بجٹ خسارہ کیا نجکاری ہی واحد حل ہے

کیپکو کے 40 فیصد اور پی آئی اے کے 26 فیصد شیئرز جون 2016ء تک فروخت کردیے جائیں گے


Editorial October 08, 2015
کیپکو کے 40 فیصد اور پی آئی اے کے 26 فیصد شیئرز جون 2016ء تک فروخت کردیے جائیں گے، فوٹو:فائل

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام رہی ہے جب کہ بجٹ خسارے پر غلط بیانی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں کئی مضمرات پوشیدہ ہیں لیکن تشویش ناک پہلو اہم قومی اداروں کی نجکاری سے متعلق ٹائم فریم کا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستانی معیشت کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹائم ٹیبل کے تحت اسٹیل ملز کی نجکاری مارچ 2016ء تک کردی جائے گی جب کہ کیپکو کے 40 فیصد اور پی آئی اے کے 26 فیصد شیئرز جون 2016ء تک فروخت کردیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مندرجات میں بتایا گیا ہے کہ جون 2015کے بعد سے پاکستان مقداری کارکردگی اور 3 اشاری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جو اہداف جون 2015ء کے بعد حاصل نہ ہوسکے ان کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ان میں ایک مالیاتی خسارہ اور حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے قرض گیری کا ہدف ہے، دوسرا وفاقی ٹیکس آمدن کا ہدف پورا نہ ہوسکا، سماجی شعبوں میں نقد رقوم کی منتقلی کا ہدف بھی حاصل نہ ہوسکا جب کہ بجلی کے شعبے کے بقایا جات کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔ آئی ایم ایف پاکستان مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر نے واشنگٹن سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پاکستان کے بجٹ خسارے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جون 2015 ء کے بعد کا پاکستان کا بجٹ خسارہ 5.3 فیصد سے بڑھ کر جی ڈی پی کا 5.4 فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے اعداد و شمار میں کسی ہیرپھیر کا کوئی مناسب ثبوت دیے بغیر یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اپنے فراہم کردہ ڈیٹا کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے اہم قومی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے پہلے بھی اعتراضات منظر عام پر آتے رہے ہیں اور مقامی لوگ نجکاری کے بعد ہونے والے نقصانات سے بھی آگاہ ہیں، بلاشبہ زوال پذیر اور نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کا مقصد ان کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کو سہولیات بہم پہنچانا ہوتا ہے لیکن ماضی میں دیگر اداروں کو قومیانے کے منفی نتائج عوام میں نجکاری کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔

نیز وہ اہم ادارے جو ماضی میں بے مثال ریونیو دینے کا ریکارڈ رکھتے ہیں، اچانک ان کا زوال اور خرابی کے محرکات کو دور کرنے کے بجائے کیا ان کی نجکاری ہی واحد حل ہے؟ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے دیگر عوامل کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، نیز ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس چوروں کی پکڑ سے معاملات پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔