اپٹما نے بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

مقامی تجارت بھارتی مصنوعات کی یرغمال بن گئی،فیکٹریاں بنداوربیروزگاری بڑھ رہی ہے،چیئرمین اپٹما


Business Reporter October 08, 2015
بھارت ڈیوٹیاں لگا کرپاکستان کیلیے یکساں مواقع میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، روئی، یارن،کپڑے سمیت انڈین ٹیکسٹائل مصنوعات کومنفی فہرست میں ڈالا جائے،طارق سعود فوٹو: فائل

MULTAN: ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ملک میں وسیع پیمانے پرہونے والی درآمدات کے پیش نظر بھارتی روئی، دھاگے، کپڑے اور ملبوسات کو ممنوع درآمدات کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اس حوالے سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے بدھ کو منعقدہ ہنگامی اجلاس میں ملک بھر کے رکن صنعت کاروں کے دباؤ پر اپٹماکے چیئرمین طارق سعود نے بھارتی کاٹن اور سینتھٹک ٹیکسٹائل مصنوعات بشمول یارن، فیبرک و گارمنٹس کو منفی فہرست میں شامل کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی غیرمعمولی درآمدات اور اسمگلنگ نے ٹیکسٹائل صنعت میں بحران پیدا کردیا ہے، مقامی تجارت بھارتی مصنوعات کی یرغمال بن گئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں فیکٹریاں بند اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔

طارق سعود نے صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ بھارتی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پاکستانی مقامی تجارت میں مداخلت ہے، سرمائی پیداواری سیزن شروع ہونے والا ہے اس لیے بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی ڈمپنگ پر فوری کارروائی ضروری ہے۔

انھوں نے کہاکہ بھارت اپنی ٹیکسٹائل صنعت کو تحفظ فراہم کررہا ہے اور صرف پاکستان کو ہدف بناتے ہوئے ڈیوٹیاں لگا کر یکساں مواقع کے میدان میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، اسی لیے پاکستانی مصنوعات کو بھارت میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، بھارت کے ساتھ تجارت کی خاطر حکومت کو پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے یکساں مواقع کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ چیئرمین اپٹما نے کہاکہ پاکستانی صنعتیں ڈیوٹیوں کی بلند شرح اور نان ٹیرف بیریئرز کی وجہ سے بھارت کو اشیا فروخت نہیں کرسکتیں۔

علاوہ ازیں اپٹما پنجاب کے چیئرمین عامر فیاض نے کہاکہ بھارت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نقصان پہنچا کر پاکستان کے خلاف اقتصادی جنگ لڑ رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ اقتصادی پالیسی ساز صورتحال کو سنجیدگی سے لیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کے لیے فوری مناسب اقدامات کریں۔