ایک اور بھارتی شرارت

بھارتی حکام نے واہگہ اسٹیشن پر ٹرین گزرنے کے لیے دروازے نہ کھولے اور ٹرین منسوخ کرنے کا پیغام دیدیا


Editorial October 10, 2015
بھارتی حکومت نے اب سمجھوتہ ٹرین روکی ہے،آگے آگے دیکھیے وہ مزید کیا گل کھلاتی ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے بجائے آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑتا رہتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اب اس نے جمعرات کو پاکستان سے روانہ ہونے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو اٹاری ریلوے اسٹیشن پر روک دیا اور ریلوے اسٹیشن کے گیٹ بند کر دیے۔

اخباری خبروں کے مطابق ہاٹ لائن پر اٹاری ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر نے واہگہ ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر کو بتایا کہ بھارت میں کسان ریلوے ٹریک پر احتجاج کررہے ہیں اور مسافروں پر حملے کا خدشہ ہے اس لیے جمعرات کو سمجھوتہ ایکسپریس بھارت نہ بھیجی جائے، سمجھوتہ ایکسپرس کے مسافر 7گھنٹے تک واہگہ ریلوے اسٹیشن پر بھارت سے کلیئرنس کا انتظار کرتے رہے، ٹرین میں سوار مسافرپریشان رہے۔

بھارتی حکام نے واہگہ اسٹیشن پر ٹرین گزرنے کے لیے دروازے نہ کھولے اور ٹرین منسوخ کرنے کا پیغام دیدیا، 7 گھنٹے طویل انتظار کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس کو واہگہ ریلوے اسٹیشن سے لاہور اسٹیشن واپس لایا گیا۔ سجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے بھارت اور پاکستان کے عام لوگ سفر کرتے ہیں اور یہ ٹرین ہفتے میں دو روز سوموار اور جمعرات کو لاہور ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوکر واہگہ ریلوے اسٹیشن کے راستے اٹاری (بھارت) جاتی ہے۔

یہ ٹرین اب پیر کو نئی دہلی کے لیے روانہ ہو گی۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی مسافروں کو سمجھوتہ ایکسپریس پرسوار ہونے سے روکنے کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے، جس کے بعد ردعمل دیں گے۔

جب سے بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آئی ہے تب سے پاکستان کے خلاف اس کا تعصب سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ،کبھی وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو زک پہنچانے کے لیے عالمی سطح پر سازشوں کے جال بنتی ہے تو کبھی ٹرین روک کر پاکستانی مسافروں کا بھارت میں داخلہ بند کر دیتی ہے۔

بھارتی نیوز چینل کے ایک سینئر ایڈیٹر جوتی کمل کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب میں کسانوں کے مظاہرے اور احتجاج جاری ہیں جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت تاخیر کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق اٹاری ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے باعث کسان ٹرین پر پتھراؤ کے علاوہ اسے آگ لگا سکتے ہیں۔ بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کا موقف ہے کہ اگر پاکستانی مسافروں کو لایا گیا تو انھیں دہلی تک جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت میں کسان لینڈ ریفارم کے لیے مظاہرے کافی دنوں سے کر رہے ہیں اس دوران تو بھارتی حکام نے سمجھوتہ ایکسپریس کو بھارت میں داخل ہونے سے نہیں روکا، اب آخر ایسی کیا افتاد آ پڑی کہ بھارتی حکومت نے سمجھوتہ ایکسپریس کو روک لیا۔

اطلاعات کے مطابق سمجھوتہ ایکسپریس واہگہ ریلوے اسٹیشن سے بھارت کے لیے نکلنے والی تھی کہ بھارتی حکام کا پاکستان ریلوے حکام کو ٹرین روکنے کا پیغام آ گیا۔ پاکستان اور بھارتی حکام میں بات چیت اور بھارتی گرین سگنل ملنے پر ٹرین دوبارہ بھارت روانہ ہوئی تاہم واہگہ بارڈر پہنچنے پر بھارتی حکام نے گیٹ نہ کھولے جس پر ٹرین کا رخ واپس لاہور کو موڑ دیا گیا۔

بھارتی کسانوں نے مظاہروں کے پروگرام کا اعلان تو پہلے ہی سے کر رکھا ہے اور بھارتی حکومت کو بھی ان کے شیڈول کا بخوبی علم تھا آخر اس نے عین اسی وقت ہی سمجھوتہ ایکسپریس کو روکنے کا پیغام کیوں دیا جب وہ واہگہ ریلوے اسٹیشن سے بھارت روانہ ہونے والی تھی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کی نیت میں کوئی فتور تھا ورنہ وہ ایک روز قبل بھی پاکستانی حکام کو صورتحال سے آگاہ کر سکتی تھی۔

پاکستان تو تمام تر بھارتی سازشوں اور پراپیگنڈے کے باوجود اس سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا رہتا ہے مگر فریق مخالف کی جانب سے پھول کے جواب میں مسلسل سنگ پھینکے جا رہے ہیں۔پوری دنیا پر یہ عیاں ہو چکا ہے بھارتی حکومت پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے میں مصروف ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تشدد نہیں امن چاہتا ہے،ہم نے بھارت پر الزامات نہیں لگائے بلکہ اقوام متحدہ میں اس کے خلاف ثبوت فراہم کیے جن پر غور کیے جانے کی توقع ہے، عالمی برادری کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے آپس کے تعلقات بہتر ہوں، پاکستان کی بھی یہی خواہش ہے۔

مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ جب تک مودی سرکار موجود ہے پاکستان کے بھارت سے تعلقات بہتر ہونے کی امید نہیں کیونکہ انتہا پسند ہندو پاکستان کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر نریندر مودی نے ان کی خواہشات کے برعکس پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تو انھیں انتہا پسند ہندوؤں کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے جس سے ان کی حکومت کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بھارتی حکومت نے اب سمجھوتہ ٹرین روکی ہے،آگے آگے دیکھیے وہ مزید کیا گل کھلاتی ہے۔