انگلینڈ کیخلاف سیریز پاکستان کے لیے دہرا محاذ

حریف ٹیم اور میڈیا دونوں کے مقابل سرخرو ہونے کا چیلنج درپیش


Saleem Khaliq October 11, 2015
حریف ٹیم اور میڈیا دونوں کے مقابل سرخرو ہونے کا چیلنج درپیش ۔ فوٹو : فائل

SHIKARPUR: انگلینڈ سے سیریز جب بھی ہو دل میں دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہ کہیں کوئی بری خبر نہ آ جائے، پاکستانی ٹیم کو بھی 2 محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے، فیلڈ میں حریف کھلاڑی تو باہر برطانوی میڈیا کے حملوں سے نمٹنا چیلنج ہوتا ہے۔

اسپاٹ فکسنگ کیس کے بعد تو اب پاکستانی کھلاڑیوں کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے چاہئیں، گوکہ وہ واقعہ لندن میں ہوا تھا مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنوبی افریقہ سے سیریز کے دوران یو اے ای سے ہی ذوالقرنین حیدر غائب ہو گئے تھے، بعد میں انھوں نے اس کی وجہ سٹے بازوں کی دھمکیوں کو قرار دے کر برطانیہ میں پناہ حاصل کرنا چاہی تھی،حال ہی میں اسپاٹ فکسرز عامر، سلمان اور آصف پر پابندی ختم ہوئی، معاملہ گرم ہونے کی وجہ سے برطانوی میڈیا ضرور اسے اچھالے گا۔

اس لیے ٹیم مینجمنٹ کو خاصا محتاط رہنے کی ضرورت ہے، افسوس کہ اس اہم سیریز میں پاکستان کو نوید اکرم چیمہ جیسے سخت منتظم کا ساتھ حاصل نہیں ہے، وہ ایک اور اہم ذمہ داری کے لیے منیجر کی پوسٹ چھوڑ چکے، اب یہ شعبہ انتخاب عالم نے سنبھالا ہوا ہے مگر وہ اتنی سختی نہیں کر پا رہے، اس کا ثبوت پابندی کے باوجود پلیئرز کی جانب سے سوشل میڈیا کا کھلا استعمال ہے، انھیں اس کا خیال رکھنا چاہیے بصورت دیگر کوئی اور تنازع ٹیم کا منتظر ہوگا،ویسے بھی انگلینڈ سے صحافیوں کی بڑی تعداد یو اے ای آ رہی ہے، ان میں سے کئی منفی خبروں کی تلاش میں بھی ہوں گے،اب یہ انتخاب عالم پر ہے کہ وہ کیسے ڈسپلن کی پابندی کراتے ہیں۔

جس طرح پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کی سیمنگ وکٹوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ویسے ہی یو اے ای کی اسپن پچز پر انگلش بیٹسمین بھی جدوجہد کرتے ہیں، گذشتہ سیریز میں سعید اجمل کی آف اسپن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا، انھوں نے عبدالرحمان کے ساتھ مل کر 43 وکٹیں حاصل کیں جس کی وجہ سے حریف کوکلین سویپ کی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس بار یہ دونوں ٹیم میں شامل نہیں، مگرپاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اسے یاسر شاہ کی صورت میں ایک اور بہترین سلو بولر مل گیا، وہ اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکے اور مہمان ٹیم کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوں گے۔

مدد کے لیے ذوالفقار بابر بھی موجود ہوں گے، ایسے میں ایک بار پھر اسپن پچز بنا کر انگلش خامیوں کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، مہمان ٹیم کے پاس یاسر جیسا کوئی ورلڈکلاس اسپنر موجود نہیں، ان کی توقعات کا محور معین علی ہوں گے، لیگ اسپنر عادل راشد کا بھی27سال کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو متوقع ہے، وہ گذشتہ 6برس سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں، پاکستانی بیٹسمین روایتی طور پر اسپن بولنگ کا اعتماد سے سامنا کرتے ہیں اس لیے انھیں ان دونوں کو کھیلنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آنی چاہیے، سلیکٹرز نے بطور 16 واں کھلاڑی شعیب ملک کو بھی اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔

انھوں نے آخری بار اگست 2010میں کوئی ٹیسٹ کھیلا تھا، مگر ون ڈے کرکٹ سے 2 سالہ دوری ختم ہونے کے بعد شعیب بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں، وہ 100 کی اوسط سے 500 رنز بنا چکے،اسی کے ساتھ جب بھی کپتان نے انھیں گیند تھمائی مایوس نہ کیا، ایسے کھلاڑی کو موقع دینا درست فیصلہ ہے، شعیب مڈل آرڈر میں بیٹنگ کو عمدگی سے سنبھال رہے ہیں، ٹیسٹ میں شاید انھیں نچلے نمبر پر کھیلنے کا موقع ملے مگر ٹیم میں طویل عرصے سے جینوئن آل راؤنڈرز کی کمی پوری ہو جائے گی۔

محمد حفیظ کی بولنگ پر پابندی سے ویسے ہی پاکستان مسائل کا شکار تھا مگر اب کافی حد تک مدد ملے گی، قسمت جب روٹھے تو مسائل کی بھرمار ہو جاتی ہے، حفیظ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، وہ ایک سال تک بولنگ نہیں کر سکتے مگر اب بیٹ بھی ساتھ چھوڑ رہا ہے، ان کی ٹیم میں پوزیشن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے، انگلینڈ سے سیریز مستقبل کا تعین کرے گی، البتہ حفیظ انتہائی محنتی اور فائٹر کرکٹر ہیں، وہ فارم میں واپسی کے لیے بیحد کوششیں کر رہے ہیں اور اگر انگلینڈ کیخلاف سیریز میں ان کی کوئی بڑی اننگز سامنے آئی تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔

اسی طرح احمد شہزاد کے لیے بھی زمبابوے کا دورہ اچھا نہ رہا مگر وہ بھی اس کا ازالہ یو اے ای میں کرنے کے لیے بے چین ہیں، ٹیم کو نوجوان شان مسعود کا ساتھ بھی حاصل ہے جو ٹیم میں جیسے بھی شامل ہوئے مگر اب آہستہ آہستہ سیٹ ہو رہے ہیں، نائب کپتان اظہر علی کی فٹنس پر سوالیہ نشان برقرار ہے، وہ پاؤں میں انفیکشن کے سبب زمبابوے سے تیسرا ون ڈے نہیں کھیل سکے تھے، اب بھی پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ ٹریننگ سے محروم ہیں،اگر وہ نہ کھیلے تو اس کا فائدہ حفیظ کو ہو گا اور پلیئنگ الیون میں انھیں شامل نہ کرنے کا خطرہ ٹل جائے گا،کپتان مصباح الحق عندیہ دے چکے کہ یہ ان کی آخری سیریز ہے، یقیناً41 برس کی عمر میں ان کا جسم ساتھ دینے سے انکار کر رہا ہو گا، اب وقت آ گیا کہ انھیں نوجوانوں کے لیے جگہ خالی کر دینی چاہیے، وہ فتح کے ساتھ کیریئر کا اختتام کریں تو اس سے اچھی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

انگلینڈ سے سیریز یونس خان کے لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، انھیں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز کا میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے محض 19رنز درکار ہیں،توقع ہے کہ ابوظبی ٹیسٹ میں ہی وہ یہ اعزاز حاصل کر لیں گے، ان جیسے کھلاڑی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں، بورڈ کو ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے، یونس کی خاص بات ان کا ٹیم کے لیے مخلص ہونا ہے، انھوں نے کبھی دولت کو ترجیح نہیں دی اور ملک کے لیے خدمات انجام دیتے رہے۔

بورڈ کو بھی چاہیے کہ ان کی بھرپور انداز میں ستائش کرے، یہاں ذاکر خان اور انتخاب عالم جیسے آفیشلزبرطرف ہونے کے باوجود ماہانہ سوا 4 لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں، ایسے میں یونس خان جیسا پلیئر جس نے ٹیم کے لیے بے انتہا خدمات انجام دیں اس کو بڑے مالی انعام اور گولڈ میڈل سے تو نوازنا چاہیے، جہاں سپر لیگ پر اربوں روپے بہائے جا رہے ہیں وہاں کچھ رقم اپنے کھلاڑی کو دینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔

اگر بورڈ قومی ہیروز کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو نوجوانوں کو بھی ملک کے لیے کچھ کر دکھانے کی تحریک ملے گی۔ انگلینڈ سے سیریز میں یونس اور مصباح ہی پاکستانی بیٹنگ کا بوجھ سنبھالیں گے، سرفراز احمد بھی عمدہ فارم میں ہیں، اسکواڈ میں اسد شفیق اور فواد عالم جیسے باصلاحیت پلیئرز بھی موجود ہوں گے، فواد کو اچھی کارکردگی کے باوجود کوچ وقار یونس کی گڈ بکس میں نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا، اب بھی وہ اسکواڈ میں تو شامل ہو گئے مگر شاید ہی میدان میں اترنے کا موقع مل سکے، بس دبئی میں شاپنگ کر کے ہی واپس آنا پڑے گا، وقار یونس کے 2 چہرے ہیں۔

ایک 90 کی دہائی والا سپر اسٹار اور ایک موجودہ کوچ، جب ماضی کا سپراسٹار حاوی ہو تو وہ بڑوں بڑوں کی بات نہیں سنتے، اسی وجہ سے سرفراز احمد کو ڈراپ کرنے جیسے تنازعات سامنے آتے ہیں، کوچ کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر ملک کے لیے سوچنا چاہیے، انھوں نے مصباح الحق کے ساتھ مل کر ون ڈے ٹیم کا جو بیڑا غرق کیا وہ سب کے سامنے ہے، اب ٹیسٹ ٹیم میں ایسے تجربات سے گریز کرنا ہو گا جس سے توازن خراب ہو۔ حالیہ ٹور میں فاسٹ بولنگ پاکستان کا کمزور پہلو دکھائی دیتی ہے، وہاب ریاض، عمران خان، راحت علی اور جنید خان کو حریف بیٹسمینوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی، انگلش ٹیم نے گوکہ ایشز سیریز میں فتح حاصل کی مگر یو اے ای میں اسے قطعی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

ٹھنڈے موسم سے وہاں کی سخت گرمی میں آ کرویسے ہی پلیئرز کے پسینے چھوٹ چکے، ابتدائی دونوں وارم اپ میچز میں کارکردگی بھی اچھی نہ رہی، ڈراپ کیچز پر مینجمنٹ تشویش کا اظہار کر چکی، کپتان الیسٹر کک کا اوپننگ پارٹنر تلاش کرنا بھی درد سر بنا ہوا ہے،البتہ بطور بیٹنگ مشیر سابق سری لنکن اسٹار مہیلا جے وردنے کا ساتھ حاصل ہونے سے ٹیم کو فائدہ ہو گا، وہ یو اے ای کی پچز پر پاکستانی بولرز سے نمٹنے کے طریقہ کار سے بیٹسمینوں کو آگاہی فراہم کر سکتے ہیں، اب وہ اس سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں یہ انہی پر منحصر ہوگا۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو فتح کااچھا موقع مل چکا، ابتدا ہی سے حریف پر حاوی ہو کر اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ ہر بار انگلش سیریز میں تنازعات ضرور ہوتے ہیں بورڈ نے یہ جانتے ہوئے بھی کسی میڈیا منیجر کو یو اے ای نہیں بھیجا تھا،10 رکنی ٹیم مینجمنٹ بھیجی جاسکتی تھی تو ایک میڈیا منیجر کیوں نہیں؟خیر دیر آید درست آید آغااکبر یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے یو اے ای پہنچ چکے ہیں جو کہ ایک بہتر اقدام ہے۔

ویسے پی سی بی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے معاملات اب بھی ابتری کا شکار ہیں، سب جانتے ہیں کہ اخبارات کا اسٹاف شام کو کام کا آغاز کرتا ہے، ٹی وی چینلز کا پرائم ٹائم بھی وہی ہوتا ہے،لیکن اگر آپ کو کسی خبر کی تصدیق کرنا ہو تو شاذونادر ہی کوئی کال وصول کرے گا، ایسے میں کوئی خبر پسند نہ آئے تو اگلے دن بورڈ احتجاج ریکارڈ کرا دیتا ہے مگر اپنے اسٹاف کو کوئی یہ سمجھانے کو تیار نہیں کہ بھائی آپ کو دفتر کا فون ''کینڈی کرش '' کھیلنے کے لیے نہیں ملا، اس پر موجود یس کا بٹن تو دبا لیا کریں۔

خاص طور پر شکیل خان کے بارے میں یہ شکایات زیادہ سامنے آئی ہیں، رضا راشد تو بیچارے آج کل زیرعتاب لگتے ہیں، جب سے میڈیا میں ان کی تعریفیں آنا شروع ہوئیں انھیں خاموشی سے سائیڈ لائن کر کے ایک اور صاحب کو آگے لایا گیا جنھوں نے کراچی میں ویمنز ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ کا کارڈ تقریب شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پہنچایا، اس سے ان کی مستعدی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آخر میں بھارتی ٹیم سے سیریز کا کچھ ذکر کر لیتے ہیں،اب یہ تقریباً یقینی ہو چکا کہ اس کا انعقاد نہیں ہو گا،بورڈ نے کافی عرصے تک بھارت کی منت سماجت کی پھر جب یقین ہو گیا کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونا تو لہجہ کچھ سخت کرلیا مگر بی سی سی آئی کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، چیئرمین شہریارخان کے بھارت میں قریبی رشتہ دار موجود ہیں، وہ اکثر وہاں جاتے رہتے مگر سب جانتے ہیں کہ جب تک حکومتی سطح پر تعلقات میں بہتری نہیں آتی بورڈز کتنے ہی قریب ہو جائیں کوئی فائدہ نہ ہو گا، گذشتہ دنوں بھارتی بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا کے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے بھی شہریار خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ بھارت گئے، اس دورے پر بھی بورڈ کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔

اس کا کیا فائدہ ہوا؟ تعزیت فون پر یا خط لکھ کر بھی کی جا سکتی تھی، اور کتنے بورڈز کے سربراہان بھارت آئے؟ کسی کے بھی نہیں، بورڈ چیف کا عہدہ گوکہ اعزازی ہوتا ہے مگر اس کی مراعات کا اندازہ لگایا جائے تو علم ہو گا کہ کسی تنخواہ دار پر بھی اتنی رقم صرف نہیں ہوتی، چیئرمین ایک طرف اخراجات کم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

ایسے میں انھیں اپنے طورپربھی بچت اسکیم شروع کرنی چاہیے، جب وہ خود ایسے ہی پیسہ ضائع کریں گے تو دوسروں سے کیسے رقم بچانے کی توقع رکھی جا سکتی ہے،ابھی تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، بیچارے کمزور ملازمین کو برطرفی کے خطوط پہنچا دیے گئے، جن کی پشت پر کوئی بڑا آفیشل موجود ہے وہ بدستور مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، سپر لیگ پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، بورڈ کی کوئی سمت نہیں، نجم سیٹھی اور شہریارخان اپنے اپنے رخ پر چل رہے ہیں، ایسے میں ہماری کرکٹ کا جو حال ہورہا ہے اس کا کوئی نہیں سوچ رہا، نجانے کوئی مثبت تبدیلی کب آئے گی۔