دہشت گردی اور حکومتی انتظامات

عشرہ محرم الحرام کے پیش نظر ملکی داخلی صورتحال کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے


Editorial October 17, 2015
عشرہ محرم الحرام کے پیش نظر ملکی داخلی صورتحال کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، فوٹو: فائل

لاہور: عشرہ محرم الحرام کے پیش نظر ملکی داخلی صورتحال کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ دہشت گردی کی وارداتوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ اور کراچی میں بعض عناصر کی طرف سے سیاسی، مذہبی اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی اطلاع نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ حساس اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض کالعدم تنظیموں اور انتہا پسند مذہبی اور فرقہ پسند گروہوں کے کارندے شہر قائد میں اپنے آسان ٹارگٹ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

اس تشویش ناک انکشاف کی اپنی اطلاعی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ اور پیشگی اقدام و کارروائی کا شفاف ترین میکنزم ہی دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ لیکن کراچی ، بلوچستان پنجاب اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے منظم ہونے کا جو عندیہ ملا ہے اور ان کی وارداتوں کی تفصیل بھی اخبارات میں آچکی ہے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ شر پسند عناصر اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث ملک دشمنوں کے خفیہ نیٹ ورک تہس نہس کیے جائیں تاکہ ان سے حساس علاقوں کو لاحق خطرات کا پیشگی سدباب ہوسکے چنانچہ تمام حفاظتی اقدامات مکمل ہونے چاہئیں ۔ اس ضمن میں غفلت کا امکان نہیں ہونا چاہیے ۔ سیکیورٹی اداروں کو ملک بھر میں دہشت گرد گروہوں ، ٹارگٹ کلرز اور کالعدم تنظیموں کی طرف سے فعال ہونے کی جو اطلاعات ملی ہیں ان پر ریڈ الرٹ وقت کا تقاضا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں دھمیال ایئربیس کے قریب سیکیورٹی اداروں کا آپریشن چشم کشا ہے جس میں ایک خاتون ، مرد اور بد قسمتی سے دو بچے بھی ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ ہلاکتیں خاتون کے ہاتھ میں دستی بم پھٹنے کا نتیجہ ہیں ۔

ادھر پشاور، کوہاٹ اور مردان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر سمیت 110 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا جب کہ تونسہ بم دھماکے کے بعد پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا، سانحہ تونسہ میں جاں بحق ہونے والے ناحق دہشت گردی کی نذر ہوگئے۔ یہ اطلاع بروقت ہے کہ محرم الحرام کے دوران صوبوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے متعدد علماء کرام کی ضلع و زبان بندی کے احکامات جاری کر دیے ، بظاہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایف سی نے ژوب میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنا کر وزیرستان سے آنے والے 2دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے ، ترجمان ایف سی کے مطابق دہشتگردوں سے چار دستی بم، پانچ موٹر بم، 3800 راؤنڈ اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران صوبے کے 24 اضلاع کو حساس قرار دیتے ہوئے 14کو اے کیٹگری اور 10کو بی کیٹگری میں رکھا ہے، ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں فوج اور رینجرز کے جوان 7محرم سے حکومت کو رپورٹ کر دینگے، پنجاب بھر میں 9 اور 10محرم کو ایک لاکھ 65 ہزار 9 سو 90 پولیس افسران و ملازمیں کو تعینات کیا جائے گا، کراچی میں ایک طرف پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ٹارگٹ کلر کا سراغ لگا لیا گیا جب کہ دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی ناقص ہے۔ ارباب بست و کشاد کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسر کا بیان لمحہ فکریہ ہے ۔