بھارت خوئے بد را بہانہ بسیار

یہ ریلوے لائن پاک بھارت ریلوے معاہدے کے تحت سیلاب کے باعث دسمبر 2006 میں بوجوہ معطل ہوئی تھی


Editorial October 14, 2015
پیر کو 86 بھارتی مسافر جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے واہگہ بارڈر کے راستے بذریعہ سڑک بھارت روانہ ہو گئے۔ فوٹو: فائل

بھارت نے پیر کو بھی سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر سمجھوتہ ایکسپریس کو منسوخ کردیا جس کے باعث دونوں طرف کے مسافر محصور ہو گئے، ذرایع کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے پیغام بھجوایا گیا کہ بھارت میں مظاہرے ابھی ختم نہیں ہوئے ، حملے کا خطرہ ہے، ٹرین کو نہ بھیجا جائے ، جس پر پیر کو جانیوالی ٹرین کو بھی منسوخ کردیا گیا ۔

واضح رہے 8 اکتوبر کو بھی ٹریں کو سیکیورٹی کلیرنس نہیں ملی اور واپس بھیجی گئی، جب کہ بھارت کے پاس ایک منظم ملک گیر ٹرین نیٹ ورک ہے اسے موناباؤ، تھر پارکر اور جودھپور سیکشن سسٹم دوبارہ شروع کرنا چاہیے، یہ ریلوے لائن پاک بھارت ریلوے معاہدے کے تحت سیلاب کے باعث دسمبر 2006 میں بوجوہ معطل ہوئی تھی حالانکہ کراچی و اندرون سندھ مسافروں کے لیے یہ راستہ نسبتاً آسان ،کم خرچ اور محفوظ متبادل تھا، یا پنجاب میں گنڈا سنگھ و بہاولنگر سے سروس کے اجرا کا سوچا جا سکتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارتی وزیر خارجہ سے سمجھوتہ ایکسپریس کی مسلسل منسوخی کا معاملہ اٹھایا ہے اور بھارتی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستانیوں کو بھارت سے واپسی کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں بھارت میں پھنسے ہوئے اکثر پاکستانیوں کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی ہے، ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن ان کے ویزوں میں توسیع کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے، سمجھوتہ ایکسپریس کی منسوخی کی وجہ سے 35 پاکستانی مسافرنئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پھنس گئے ہیں جب کہ بھارت جانے والے پاکستانیوں کے ویزے بھی ختم ہوچکے ہیں۔

اس حوالے سے ذرایع نے بتایا ہے کہ بھارت میں موجود پاکستانی مسافروں کے ویزوں میں توسیع کے لیے پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کردی گئی ہیں، ادھر پیر کو 86 بھارتی مسافر جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے واہگہ بارڈر کے راستے بذریعہ سڑک بھارت روانہ ہو گئے ۔ میڈیا کے مطابق بھارتی شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں میں پاکستانی اگرچہ سرِفہرست آگئے ہیں تاہم پاکستانی ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بھارت نے زیادہ تر لوگوں کو شہریت نہیں دی۔

یہی وطیرہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سیریز کے حوالے سے بھی ٹال مٹول کی پالیسی کی صورت برقرار رکھی ہے ، کیونکہ جب آئی سی سی اجلاس کے لیے دبئی میں موجود چیئرمین پی سی بی شہریارخان کی بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے موقف اختیار کیا کہ بھارتی بورڈ کے بعض اندورنی مسائل چل رہے ہیں، ابھی سیریز پر بات نہیں کی جاسکتی۔ اسی ذہنی دیوالیہ پن کے تناظر میں شیو سینا کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں توڑ پھوڑ اور تشدد کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ پاکستان پر انگشت نمائی کی اب کوئی گنجائش نہیں۔