سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور پاکستانی مفادات

پاکستان توانائی کے جاری بحران سے نمٹنے کے لیے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بھی کوشاں ہے


Editorial October 09, 2015
پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کیا تو اس کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، فوٹو : فائل

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان سول نیو کلیئر معاہدے کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں، وائٹ ہاؤس جس چیز پر کام کر رہا ہے وہ ایک بڑا سفارتی دھماکا ہو سکتا ہے اور اس کے ذریعے ممکنہ طور پر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور اس کے استعمال کو نئی حدود میں لایا جا سکتا ہے۔

اخبار ذرایع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان کو نئی حدود ''بریکٹس'' کے بارے میں غور کرنے کا مشورہ دیا گیا تاہم رپورٹ میں اس امکان کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات سست روی کا شکار ہوں گے کیونکہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کو ایک اعزاز سمجھتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اس پروگرام کو نئی حدود میں لانے پر راضی نہ ہو۔ اخبار کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے رواں ماہ دورہ امریکا سے قبل رازداری سے اس معاملے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

نواز شریف 22 اکتوبر کو امریکا جائیں گے۔ پاکستان کے ساتھ جوہری معاملات پر مذاکرات امریکا کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے امریکا پاکستانی جوہری پروگرام کو دنیا کا خطرناک ترین سیکیورٹی مسئلہ قرار دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام جنوبی ایشیا میں سلامتی و سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے اور یہ صورتحال پاکستان کو پابند بناتی ہے کہ وہ مکمل دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ایک ذمے دار جوہری ملک ہونے کے ناتے پاکستان امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ جوہری استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل پر سرگرمی سے بات چیت کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق 9 ستمبر کو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ملک کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اور نگران ادارے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں بھی اس پالیسی پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا گیا تھا۔

پاکستان توانائی کے جاری بحران سے نمٹنے کے لیے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بھی کوشاں ہے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو بااحسن پورا کر سکے۔ امریکا نے 2005ء میں بھارت کے ساتھ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا تب پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ایک اہم اتحادی ہونے کے ناتے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا جائے مگر امریکا نے ایسا نہ کیا، اب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اپنے ذرایع کے حوالے سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے پر مذاکرات ہو رہے ہیں مگر یہ معاہدہ مشروط طور پر ہو گا اور جب پاکستان امریکا کی پیش کردہ شرائط کو پورا کرے گا تو اسی صورت میں اسے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی دی جائے گی لیکن اس کے ساتھ ہی اخبار اس خدشے کا بھی اظہار کرتا ہے کہ پاکستان سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی قسم کی پابندیوں کو قبول نہیں کرے گا۔

اخبار کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر اپنے نیوکلیئر پروگرام اور اس کے استعمال کو اپنی اصل دفاعی ضروریات یعنی بھارت کے خلاف استعمال تک محدود کر سکتا ہے، پاکستان ایک مقررہ فاصلے سے زیادہ دور تک مار کرنے والے میزائل نصب نہ کرنے پر راضی ہو سکتا ہے اس کے بدلے میں اسے 48 رکنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے امریکی حمایت مل سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ہے یہ امریکا سمیت بھارت کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اور ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کر دیا جائے۔

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکا اور دیگر عالمی قوتوں نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے سب سے زیادہ خطرے کا واویلا بھارت مچا رہا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو وہ ردعمل میں ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے جس سے اس کے متعدد شہر تباہ و برباد ہو جائیں گے لہٰذا یہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہی ہے جس نے بھارت کو اپنے جارحانہ عزائم سے باز رکھا ہوا ہے۔

پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کیا تو اس کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی اور بھارت جو ایک بڑی ایٹمی قوت ہے خطے میں اس کی بالادستی قائم ہو جائے گی جسے پاکستان کسی بھی صورت قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔

جہاں تک سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا تعلق ہے تو پاکستان اسے چین سمیت دیگر ممالک سے بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا۔ بہر حال اگر امریکا پاکستان کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرنا چاہے تو یہ معاہدہ کرتے وقت پاکستان کو اپنے مفادات کو سامنے رکھنا چاہیے' اگر امریکا بھارت کے ساتھ ایسا معاہدہ کر سکتا ہے جس میں بھارتی ایٹمی ہتھیار بھی موجود رہیں اور سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ بھی ہو تو پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔