سندھ سیناریو پولیس رینجرز اشتراک عمل ناگزیر

اس انتظامی بدمزگی کےپس پردہ ایسےعناصر سرگرم عمل ہو سکتے ہیں جنہیں رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن سے خاصی پریشانی ہے


Editorial October 09, 2015
کراچی اس داخلی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا جب کہ دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور اس قسم کی انتظامی تقسیم سے جو فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ میں رینجرز مخالف اشتہارات کی اشاعت کے بعد پولیس نے آیندہ کے لیے اشتہارات کی اشاعت کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ پولیس ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آیندہ پولیس کے جو اشتہارات اشاعت کے لیے محکمہ اطلاعات کو اعلیٰ پولیس افسر کے دستخطوں اور کوورنگ خط کے ساتھ سے بھیجے جائیں گے۔

اس کے بعد ہی یہ خط محکمہ اطلاعات کو بھیجا جائے گا اور پھر یہ اشتہار شایع ہو سکے گا۔ بادی النظر میں یہ تبدیلی یا حکمت عملی سندھ رینجرز کے شدید رد عمل کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے جس کے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں گمشدہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے اخبارات میں چھپنے والے اشتہار کے مندرجات قطعی طور پر جھوٹ پر مبنی ہیں جن کا مقصد عوام کی نظروں میں رینجرز کی اعلیٰ کارکردگی کو گرانا اور کراچی آپریشن کو نقصان پہنچانا ہے جب کہ پاکستان رینجرز کے مطابق وہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

حقیقت میں اس انتظامی بدمزگی کے پس پردہ ایسے عناصر سرگرم عمل ہو سکتے ہیں جنہیں رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن سے خاصی پریشانی ہے، تاہم اس پورے تنازع میں پولیس اور رینجرز کے مابین بدگمانی، تلخی اور کشیدگی پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کو سختی سے کچل دینا لازمی ہے، شہر قائد کو امن، انصاف، ترقی اور بھائی چارہ کی ضرورت ہے، جہاں تک مسئلہ کی نوعیت کا تعلق ہے وہ تفتیش کی غرض سے اٹھائے جانے یا لاپتہ کیے جانے والے افراد سے ان کے متعلقین کی یقینی رسائی کا ہے کہ وہ کس تھانے یا رینجرز کے کس زون میں موجود ہیں تا کہ لواحقین کو تسلی ہو، جب کہ رینجرز کو 90 روز تک کسی بھی مشکوک یا کسی جرم میں ملوث فرد کو تحویل میں رکھنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

اشتہار بازی سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گیا ہے، اس مسئلہ کو حل کرنا وزیر اعلیٰ، گورنر سندھ اور ڈی جی رینجرز کی ذمے داری ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز کے حوالے سے اشتہار رینجرز اور پولیس کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہے اور ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی، کراچی میں قیام امن کے لیے دونوں اداروں کی خدمات قابل ستائش ہیں۔

اس متنازعہ اشتہار کی اشاعت پر ایک پولیس افسر کو معطل کر دیاگیا ہے۔ سندھ حکومت کے لیے صائب تجویز یہی ہے کہ وہ تنازع کے تمام فریقوں میں مفاہمت کی فضا بحال کرے، کراچی اس داخلی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا جب کہ دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور اس قسم کی انتظامی تقسیم سے جو فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس سے غفلت بھی نہیں برتی جا سکتی۔ کراچی میں پولیس، رینجرز اشتراک عمل ناگزیر ہے۔