واشنگٹن میں لاکھوں سیاہ فام امریکیوں کی ریلی

10اکتوبرملین مین مارچ (دس لاکھ لوگوں کے مارچ) کی 20 ویں سالگرہ کادن تھا جب واشنگٹن کی تاریخ کی سب سےبڑی ریلی نکالی گئی


Editorial October 12, 2015
یہ امریکا کی دوغلی پالیسی کی ایک اور شرمناک مثال ہے۔ فوٹو : فائل

KARACHI: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں لاکھوں سیاہ فام امریکیوں نے، جنھیں وہاں افریقن امریکی کہا جاتا ہے، ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ان کی حمایت کرنے والے دیگر افراد کی بھی کثیر تعداد شامل تھی۔ مظاہرین امریکا کے پالیسی سازی کے نظام میں منصفانہ تبدیلی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سفید فاموں کے علاوہ رنگدار جلد والے شہریوں کو بھی زندگی بسر کرنے کے بہتر مواقع دیے جائیں۔ واضح رہے 10اکتوبر ملین مین مارچ (دس لاکھ لوگوں کے مارچ) کی 20 ویں سالگرہ کا دن تھا جب واشنگٹن کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سیاہ فام امریکی کر رہے تھے۔ 1995ء میں سیاہ فام امریکیوں کے لیڈر لوئس فرخان نے پہلی مرتبہ بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا تھا جس کا عنوان جسٹس اور ایلس (یعنی انصاف یا کچھ اور) رکھا گیا تھا۔

فرخان نے اپنی تقریر میں امریکی حکومت پر زور دیا کہ سیاہ فاموں کی جائز تکالیف کو دور کیا جائے۔ اس مرتبہ ریلی نکالنے والوں کا کہنا تھا کہ سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ ناانصافی کی حد ختم ہو گئی ہے۔ اس مظاہرے میں ان دو سیاہ فام نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں برسرعام ہلاکت کے معاملے پر بھی احتجاج کیا گیا جنھیں 2012ء میں فلوریڈا اور 2014ء میں میسوری کے علاقے میں پولیس نے گولی مار دی تھی۔ اس کے بعد بھی پولیس کے ہاتھوں متعدد سیاہ فاموں کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ 1994ء میں لاکھوں سیاہ فاموں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشتبہ قرار دے کر حراست میں لے لیا تھا۔ یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ امریکا جو دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے اور جو دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بہانے دخل اندازیاں کرتا ہے مگر اس کے اپنے ملک میں سیاہ فاموں پر جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اس کی طرف اس کی آنکھیں بند ہی۔ یہ امریکا کی دوغلی پالیسی کی ایک اور شرمناک مثال ہے۔