جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کی واردات

آپریشن ضرب عضب کے باعث ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوئی


Editorial October 16, 2015
افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک سے محبت کا دعویٰ کرنے والے بہت سے مذہبی سیاستدان اب بھی ان دہشت گردوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، فوٹو : آن لائن

جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے ڈیرے پر خود کش دھماکے میں دو بلدیاتی امیدواروں سمیت 7 افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہو گئے۔

دھماکا عوامی ہال میں ہوا جہاں سردار امجد فاروق خان کھوسہ عوامی مسائل سنتے تھے تاہم وہ اس وقت اپنے ڈیرے پر موجود نہیں تھے اور اسلام آباد گئے ہوئے تھے، ان کے ڈیرے پر سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا، سول ڈیفنس کے مطابق خود کش حملہ آور نے 13 کلو بارودی مواد اور بال بیرنگ استعمال کیے۔ بی بی سی کے مطابق تحریک طالبان جماعت الاحرار گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ مسلم لیگ ن کے خلاف کارروائیوں کا حصہ ہے۔ صدر ممنون حسین' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوئی مگر ان کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب بھی کافی مضبوط ہے جسے ختم کرنے کے لیے حکومت کو پہلے سے زیادہ متحرک ہونا ہو گا، یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے چند دنوں میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اب دہشت گردوں نے کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے کہ ان کا ہدف حکومتی جماعت مسلم لیگ ن ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ حکومت کو دباؤ میں لا کر دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کو رکوانا چاہتے ہیں۔

جب حکومتی ارکان دہشت گردی کا نشانہ بنیں گے تو وہ خوف زدہ ہو کر اپنی قیادت پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے اس طرح دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن سیاسی اور عسکری قیادت بارہا یہ اعلان کر چکی ہے کہ کوئی بھی حادثہ ان کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکتا اور وہ پرعزم ہیں یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ دہشت گردوں نے 16 اگست کو اٹک میں وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر خود کش دھماکا کر کے انھیں شہید کر دیا تھا، اس افسوسناک واقعہ میں ڈی ایس پی حضرو سمیت 19 افراد شہید اور 25 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

اگرچہ اس حملے سے دہشت گردوں نے پنجاب میں ایک بڑا ٹارگٹ حاصل کیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ حکومت اس واقعے کے بعد خوف زدہ ہو جائے گی مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی آ گئی۔ ماضی میں بھی حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے دہشت گرد سیاستدانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف سخت بیان بازی شروع کی تو دہشت گردوں نے ان کے خلاف کارروائیوں شروع کردیں اور انھوں نے اے این پی کے اہم رہنما بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کو شہید کر دیا مگر اس کے باوجود اے این پی نے دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سیکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت ہزاروں شہری شہید ہو چکے ہیں مگر پوری قوم اپنے سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے ساتھ اس جنگ میں شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس نے عزم کر رکھا ہے کہ اس ملک کو امن کا گہوارہ بنا کر ہی دم لیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف لڑنا صرف فوج ہی کا کام نہیں سول سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی اپنے فرائض جانفشانی سے ادا کرنے ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے یہ اعلان کر دینا کافی نہیں کہ دہشت گرد شہر میں داخل ہو چکے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی بھی واقعے سے قبل نہ صرف دہشت گردوں کو بلکہ ان کے ماسٹر مائنڈ کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کی آمد کا اعلان کرکے اپنے فرائض سے بری الذمہ ہو جاتی ہے اور دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک ان مجرموں کو پکڑا نہیں جائے گا جو ایسے دہشت گرد تیار کرتے، انھیں پناہ دیتے، انھیں اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کی سہولت دیتے اور ان کی ہر طرح سے مالی مدد کرتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک سے محبت کا دعویٰ کرنے والے بہت سے مذہبی سیاستدان اب بھی ان دہشت گردوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں جس سے ان کو تقویت ملتی ہے۔ ان ہمدردوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ بے گناہوں کا خون بہانے والے یہ دہشت گرد کسی کے دوست نہیں۔ آنے والے کل وہ کسی بھی اختلاف پر اپنے ہمدردوں اور سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں لہٰذا دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو متحد ہو کر میدان عمل میں نکلنا ہو گا۔