ایف بی آر کا اینگرو تھر کول کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ دینے سے انکار

موجودہ ٹیکس قوانین کے مطابق کوئلے کی مقامی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسمنٹ کی اجازت نہیں ہے، ایف بی آر


Irshad Ansari October 14, 2015
موجودہ ٹیکس قوانین کے مطابق کوئلے کی مقامی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسمنٹ کی اجازت نہیں ہے، ایف بی آر۔ فوٹو: فائل

SRINAGAR: فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر) نے اینگرو تھر کول کو سندھ کے تھر کول پروجیکٹ سے کوئلے کی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کیمطابق اینگرو تھر کول کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف سی آر) سے کوئلے کی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسمنٹ مانگی گئی تھی لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکار کردیا ہے۔

ایف بی آرکا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس قوانین کے مطابق کوئلے کی مقامی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسمنٹ کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئلے کی مقامی پیداوار پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دینا ہے تو اس کے لیے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی تاکہ پالیسی کو تبدیل کیا جاسکے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام کا کہنا ہے کہ اینگرو تھر کول کو نئی سرمایہ کاری پر قانون کے مطابق ٹیکسوں اور ڈیوٹی میں جو رعایات بنتی تھیں وہ فراہم کی گئی ہیں لیکن مقامی کوئلے کی پیداوار چونکہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی موجودہ قانون میں اجازت دینے کی گنجائش نہیں ہے اس لیے اس سے معذرت کی گئی ہے اور اگر حکومت ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دینا چاہتی ہے تو اس کے لیے ٹیکس قانون میں تبدیلی کرنا ہوگی اور ٹیکس قانون میں تبدیلی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوگا۔