مذہبی انتہا پسندی میں دنیا بھر میں اضافہ

دشمنی کےجذبات صرف امریکا اوراس کےحواری ممالک کےخلاف ہی محدود نہیں بلکہ اس کےاثرات سعودیہ اور ایران میں بھی بڑھ رہے ہیں


Editorial October 16, 2015
بھارت میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف بھارت کے درجنوں معروف مصنفوں اور ادیبوں نے اپنے سرکاری تمغے اور اعزازات بطور احتجاج واپس کر دیے ہیں۔ فوٹو: فائل

DAMASCUS: امریکا نے مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں اقلیتی فرقوں پر حملوں میں اضافے کے علاوہ وہاں مغرب مخالف جذبات کو بھڑکانے والی سازشوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ گزشتہ ایک سال کے سروے کے بعد جاری کی گئی ہے جس میں آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی قوت میں اضافہ پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے اور اس انتہا پسندی پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دشمنی کے جذبات صرف امریکا اور اس کے حواری ممالک کے خلاف ہی محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات سعودیہ اور ایران میں بھی بڑھ رہے ہیں جب کہ فرانس اور جرمنی کے جمہوری معاشروں میں بھی انتہا پسندی کے اثرات پنپ رہے ہیں۔ سروے سے معلوم ہوا کوئی بھی قوم مکمل طور پر مذہبی، لسانی اور نسلی تعصب سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور نہ ہی کوئی قوم دوسرے عقاید والوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے پر دلی طور پر راغب دکھائی دیتی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ جو حکومتیں اپنے شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا اہتمام کریں گی امریکا ان کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات کا پیکیج دے گا۔ ایکٹوسٹوں یعنی متحرک کارکنوں کے لیے یہ مراعات اور زیادہ ملیں گی جو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زیادہ سرگرمی سے کام کریں گے۔ آئی ایس' اور داعش انتہا پسند مذہبی تنظیموں کی خوفناک مثال ہیں۔ واضح رہے امریکا کا محکمہ خارجہ جو دیگر سب وزارتوں سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے ہر سال یہ سروے رپورٹ جاری کرتا ہے۔

تازہ رپورٹ میں مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں قتل و غارت کے علاوہ مخالفین کی عورتوں کے اغوا اور ان کو کنیزیں بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ان بد نصیب عورتوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں بعض افریقی ممالک میں سرگرم بوکو حرام نامی دہشت گرد تنظیم کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مسلح دستے لڑکیوں کے اسکولوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسکول کی بسوں میں مغویہ لڑکیوں کو بٹھا کر لے جاتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم شیو سینا نے حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ محمود قصوری کی کتاب ''نہ عقاب اور نہ فاختہ'' کی بھارت میں تقریب رونمائی کرنے والے معروف سیاستدان کلکرنی پر چھاپہ خانہ کی سیاہی پھینک کر ان کا منہ کالا کر دیا۔ جس کے بارے میں بھارت کے آزاد خیال مبصرین نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ کلکرنی کا منہ کالا نہیں ہوا بلکہ بھارت کے سیکولرزم کا منہ کالا ہو گیا ہے۔ بھارت میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف بھارت کے درجنوں معروف مصنفوں اور ادیبوں نے اپنے سرکاری تمغے اور اعزازات بطور احتجاج واپس کر دیے ہیں۔

ان میں بھارت کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بھانجی نیانترا سہگل بھی شامل ہے۔ بھارت میں مذہبی فرقہ پرستی میں اضافے کی ذمے داری اس کے متعصب وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر ڈالی جا رہی ہے جو ماضی میں انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ''سیوک'' (یعنی خدمت گار) بھی رہے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ دنیا میں انتہا پسندی کو فروغ دینے میں امریکا' مغرب اور بھارت کا اپنا کردار ہے، یہ ممالک آج بھی اپنے مفادات کے لیے ہر قسم کی انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں، جب تک امریکا' مغربی ممالک اور بھارت انتہا پسندوں کو مالی یا اخلاقی مدد فراہم کرتے رہیں گے' دنیا میں انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی۔