پاکستان کا مستقبل بلوچستان ہے

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے علاوہ معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے


Editorial October 12, 2015
پاکستان کی سلامتی بلوچستان کے امن سے جڑی ہوئی ہے، یہ خطہ بلوچوں کا ہے اور سب کو مل کر دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہفتے کو لورالائی ٹریننگ سینٹر میں ایف سی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب اور کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں فساد برپا کرنے والوں کے پیچھے دشمن طاقتیں ہیں، ان کے عزائم ناکام بنا دیں گے، پاکستان کی سلامتی اور امن بلوچستان سے جڑا ہوا ہے صوبے کو امن کا گہوارہ بنا دیں گے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے علاوہ معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے مگر تعلیم، صحت، روز گار سمیت دیگر شعبوں میں باقی صوبوں کے مقابل یہ پسماندگی کا شکار تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ یہاں ایک عرصے سے امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ اس حقیقت سے اغماض نہیں برتا جا سکتا کہ کسی بھی علاقے میں اگر مقامی لوگوں کو شکایات ہوں تو انھیں سیاسی اور انتظامی طور پر حل کیا جا سکتا ہے تاہم اگر امن و امان کے مسائل شدت اختیار کر جائیں اور ایسا کرنے والوں کو غیرملکی قوتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہو جائے تو پھر حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ اور اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے مجبوراً آپریشن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس وقت بلوچستان میں امن و امان کے جو مسائل ہیں ان کے پیچھے غیر ملکی قوتیں موجود ہیں جن کے ثبوت پاکستان کئی بار دے چکا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی امریکا میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو پاکستان میں فساد برپا کرنے میں بھارتی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے تھے۔

بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو وہاں کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے ان کا گرینڈ اجلاس بلانا چاہیے اور ان کے مشورے سے وہاں کے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس وقت جہالت' غربت اور بیروز گاری بلوچوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اس دشمن کا خاتمہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کو بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر صوبے میں تعلیم عام کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ وہاں بیروز گار نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کے علاوہ آسان شرائط پر بلاسود قرضے دیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاں کے نوجوانوں میں جو مایوسی کا عنصر موجود ہے اس کا خاتمہ نہ کیا جا سکے۔ ترقی کے بھرپور مواقع دیے جائیں تو جفا کش بلوچ چند سال ہی میں صوبے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان میں امن و امان بحال کرنے کے لیے ایف سی کے افسروں اور جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں مگر بلوچستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امن کا گہوارہ بنانے اور دشمنوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے ناگزیر ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بالکل درست کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اس لیے کئی طاقتوں کی نظریں اس پر ہیں مگر یہ خطہ بلوچوں کا، پاکستان اور مسلمانوں کا ہے، ناراض بلوچوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا احسن اقدام ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ناراض بلوچ بھی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیں اور کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائیں جس سے ملکی بقا اور سلامتی پر حرف آتا ہو۔ غیرملکی طاقتوں کی نظریں صرف یہاں چھپے ہوئے خزانے پر ہیں انھیں اس خطے کی ترقی اور خوشحالی سے کوئی غرض نہیں اور اپنے ان مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو بھی دشمن قوتوں کے عزائم پر کڑی نظر رکھنی اور نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ وہ کسی کے بہکاوے میں آ کر کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔

ماضی میں حکومتوں نے بلوچستان کے مسائل سیاسی سطح پر حل کرنے کے عندیے تو بار بار دیے مگر عملی سطح پر اس کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں جس سے بلوچوں میں مایوسی کا عنصر مزید بڑھا اور ان میں یہ احساس ابھرا کہ ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر بلوچستان میں فساد برپا کرنے والی دشمن قوتوں کو ناکام بنانا ہے تو پھر وفاقی اور بلوچستان حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر صوبے کی ترقی کا ایجنڈا طے کرنا چاہیے جس پر تیزی سے عمل درآمد بھی ہو۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان اور بلوچستان کا مستقبل ایک ہے، پاکستان کی سلامتی بلوچستان کے امن سے جڑی ہوئی ہے، یہ خطہ بلوچوں کا ہے اور سب کو مل کر دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔