دہشت گردی اور مسلم ممالک

پاکستان اور ترکی کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔ ترکی کی سرحد کے ساتھ شام اور عراق میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔


Editorial October 14, 2015
یہ حقیقت ہے کہ داعش اور طالبان جیسی تنظیموں کو کہیں نہ کہیں سے مالی سپورٹ مل رہی ہے۔ اگر انھیں یہ سپورٹ نہ ملے تو وہ اتنے وسیع پیمانے پر اپنی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔ فوٹو : فائل

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ترکی کے دورے پر ہیں۔انھوں نے جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔وہ ترک افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی گئے جہاں ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ جنرل راحیل کو خطے میں امن کے لیے دہشتگردی کی لعنت کے خلاف بہادری سے نبرد آزما ہونے کے اعتراف میں 'ترکش لیجنڈ آف میرٹ' ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اس موقعے پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے اور یہ تعلق ہمیشہ رہے گا ۔

انھوں نے انقرہ میں ہونیوالے دہشتگرد حملے پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ترکی کو دہشتگردی کے حوالے سے درپیش چیلینجز کی سنگین نوعیت کو سمجھتے ہیں اور ہم اس مشکل وقت میں ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھوں نے ترکی کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کودہشتگردی کے حوالے سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے مگر دونوں ممالک باہمی تعاون سے اس پر قابو پالیں گے۔جنرل راحیل شریف نے کہا کہ سمت کے صحیح تعین اور واضح نصب العین کی بدولت پاک فوج سفاک دہشتگردوںکا کامیابی سے مقابلہ کررہی ہے۔

ادھر ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو کا کہنا ہے کہ انقرہ کی ایک امن ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمے دار اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم داعش ہے۔ اس حملے کی ذمے داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے بم دھماکے کیے تھے۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امن ریلی میں بم دھماکوں کے ایک روز بعد ترک فضائیہ نے کرد جنگجوؤں پر بمباری کی ہے۔ یہ بمباری جنوب مغربی علاقوں اور شمالی عراق کی سرحدی علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پر کی گئی ہے۔

پاکستان اور ترکی کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔ ترکی کی سرحد کے ساتھ شام اور عراق میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ان علاقوں میں داعش نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور وہاں اپنی ریاست قائم کر لی ہے۔ داعش سے دنیا بھر میں سرگرم عمل دیگر انتہا پسند تنظیمیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کے اثرات افغانستان تک پہنچے ہیں۔ پاکستان کے شمال مغربی سرحد پر بھی ترکی جیسی صورت حال موجود ہے۔ افغانستان میں گزشتہ دنوں قندوز میں طالبان نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور یہاں شدید جنگ ہوئی تھی۔ اس صورت حال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ جن ملکوں میں انتہا پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہاں کی حکومتیں مفلوج ہو چکی ہیں۔ افغانستان میں کہنے کو ایک حکومت ہے۔

وہاں فوج بھی موجود ہے اور انٹیلی جنس ادارے بھی موجود ہیں ۔ پارلیمنٹ بھی موجود ہے، اشرف غنی کے نام سے ایک صدر بھی ہے اور عبداللہ عبداللہ کی صورت میں چیف ایگزیکٹو بھی موجود ہے لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اس حکومت کا زمین پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔ افغانستان سے ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ وہاں بعض جنگجو گروہ داعش کے زیر اثر چلے گئے ہیں۔ ادھر پاکستان شمال مغربی قبائلی علاقے میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔

ترکی کو بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ترکی میں کرد مسئلہ خاصا پرانا ہے لیکن اب اس میں داعش کا عنصر بھی داخل ہو گیا ہے جس نے صورت حال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ترکی اسلامی دنیا کا ترقی یافتہ اور جدید ملک ہے۔ اس ملک میں داعش جیسی تنظیموں کا عمل دخل بڑھنا یا ان کی کارروائیاں ہونا، ترک قوم کی ترقی کے سفر کو متاثر کر سکتا ہے۔ ترک حکمرانوں کو اس حوالے سے خاصی تشویش ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور ترکی کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ترکی کی حکومت پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور معلومات بھی حاصل کر سکتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کی حکومت ترکی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے،پاکستان اور ترکی کی حکومتوں کے درمیان اور دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان دہشت گردی کے خلاف قریبی رابطے رہنے چاہئیں۔پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کے جتنے قریب رہیں گے داعش کے خطرے سے نمٹنا اتنا ہی آسان ہوتا جائے گا۔ مسلم ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اصولی طور پر یہ مسئلہ صرف پاکستان یا ترکی کا نہیں ہے بلکہ اس میں ایران کو شامل کیا جانا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ دیگر عرب ریاستیں بھی دہشت گردی کے خلاف ایک پلیٹ فام پر آئیں۔ مسلم ملکوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہونا چاہیے اور دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے حوالے سے ایک مربوط میکنزم تیار کیا جانا چاہیے۔

یہ حقیقت ہے کہ داعش اور طالبان جیسی تنظیموں کو کہیں نہ کہیں سے مالی سپورٹ مل رہی ہے۔ اگر انھیں یہ سپورٹ نہ ملے تو وہ اتنے وسیع پیمانے پر اپنی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مالی تعاون زیادہ تر مسلم ملکوں سے مل رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا اور مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے مسلم ممالک اپنی ذمے داریاں سمجھیں اور اس جنگ کو جیتنے کے لیے متحد ہو کر لڑائی لڑیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلم ملکوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔