بلدیاتی انتخابات اور دھاندلی

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتیں مجبوراً بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں


Zaheer Akhter Bedari October 15, 2015
[email protected]

MULTAN: بلدیاتی انتخابات سر پرآگئے ہیں جو سیاسی جماعتیں اورسیاسی رہنما بلدیاتی نظام کو اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے خلاف سمجھ رہے تھے، انھوں نے بلدیاتی انتخابات رکوانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن وہ بوجوہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوگئے اور بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طے ہوگئیں اگرچہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوگئے ہیں لیکن ان کی اہمیت اس لیے نہیں ہے کہ وہ ملک کی مجموعی صورت حال پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ سندھ اور پنجاب خاص طور پر پنجاب کے انتخابات ملک کی سیاسی صورت حال پر منفی یا مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتیں مجبوراً بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں لیکن وہ انتخابات کے بعد بھی مختلف بہانوں سے ملک کی سیاسی صورت حال میں گڑبڑ اور انارکی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان ممکنہ بہانوں میں ایک بہانہ الیکشن میں دھاندلی کا ہوسکتا ہے تحریک انصاف نے 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف بہت ہلچل پیدا کی لیکن خود اس کی احمقانہ پالیسیوں کے علاوہ تقریباً تمام پارٹیوں کا مفاد اس میں ہی تھا کہ دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔

2013 کے قومی انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف تو تمام سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں لیکن دھاندلی کے خلاف زبانی جمع خرچ کے علاوہ انھوں نے کچھ نہیں کیا، لیکن بلدیاتی انتخابات کی بات دوسری ہے اگر ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگتا ہے تو وہ تمام جماعتیں جو بلدیاتی نظام کے خلاف ہیں متحد ہوکر سڑکوں پر آسکتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) چونکہ اقتدار میں ہے لہٰذا وہ اپنے اختیارات اور بے بہا وسائل استعمال کرکے کم ازکم پنجاب میں تو بلدیاتی انتخابات مجموعی طور پر جیت سکتی ہے اور اگر وہ جیت بھی نہیں سکی تو اقتدار کی وجہ سے اس کا مفاد اسی میں ہوگا کہ دھاندلی کے خلاف کسی مہم میں شریک نہ ہو۔ اس کے برخلاف دیگر سیاسی جماعتوں کی اکثریت سڑکوں پر آسکتی ہے اگر ایسا ہوا تو ایک ہنگامی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس کا بڑا نقصان مسلم لیگ (ن) کو ہوسکتا ہے۔

دھرنا تحریک کے دوران عمران خان کے خلاف ملک کی اہم 13 جماعتیں نواز شریف کے ساتھ کھڑی تھیں جس کی وجہ سے نواز حکومت بچ گئی اب پیپلز پارٹی سمیت تقریباً تمام جماعتیں (ن) لیگ کے خلاف ہیں اور اگر انھیں کوئی موقعہ حاصل ہو تو وہ نواز حکومت کو گرانے میں قطعی تکلف نہیں برتیں گی اور یہ موقعہ بلدیاتی انتخابات میں حقیقی یا فرضی دھاندلی کے الزامات فراہم کردیں گے۔2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی سندھ دیہی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے پھر زرداری کو جن خطرات کا سامنا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جو حالات کو عام انتخابات کی طرف لے جائے۔

عمران خان نے عقل و فہم کے بغیر جو تحریکیں چلائیں وہ مکمل طور پر ناکام ہوگئیں۔ عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ حالات ایسے پیدا کیے جائیں کہ دوبارہ عام انتخابات ہوں اوراس کے لیے ایک مضبوط جوازکی ضرورت ہے اور یہ جواز بلدیاتی انتخابات میں ممکنہ دھاندلی پیدا کرسکتی ہے۔

سندھ شہری میں 1988 سے متحدہ انتخابات جیت رہی ہے لیکن وہ اس وقت ماضی کے تمام بڑے طوفانوں سے بڑے طوفان میں گھری ہوئی ہے کیا وہ اس طوفان سے نکل سکے گی؟یہ ایک اہم اور نازک سوال ہے۔ لیکن اگرکوئی ملک گیر تحریک اٹھتی ہے تو پھر سندھ میں متحدہ اس قسم کی کسی ممکنہ تحریک میں حصہ لینے سے ذرا نہیں ہچکچائے گی، اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ نواز حکومت کو ہٹانے میں تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں۔

سندھ میں متحدہ کو بلدیاتی انتخابات سے روکا گیا تو دوسری کون سی جماعت ہے جو متحدہ کے ممکنہ خلا کو پورا کرسکے۔ پیپلز پارٹی اس قدر بدنام ہوگئی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ کے بیک فٹ پر جانے سے کسی کو بڑا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو وہ ہے تحریک انصاف۔ اس پس منظر میں عمران خان کا ٹارگٹ عام انتخابات ہی ہوسکتے ہیں۔ سندھ کے لیول پر اگرچہ پیپلز پارٹی اور متحدہ میں اتحاد نہیں لیکن ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''متحدہ کا مینڈیٹ چھیننا غلط کوشش ہوگی۔''

بلدیاتی نظام کا تعلق جمہوریت سے ہے اور جمہوریت کے بڑے دعویدار سیاستدان ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سیاستدان بلدیاتی نظام سے گریزاں ہیںاور غیرسیاسی ادارے سیاستدانوں کو مجبورکر رہے ہیں کہ وہ مقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات کرادیں۔ اس حوالے سے عدلیہ پیش پیش ہے۔ بلدیاتی انتخابات کرانا عدلیہ کی ذمے داری نہیں لیکن عدلیہ کو بار بار اہل سیاست سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ بلاتاخیر بلدیاتی انتخابات کرائیں۔ ہمارے سیاستدان زور دے کرکہتے ہیں کہ ''ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے''۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے اور الیکشن کمیشن بھی بار بار بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیتا آرہا ہے۔ لیکن کبھی نئی حلقہ بندیوں کے نام پر کبھی موسم کے نام پرکبھی امن و امان کی خرابی کے نام پر اہل سیاست بلدیاتی انتخابات کو رکوانے کی کوشش کرتے رہے۔ سیاستدانوں کی یہ کوششیں کیا ان کے دائرہ کار کا حصہ ہیں؟ اگر سیاستدان اپنے دائرہ کارکو مفلوج کریں تو پھر ان کی یہ شکایت کس طرح جائز سمجھی جاسکتی ہے کہ ادارے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر رہے ہیں۔

بہرحال مسئلہ اب یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات دھاندلی سے پاک ہوں۔ ہم نے ابتدا میں وضاحت کردی تھی کہ ہمارے وہ سیاستدان جو بلدیاتی نظام کو اپنی لوٹ مار کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں خود دھاندلیاں کرکے دھاندلیوں کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرسکتے ہیں اور اس تیر سے وہ دو شکار کرسکتے ہیں ایک بلدیاتی انتخابات کو متنازعہ بناکر اسے پس پشت ڈال دیں دوسرا موجودہ حکومت سے گلوخلاصی کی راہ ہموار کریں کیونکہ اب نواز حکومت ان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ کسی حیلے بہانے سے موجودہ حکومت کی جگہ کوئی اور حکومت آجاتی ہے تو فرق صرف اتنا ہوگا کہ چور کا بھائی گرہ کٹ عوام کے سروں پر مسلط ہوجائے گا۔

مقبول خبریں