لاہور اور اوکاڑہ کا ضمنی الیکشن

لاہور کے ضمنی الیکشن نے ملک گیر شہرت حاصل کی اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ضمنی الیکشن بن گیا۔


Editorial October 13, 2015
تمام سیاسی جماعتیں انتخابات جیتنے کے لیے اپنی انتخابی مہم بھرپور جذبے سے ضرور چلائیں مگر جمہوری روایات کی پاسداری بھی ناگزیر ہے۔ فوٹو; فائل

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 اور پی پی 147 لاہورجب کہ اوکاڑہ میں این اے 144 کے ضمنی انتخابات کا مرحلہ پرامن طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچنے کے بعد مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان اس حلقے میں اعصاب شکن مقابلے کی جو فضا پیدا ہوئی تھی وہ بھی پرسکون ہو گئی ہے۔

لاہور میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کی نشست پر 76525 ووٹ لے کر اپنے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان کو شکست دے دی، علیم خان نے 72082 ووٹ حاصل کیے جب کہ پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 147 سے تحریک انصاف کے امیدوار شعیب صدیقی کامیاب قرار دیے گئے اور ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے محسن لطیف دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 122 میں مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ 43.10 فیصد رہا جب کہ اوکاڑہ میں آزاد امید وار چوہدری ریاض الحق (جج) 83240 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار علی عارف چوہدری دوسرے نمبر پر رہے ،پی ٹی آئی کے امیدوار اشرف سوہنا تیسرے نمبر پر رہے۔

لاہور کے ضمنی الیکشن نے ملک گیر شہرت حاصل کی اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ضمنی الیکشن بن گیا۔ عام انتخابات 2013ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے سردار ایاز صادق کامیاب ہوئے تھے لیکن تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد الیکشن ٹربیونل نے نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آنے کے بعد ایسی اطلاعات سامنے آنے لگیں کہ سردار ایاز صادق اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے لیکن بعدازاں مسلم لیگ ن نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرکے بالکل درست سمت قدم اٹھایا اور اس طرح این اے 122 میں کامیابی حاصل کر کے نہ صرف اس نے اپنا امیج بہتر بنایا بلکہ دھاندلی کے الزامات کو دھونے میں بھی سرخرو ہو گئی اور سردار ایاز صادق کی عدالت سے رجوع نہ کرنے اور الیکشن لڑنے کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نے کامیابی کے لیے اپنی انتخابی مہم پورے زور شور سے چلائی جس سے یہ حلقہ پورے ملک کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس حلقے میں ہونے والی ہار جیت سے دونوں حریف جماعتیں کے مستقبل میں سیاسی رخ کا فیصلہ ہونا تھا، اگر تحریک انصاف یہ سیٹ جیت جاتی تو اسے یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ دھاندلی کے حوالے سے جو الزامات وہ عائد کرتی رہی وہ درست ثابت ہوئے اور حکومت کے خلاف اس کی تحریک میں شدت آ جاتی اس طرح مسلم لیگ ن پر سیاسی دباؤ بڑھ جاتا۔ مسلم لیگ ن یہ نشست جیت کر اس بڑے طوفان کے مقابلے میں خود کو فی الوقت محفوظ بنانے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے لیکن آنے والے وقت میں کیا ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن یہ نشست کوئی بہت بڑے مارجن سے نہیں جیتی بلکہ یہ مارجن بہت تھوڑا تھا۔

بعض سیاسی تجزیہ نگار یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کی حلیف مذہبی جماعتیں اس کی انتخابی مہم میں اس کا بھرپور ساتھ دیتیں تو ممکن ہے پی ٹی آئی یہ نشست جیت جاتی۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو پڑنے والے ووٹوں کی شرح سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ پی ٹی آئی مستقبل میں مسلم لیگ ن کے اقتدار کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے اس نے قومی اسمبلی کی نشست تو ہاری ہے مگر صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر تخت لاہور میں اپنا قدم آگے بڑھایا ہے۔

تحریک انصاف کے کارکن پورے جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں اترے اور انھوں نے اپنی حریف جماعت کا بھرپور مقابلہ کیا، ان انتخابات کے نتائج بلدیاتی انتخابات پر اثرانداز ہوں گے۔ اگر تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں سولوفلائٹ کرنے کے بجائے دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی حکمت عملی طے کرتی ہے تو اس کے زیادہ سے زیادہ نشستیں جیتنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ان ضمنی انتخابات میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے جس کے باعث مجموعی طور پر ماحول پرامن رہا، پولنگ عملے نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے یقیناً مستقبل میں ہونے والے انتخابات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان ضمنی انتخابات میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ دونوں مدمقابل جماعتوں کی جانب سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے نہ صرف پیسے کا بے دریغ استعمال کیا گیا بلکہ بڑے بڑے جلسے جلوسوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ الیکشن سے دو روز قبل این اے 122 کے ان حلقوں جن کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ یہاں تحریک انصاف مضبوط ہے وہاں حکومت کی جانب سے بڑی سرعت کے ساتھ ترقیاتی کام کروائے گئے، پولنگ سے ایک روز قبل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے این اے 122 کے بعض علاقوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا انھیں خط موصول ہوا ہے لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وزیراعظم نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی کونسی شق کی خلاف ورزی کی ہے۔

ان ضمنی انتخابات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی سیاسی جماعتیں جمہوری روایات پر عمل کرنے میں کمزور ثابت ہوئی ہیں، تمام سیاسی جماعتیں انتخابات جیتنے کے لیے اپنی انتخابی مہم بھرپور جذبے سے ضرور چلائیں مگر جمہوری روایات کی پاسداری بھی ناگزیر ہے۔