سب کا احتساب

مانتا ہوں سیاست دانوں نے کرپشن کی ۔ سول و ملٹری بیوروکریسی بھی صاف شفاف نہیں


Dr Tauseef Ahmed Khan October 07, 2015
[email protected]

مانتا ہوں سیاست دانوں نے کرپشن کی ۔ سول و ملٹری بیوروکریسی بھی صاف شفاف نہیں۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کوئی مقدس گائے نہیں ۔تسلیم کرتاہوں کہ پیپلز پارٹی میں بھی کرپٹ لوگ ہیں۔

خصوصی عدالتیں سب کے لیے ہونی چاہئیں۔کرپشن کا خاتمہ قانون کے دائرے میں رہ کرکرنا ہو گا۔ سینیٹ کے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے اردو یونیورسٹی میں مزدور کسان پارٹی کے سربراہ فتحیاب علی خان کی یاد میں ہونے والے اردو مباحثے میں صدارتی خطبے میں یہ سب کچھ ارشاد فرمایا۔ اگرچہ رضا ربانی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں میں شامل نہیں ہیں انھیں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کا سینئر رکن ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سینیٹ کا چیئرپرسن نہیں بنایا گیا اور آصف زرداری نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا مگر رضا ربانی کا یہ خطاب اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان میں احتساب اورکرپشن کا معاملہ بہت گھمبیر رہا ہے۔ بانی پاکستان محمدعلی جناح نے 11اگست 1947کو امن ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپنی پالیسی تقریرمیں نئی ریاست کے خدوخال بیان کرنے کے علاوہ کرپشن کے خطرناک رحجان کی نشاندہی کی تھی مگر کسی بھی حکومت نے کرپشن کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات نہیں کیے، ہمیشہ سیاست دانوں کے احتساب پر زور دیا گیا۔ سول وملٹری بیوروکریسی کو احتساب سے مبرا قرار دیا گیا۔

پاکستان کے قیام کے چند سالوں بعد مخالف سیاست دانوں کو ایک امتناعی قانون کے تحت سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی، جنرل ایوب خان کے دور میں کرپشن کے الزامات پرسیاست دانوں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ یہ معاملہ صرف کرپشن تک محدود نہیں رہا ایوب خان کی مخالفت کرنے والے سیاست دانوں کو ملک دشمن قرار دے کر پابند سلاسل کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مخالف سیاست دانوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔

نظام حکومت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپشن برطانوی نو آبادیاتی نظام کی دین ہے۔ ہندوستان میں قابض برطانوی حکمران راجاؤں، مہاراجوں نوابوں اور امراء کو غیر قانونی مراعات دیتے تھے جو لوگ برطانوی حکومت کی توسیع اور عوامی مزاحمت کو ختم کرنے میں مدد دیتے تھے، ان کی غیرقانونی کارروائیوں کو نظر اندازکردیا جاتا تھا ۔

قیام پاکستان کے بعد کرپشن کا دائرہ بڑھ گیا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں کرپشن کو ادارے کی شکل دی گئی ، جنرل ایوب خان ان کے بیٹے گوہر ایوب اور اختر ایوب فوج میں ملازم تھے۔ ایوب خان کے صدر بننے کے بعد یہ دونوں بیٹے فوج سے مستعفی ہوئے اور صنعتکار بن گئے مگرکچھ برسوں بعد ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحسن نے ملک کی دولت کے اجارہ دار22 خاندانوں کی فہرست شایع کی تو اس فہرست میں ایوب خان کا خاندان شامل تھا۔

303بیوروکریٹس کوکرپشن کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا۔ بھٹو صاحب نے 1300افسران کو کرپشن ناجائز دولت کمانے اور پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے پر ملازمتوں سے برطرف کیا۔ ان افسروں کو اپنے اوپر عائد الزامات کا علم نہیں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کے جن وزراء اورملازمین کے خلاف مقدمات چلے ان میں سے بیشتر عدالتوں سے بری ہو گئے۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر سب سے زیادہ کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری 10سال کے قریب جیل میں اس مقصد سے رہے کہ ان پرکرپشن کے بہت سے ریفرنس تھے، ان میں سے کئی مقدمات ختم ہوئے،کچھ این آر او کے تحت ختم ہوئے اورکچھ اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ بے نظیر بھٹو اورآصف زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں جو مقدمات درج تھے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سخت نوٹس لیا ۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سوئٹزرلینڈ کی عدالت کو سپریم کورٹ کے حکم پر خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کی سزا ہوئی بعد میں دوسرے وزیر اعظم پرویز اشرف نے یہ خط لکھا۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات داخل ہوئے۔اس طرح کی خبریں بے نظیر بھٹو کے سرے محل کے حوالے سے بھی شایع ہوئی تھیں مگر ان رہنماؤں نے ان خبروں کی سخت تردید کی تھی مگرکسی نے برطانیہ کے ہتک عزت کے قانون کی مدد نہیں لی اورکوئی مقدمہ دائر نہیں کیا۔

جب میاں نواز شریف کو جلاوطن ہونا پڑا تو پرویز مشرف حکومت سے معاہدے میں ان کے خلاف بدعنوانی کے تمام مقدمات کا خاتمہ شامل تھا مگر کسی فوجی حکمراں کا احتساب نہیں ہوا۔

جنرل ضیاء الحق کے بعض قریبی ساتھیوں پر پیسے کمانے کے الزامات لگے۔ موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کی تو طوفان کھڑا ہوگیا۔ اب تک 3 سے 4 ریٹائرڈ فوجی افسروں کو بدعنوانی کے الزام میں سزا ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کی قصور یہ ہے کہ اپنے دور میں جامعہ احتساب کا قانون نہیں بنایا نہ اطلاعات کے حصول کے قوانین کو بہتر کیا گیا۔ رضا ربانی کا اپنی جماعت کے رہنماؤں کی بدعنوانی کا اقرار اچھی علامت ہے۔ ان کی قیادت کو بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب میں رکاوٹ نہ بنایا جائے مگر ربانی کی یہ بات وزن رکھتی ہے کہ سب کا احتساب ہونا چاہیے۔