پناہ گزینوں کا عالمی مسئلہ شدت اختیار کر گیا

ھوٹی کشتیوں میں بپھرے سمندر کا سفر کرنے والوں میں بڑی تعداد کشتیوں کے غرقاب ہونے سے جان گنوا بیٹھی ہے۔


Editorial October 17, 2015
یورپی یونین کے اجلاس میں پناہ گزینوں کے مسئلے کو تو بہت اچھالا گیا مگر اس بات کا کوئی ذکر نہ ہوا شام اور مشرق وسطی کی مخدوش صورتحال کی اصل وجہ کیا ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: شام کے بحران سے بے گھر ہونے والوں کی اصل تعداد کتنی ہے اس کا فی الحال درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم پناہ گزینوں کا رخ یورپی ممالک کی طرف ہے جب کہ چھوٹی کشتیوں میں بپھرے سمندر کا سفر کرنے والوں میں بڑی تعداد کشتیوں کے غرقاب ہونے سے جان گنوا بیٹھی ہے۔ اس بحران کے حوالے سے' جسے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے، یورپی یونین کا سربراہ اجلاس برسلز میں منعقد ہوا جس میں پناہ گزینوں کے اس بڑے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی تجاویز زیر بحث آئیں۔

اس اجلاس کے شرکاء میں جرمن چانسلر انجلا مرکل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسس ہالینڈے زیادہ متحرک تھے۔ چانسلر مرکل کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں سے نمٹنے کی سب سے بڑی ذمے داری اس وقت ترکی پر عائد ہوتی ہے جسے چاہیے کہ وہ پناہ گزینوں کو یورپ کی طرف بڑھنے سے روکے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے اندر پناہ گزینوں کے اس معاملہ پر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

ہنگری کا کہنا تھا کہ اس نے یورپی یونین کے ساتھی رکن کروشیا کے تعاون سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا انتقام مکمل کر لیا ہے۔ چانسلر مرکل کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے بحران کے حوالے سے ترکی کی قیادت کو ایک منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے جس کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ترکی کو تین ارب یورو کا معاوضہ فراہم کرنے پر بھی غور کیا گیا تا کہ وہ یورپی منصوبے پر دستخط کر دے۔یورپی یونین کے اجلاس میں پناہ گزینوں کے مسئلے کو تو بہت اچھالا گیا مگر اس بات کا کوئی ذکر نہ ہوا شام اور مشرق وسطی کی مخدوش صورتحال کی اصل وجہ کیا ہے کیونکہ وہاں ہونے والی قتل و غارت اور خانہ جنگی میں اسلحہ اور گولا بارود مغربی ممالک سے ہی فراہم کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں چوبیس گھنٹے چلتی رہتی ہیں اور اسی بے پناہ آمدنی پر ان کا انحصار ہے۔