افغانستان امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ

کابل میں اب بھی طالبان کی جانب سے حملے جاری ہیں، افغانستان آج بھی بدستور خطرناک ملک ہے۔


Editorial October 17, 2015
پاکستان کا بھی یہ موقف ہے کہ افغانستان کے حالات درست کرنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے علاوہ پاکستان کے کردار کو بھی تسلیم کیا جائے، فوٹو : فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے 2016ء کے بعد بھی وہاں امریکی فوجی تعینات رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں امریکا کا عسکری مشن ختم ہو چکا لیکن وہ افغانستان سے کیے گئے وعدوں پر قائم ہے اور افغان افواج کو مدد فراہم کرتا رہے گا، آیندہ سال 2016ء کے دوران افغانستان میں 9800 امریکی فوجی موجود رہیں گے اور 2017ء میں اس تعداد میں کمی کرتے ہوئے اسے 5500 کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مایوس کن نہیں، زمینی حقائق دیکھ کرکیا، امریکا کی قومی سلامتی کے لیے یہ اقدام بے حد ضروری تھا، قندوز شہر کو طالبان سے کامیابی سے خالی کرایا گیا، طالبان کو کسی بھی جگہ پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی اور آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے القاعدہ اور دہشت گردوں پر دباؤ بڑھا اوراس کے ارکان افغانستان چلے گئے۔

کابل میں اب بھی طالبان کی جانب سے حملے جاری ہیں، افغانستان آج بھی بدستور خطرناک ملک ہے، تمام اتحادیوں پر زور دیتے ہیں کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کریں، آیندہ ہفتے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی میزبانی کروں گا، ان سے ملاقات میں طالبان، افغان حکومت مذاکرات آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔ ان کے ساتھ پاک افغان خطے میں امن کے لیے نئے منصوبے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان میں 2016ء تک امریکی فوج تعینات رکھنے کا اعلان کیا تھا اس منصوبے کے تحت امریکی سفارتخانے کے عملے کے محافظوں کے سوا تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس جانا تھا مگر اب اوباما نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے امریکی افواج کے قیام میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق اس توسیع کی وجہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں ہیں جس کے باعث افغان فوج کو امریکی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اوباما نے اپنا دورہ صدارت مکمل ہونے سے پہلے افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا منصوبہ بنایا تھا تاہم طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث ان پر امریکی فوج کے قیام میں توسیع کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا اور بالآخر انھیں اس پر رضامند کر لیا گیا۔ امریکا کی قومی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوجی افغانستان میں چار مقامات کابل' بگرام' جلال آباد اور قندھار میں تعینات رہیں گے۔

امریکی صدر اوباما نے کہا کہ ان کی افواج دو چھوٹے مگر اہم مشنز میں مصروف رہیں گی جس کا مقصد افغان فوج کی تربیت اور القاعدہ کی باقیات کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد دینا ہے۔ سیاسی مبصرین کا قیاس ہے کہ امریکا افغانستان کو چھوڑنا نہیں چاہتا اور وہ یہاں فلپائن اور جنوبی کوریا کی طرح مستقل قیام کا خواہاں ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ قندوز شہر پر طالبان کا قبضہ امریکی پلاننگ کا حصہ تھا اور وہ طالبان کی کارروائیوں کی آڑ لے کر افغانستان میں اپنے فوجی اڈے مستقل طور پر قائم رکھنا چاہتا ہے جس کا ذکر امریکی صدر اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا کہ افغانستان بدستور خطرناک ملک ہے۔

امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد کیا افغان فورسز افغانستان کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی یہ وہ سوال ہے جو مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر اوباما نے افغان فورسز کی جنگجویانہ صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کو افغانستان کی سیکیورٹی اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کی ٹریننگ دی تاہم وہ ابھی اتنی مضبوط نہیں جتنا انھیں ہونا چاہیے۔

اسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکی اور نیٹو افواج مدد نہ کریں تو افغان فورسز طالبان کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ دوسری جانب افغانستان کے اندرونی حالات بھی نہایت پیچیدہ ہو چکے ہیں وہاں داعش کے اثرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ داعش کی قوت مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔

دوسری جانب فوج، بیوروکریسی اور دیگر انتظامی عہدوں پر شمالی اتحاد اور تاجکوں کا قبضہ نظر آتا ہے جنہوں نے پشتونوں کو پیچھے دھکیل رکھا جس کے باعث پشتونوں میں مایوسی اور انتقام کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں جو کسی بھی طور پر موجودہ افغان حکومت کے لیے سودمند نہیں۔

پاکستان کا بھی یہ موقف ہے کہ افغانستان کے حالات درست کرنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے علاوہ پاکستان کے کردار کو بھی تسلیم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں بڑھتے ہوئے بھارتی اثرات کو روکا جائے جس سے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ افغانستان کے تمام فریقین کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہیے۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام جنگ سے نہیں مذاکرات سے مشروط ہے۔