امن کے لیے پاکستانی کردارکی تعریف

پاکستان اورترکی دو برادر مسلم ممالک جو تاریخ ،ادب، سیاست اور ثقافت کے رشتے میں صدیوں سے جڑے ہوئے ہیں


Editorial October 15, 2015
پاکستان اورترکی دو برادر مسلم ممالک جو تاریخ ،ادب، سیاست اور ثقافت کے رشتے میں صدیوں سے جڑے ہوئے ہیں، فوٹو: آئی ایس پی آر

LONDON: پاکستان اورترکی دو برادر مسلم ممالک جو تاریخ ،ادب، سیاست اور ثقافت کے رشتے میں صدیوں سے جڑے ہوئے ہیں، ایک وقت تھا کہ سلطنت عثمانیہ میں سورج غروب نہ ہوتا تھا، پھر عالمی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ اور جدید ترکی کا جنم ہوا، لیکن ترک برصغیر میں چلنے والی تحریک خلافت میں دی جانے والی قربانیوں کو بھولے نہیں بلکہ بطور احسان اس کو یاد رکھے ہوئے ہیں، اکیسویں صدی میں ترقی کرتے ہوئے پاکستان اورترکی کو اقوام عالم میں نہ صرف جغرافیائی اہمیت حاصل ہے بلکہ انھیں دہشت گردی کے حوالے سے متعدد چیلنجزکا سامنا ہے۔

اسی ضمن میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ترکی کا دورہ کیا جس میں پاکستان اورترکی نے دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا،ترک قیادت نے ملاقاتوں کے دوران پاکستانی فوج کے سپہ سالارکو سیکیورٹی چیلنجزسے نمٹنے کے لیے اپنی بھرپورحمایت کا یقین دلایا ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے اقوام عالم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، پاکستان اور ترکی کے پڑوسی ممالک میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں،جس کی وجہ سے دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں۔

ترکی میں چند روز پیشتر ایک ریلی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ، پاکستان ساٹھ ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی دے چکا ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں، ترکی کے ساتھ جڑے ممالک حالات جنگ میں ہیں اور داعش کا ظلم وستم جاری ہے، افغانستان کی شورش کے اثرات پاکستان کے اندر محسوس کیے جا رہے ہیں ، بدھ کو دہشت گردی کے تازہ ترین واقعے میں ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف میں ن لیگ کے ایم این اے امجدکھوسہ کے ڈیرے میں دھماکے سے 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،مرنیوالوں میں یونین کونسل کے چیئرمین کے 2امیدوار بھی شامل ہیں جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔بلاشبہ دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہے۔

ترکی میں کردوں کی شورش پر قابو پانا ایک چیلنج سے کم نہ تھا ،جب کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، لہذا دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجزکے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات ومشاہدات کو شیئرکریں اور ان کی موجودگی میں ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکے جو دہشتگردی کے خاتمے کا سبب بنے ، پاکستانی سپہ سالار سے ترک صدر، وزیراعظم اورآرمی چیف نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ فریقین نے دفاعی حوالے سے تعاون کوفروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔پاکستان اور ترکی کے درمیان سفارتی، فوجی اور عوامی سطح پر ہم آہنگی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔