درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ

ٹمپریچر میں اضافہ کے باعث زیر زمیں پانی کی مقدار میں بھی کمی آرہی ہے


Editorial October 13, 2015
سندھ میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مصنوعی بارش کرانے پر غور کیا جارہا ہے ۔فوٹو فائل

موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے ہولناک نتائج پر مبنی ایک رپورٹ کے انکشافات تشویش ناک ہیں جس کے مطابق پاکستان میں اوسط ٹمپریچر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ٹمپریچر میں اضافہ کو روکنے کے لیے قبل از وقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ آنے والے برسوں کے دوران پاکستان میں قدرتی آفات کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ خوراک، توانائی اور پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ میں اضافہ کے باعث اوسط ٹمپریچر میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں اوسط ٹمپریچر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

یہ ایک انتباہی صورتحال ہے جو ارباب اختیار اور موسم و ماحولیات اور زراعت و ارضیات کے ملکی ماہرین کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ موسمی تبدیلیوں کا شور محشر سنیں تاکہ پیدا ہونے والے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے میں کسی تساہل اور غفلت کا مظاہرہ نہ ہو، آفات اعلان کرکے تو نہیں آتے۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ 100 سال کے دوران دنیا کی اوسط ٹمپریچر میں 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور گر یہی سلسلہ جاری رہا تو رواں صدی کے دوران ٹمپریچر کی اوسط شرح 1.8 سے4.0 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اوسط ٹمپریچر میں اس قدر تیزی سے اضافہ کے باعث آئندہ سالوں کے دوران پاکستان میں مزید سیلاب،زلزلہ،طوفان،سائیکلون اور شدید گرمی یا سردی ہونیکا خدشہ ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی آ سکتی ہے ، گلیشئرز پگھلنے کی شرح میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں سمندر کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سطح سمندر میں اس وقت 0.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ اس میں مزید اضافہ ساحلی علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ٹمپریچر میں اضافہ کے باعث زیر زمیں پانی کی مقدار میں بھی کمی آرہی ہے ۔ مذکورہ انکشافات ہر زاویہ سے قابل غور اور چشم کشا ہیں جب کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ حقائق سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ٹھوس عالمی تحقیقات اور تجربات کا نتیجہ ہیں، ادھر سندھ میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مصنوعی بارش کرانے پر غور کیا جارہا ہے ، ادارہ فراہمی نکاسی و آب (واٹر بورڈ) نے جامع منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

جس کے تحت حب ڈیم کو بھرا جائے گا۔ تاہم ملک کو بڑے ارضیاتی ، زرعی اور موسمی مسائل درپیش ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے وفاق تمام صوبائی حکومتوں کو سائنسی بنیادوں پر صورتحال کے لیے تیار کرے۔ مصنوعی بارش عارضی اقدام ہے اور مون سون گزر جانے کے بعد اس پر عملدرآمد یقینی بھی نہیں چونکہ اس کا بادلوں پر انحصار ہے ، اس لیے قومی سطح پر موسمیاتی پالیسی وضع کرنے کا وقت ہے۔