکٹر عبدالسلام فزکس کا نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں لیکن ابھی پاکستان کو بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں اور علمی تحقیق کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جانے چاہئیںتاکہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو سکے جہاں علم و تحقیق پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔