حکومت سندھ کا ایک اچھا اقدام

جو حکومتیں عوام کی بہی خواہ ہوتی ہیں، ان کی نظر عوام کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل پر ہوتی ہے


Zaheer Akhter Bedari October 16, 2015
[email protected]

جو حکومتیں عوام کی بہی خواہ ہوتی ہیں، ان کی نظر عوام کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل پر ہوتی ہے اور وہ سنجیدگی سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور جو حکومتیں عوام کے مسائل سے لاتعلق ہوتی ہیں اور سارا وقت اور ساری توانائیاں اپنے مسائل حل کرنے میں لگاتی ہیں ایسے ملکوں میں عوام کے بڑے بڑے مسائل حکومتوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے ایک حادثاتی موت کا شکار ہونے والوں کے پسماندگان کی کفالت کا مسئلہ ہے۔

یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہماری حکومتیں مرکزی اور صوبائی دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ یا امداد دے کر ان کے دکھ دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حادثات میں جان سے ہاتھ دھونے اور زخمی ہونے والوں کے پسماندگان بھی ان ہی مشکلات سے گزرتے ہیں جن کا سامنا دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمی ہونے والوں کو رہتا ہے۔ ہر روز ملک کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد جاں بحق و زخمی ہوتے ہیں لیکن ان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی یہ سلسلہ 68 برسوں سے جاری ہے۔

یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ مختلف حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو حکومت سندھ نے قابل توجہ سمجھا اور جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے افراد کو 50 ہزار کی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ سندھ حکومت کو جاتا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو اور زخمی ہونے والے افراد کی مدد کرنا قابل ستائش اقدام ہے لیکن عموماً ہوتا یہی ہے کہ اس امدادی رقم کو اس غیر ذمے دارانہ طریقوں سے خرچ کیا جاتا ہے کہ یہ رقوم دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو جاتی ہیں اور ایسے خاندان دوبارہ مسائل میں گِھر جاتے ہیں۔ اس صورت حال کا ایک حل پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل اور سینیٹر تاج حیدر نے پیش کیا تھا۔

تاج حیدر کی تجویز کے مطابق حادثات میں فوت ہونے والوں کے لواحقین کو رہائش کے لیے ایک پلاٹ اور متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری فراہم کی جائے تو ایسے متاثرہ خاندان مستقل اور باعزت گزارے کی سبیل ہوجاتی ہے۔ تاج حیدر کی یہ تجویز بہت معقول اور بامعنی تھی لیکن بیوروکریسی نے اس تجویز کو سبوتاژ کر دیا جس کا تاج حیدر کو بہت افسوس ہے۔ شہروں میں حادثات کی بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس کی بڑی ذمے داری ٹریفک پولیس پر آتی ہے اس کے علاوہ عوام کی طرف سے بھی کھلم کھلا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

عوام یہ غلطی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ سزا و جزا کے خوف سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے مختلف ریٹ مقرر ہیں اور ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والے مقررہ رشوت دے کر آرام سے گھر جاتے ہیں اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہو تو بلاشبہ حادثات میں کمی آ سکتی ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ مسائل کی جڑوں کا پتہ لگا کر انھیں ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسے بچگانہ اور احمقانہ طریقے اختیار کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر شہر میں کسی مذہبی جلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے تو ہماری انتظامیہ ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی ہے، موبائل فون بند کروا دیتی ہے یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے دہشت گردی کو تو نہیں روکا جا سکتا لیکن عوام کو پریشان ضرور کیا جا سکتا ہے۔

محرم کی آمد کے ساتھ ہی انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ 8 سے 10 محرم تک ڈبل سواری پر پابندی رہے گی اور 10 محرم کو موبائل سروس بند کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے اگرچہ حادثات کا کوئی تعلق نہیں لیکن ان اقدامات سے حکومت کی حماقتوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عوام اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ مقررہ قیمت ادا کر کے وہ ٹریفک قوانین کی ہر خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔

جب کسی معاشرے میں مجرم کے سزا سے بچنے کا انتظام ہوتا ہے تو جرائم دھڑلے سے کیے جاتے ہیں جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے ہمارے شہروں میں زیادہ ترحادثات ٹریفک کے بے ہنگم کلچر کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انتہائی سختی سے عوام کو ٹریفک قوانین کا پابند نہیں بنایا جاتا اور ٹریفک پولیس کو رشوت اور بھتہ لینے سے نہیں روکا جاتا۔

حادثات عموماً تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آتے ہیں اور تیز رفتاری سمیت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی بڑی وجہ ٹریفک پولیس کی غیر ذمے داری ہے ہمارے ملک میں امتیازات کا عالم یہ ہے کہ دولت مند اور بااختیار لوگ ٹریفک کے قوانین کی پابندی کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ان کے رعب داب کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اشرافیہ کے صاحب بہادروں کو ٹریفک کے اہلکار سلیوٹ کرتے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں قانون کی پابندی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے تو پولیس کا ایک معمولی اہلکار اسے روک کر اس کا چالان کر دیتا ہے۔

یہ صورتحال ترقی یافتہ ملکوں میں بھی موجود ہے۔ اکثر ملکوں میں جن میں عرب ملک بھی شامل ہیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو پکڑنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی سپاہی کو ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں کے پیچھے بھاگنا نہیں پڑتا بلکہ کیمروں وغیرہ کی مدد سے ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی ریکارڈ کی جاتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں کراچی میں موٹر سائیکل سواروں پر ہیلمٹ پہننے کی پابندی لگائی گئی موٹرسائیکل چلانے والوں نے اس پابندی کو بھی توڑنا شروع کیا اب 50 فیصد سے زیادہ لوگ بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔

جاپان میں ٹریفک قوانین کا عوام کو پابند بنانے کے لیے سخت سزائیں دی گئیں تب جا کر کہیں اس ملک میں ٹریفک قوانین کی عوام پابندی کرنے لگے مشرق وسطیٰ میں چوراہوں پر ٹریفک کی خلاف ورزی روکنے کے لیے سپاہی کھڑے نہیں ہوتے بلکہ تیز رفتاری سمیت دوسری ٹریفک کی خلاف ورزی آٹو میٹک سسٹم کے تحت ریکارڈ کر لی جاتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو آسانی سے پکڑ لیا جاتا ہے۔

حکومت سندھ نے ٹریفک حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو معاوضہ دینے کی جو منظوری دی ہے وہ یقیناً قابل تعریف ہے لیکن سینیٹر تاج حیدر کی طرف سے جو تجویز پیش کی گئی ہے وہ اس قدر حقیقت پسندانہ اور دور رس نتائج کی حامل ہے کہ اس پر عملدرآمد سے حادثات کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کو مکمل تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔ سندھ میں ہزاروں ایکڑ زمین پر لینڈ مافیا قبضہ کر رہی ہے اگر حادثات میں جان سے جانے والوں کے لواحقین کو ایک پلاٹ اور ایک سرکاری ملازمت دی جائے تو ان کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں