یمن اور شام کے بعد۔۔۔۔
طویل ترین سرد جنگ کے بعد دنیا کے عوام بجا طور پر یہ امید کر رہے تھے
NEW JERSEY:
طویل ترین سرد جنگ کے بعد دنیا کے عوام بجا طور پر یہ امید کر رہے تھے کہ اب انھیں احمقانہ سرد اور گرم جنگوں سے نجات مل جائے گی اور وہ ایک پرامن اور خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔ بیسویں صدی کے آخر تک یہ امید برقرار تھی کہ اس دوران دنیا کو کسی تباہ کن جنگ کا سامنا نہ کرنا پڑا لیکن اسے ہم دنیا کی بدبختی کہیں یا حالات کی ستم ظریفی کہ 9/11 کے بعد دنیا ایک ایسے وحشیانہ دور میں داخل ہو گئی جس کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ذمے داری بڑی طاقتوں پر ہی آتی ہے۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں بڑی طاقتوں کی عیارانہ سیاست پر نظر ڈالنی پڑے گی۔ فلسطین اور کشمیر دو ایسے مسئلے ہیں جنھیں انصاف اور غیر جانبداری سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو نہ 9/11 ہوتا نہ دنیا دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے جہنم میں جا گرتی۔ کشمیر کا مسئلہ بالکل سادہ سا تھا بھارت اقوام متحدہ میں یہ شکایت لے کر گیا کہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے مداخلت ہو رہی ہے اسے روکا جائے۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کے موقف کا جائزہ لینے کے بعد یہ انتہائی صائب فیصلہ قرار داد کی شکل میں کیا کہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کشمیریوں میں رائے شماری کرائی جائے۔
یہ ایک انتہائی منصفانہ اور لاجیکل قرارداد تھی جس پر عمل ہوتا تو کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جاتا لیکن بدقسمتی سے دونوں بڑی طاقتوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے چشم پوشی کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کا حکمران طبقہ بڑی طاقتوں کی موقع پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے سے گریزاں رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ پیچیدہ اور خونیں شکل اختیار کرتا رہا۔ 70 ہزار سے زیادہ کشمیری بڑی طاقتوں کی عیارانہ سیاست کی نذر ہو گئے اور وہ سانحہ رونما ہوا جسے دنیا 9/11 کے نام سے جانتی ہے۔ 9/11 اس وحشیانہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا آغاز تھا جس نے آج ساری دنیا کے بہتر مستقبل کی امید کو ملیا میٹ کر دیا ہے آج دنیا کو جس عذاب اور خطرے کا سامنا ہے بہ ظاہر تو وہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے کمتر دکھائی دیتا ہے لیکن در حقیقت یہ خطرہ دونوں عالمی جنگوں سے زیادہ بھیانک ہے جس کا بڑی طاقتوں کو شاید ادراک نہیں ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ روس، چین، امریکا اور اس کے اتحادی اس خطرے کے نتائج کا تذکرہ تو بڑے دلدوز انداز میں کرتے ہیں اور دنیا اور دنیا کی تہذیب کو اس خطرے سے بچانے کی باتیں بھی کرتے ہیں لیکن اپنی پالیسیوں کے حوالے سے دہشت گردی کو ٹکڑوں میں بانٹ کر مفاداتی سیاست کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں ویسے تو اس وقت پورا مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا بڑا حصہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہے لیکن یمن اور شام اس حوالے سے سرفہرست ہیں۔ یمن میں ہونے والی دہشت گردی کو سعودی عرب اور عرب امارات اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور حوثی باغیوں کو ختم کرنے کے لیے اندھا دھند بمباری کرتے ہیں امریکا بہادر نہ صرف سعودیہ اور عرب امارات کے موقف کو درست سمجھتا ہے بلکہ یمن کے باغیوں کو ختم کرنے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن کے حوثیوں کو ایران کی مدد مل رہی ہے اور ایران اور سعودی عرب میں صدیوں پر پھیلا ہوا اللہ واسطے کا بیر ہے۔ شام ایک ایسا ملک ہے جہاں دنیا کے بدترین مذہبی انتہا پسند شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکا سرکاری طور پر اعلان کر رہا ہے کہ وہ شام میں بشار الاسد حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
ہو سکتا ہے بشار الاسد شامی عوام کے ساتھ زیادتیاں کرتا رہا ہو لیکن یہ کہاں کی لاجک ہے کہ بشار الاسد حکومت کو ختم کرنے کے لیے بدترین مذہبی انتہا پسندوں کی سرپرستی کی جائے؟ روس کے صدر پوتن نے کہا ہے کہ شام پر ہوائی حملوں کا مقصد بشار الاسد حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ امریکا ہر قیمت پر بشار الاسد حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے اس ''اعلیٰ مقصد'' کے حصول کے لیے وہ شام میں مذہبی انتہا پسندوں کی نہ صرف حمایت کر رہا ہے بلکہ بشار الاسد کو ہٹانے کے لیے انھیں استعمال بھی کر رہا ہے۔ یمن میں امریکا اور اس کے دوست باغیوں کے خلاف اس لیے جنگ کر رہے ہیں کہ ان باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور شام میں روس اس لیے ہوائی طاقت استعمال کر رہا ہے کہ وہاں امریکا دشمن بشار الاسد برسر اقتدار ہے وہ بشار الاسد کو بچانا چاہتا ہے۔
دنیا کے اہل علم اور اہل دانش مذہبی انتہا پسندی کو انسانی تہذیب کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھ رہے ہیں اور یہ توقع کر رہے ہیں کہ روس امریکا سمیت دنیا کے تمام ملک مذہبی انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر اپنی اجتماعی طاقت اس عفریت کے خاتمے کے لیے استعمال کریں گے اور تماشا یہ ہو رہا ہے کہ اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے یہ دونوں بڑی طاقتیں بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوئی ہیں اس احمقانہ جاہلانہ اور مفاد پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گرد امریکا، روس، بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں تک اپنی سرگرمیوں کو پھیلا رہے ہیں ہو سکتا ہے امریکا اور روس وغیرہ اپنے شہروں میں ہونے والے دہشت گردی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو اہمیت نہ دیں لیکن اس کلچر کی اثرپذیری کا عالم یہ ہے کہ مغربی ملکوں کے شہری جن میں مرد اور نوجوان خواتین شامل ہیں دھڑلے سے عراق، یمن، شام پہنچ کر داعش میں شامل ہو رہی ہیں۔ کیا اپنے شہریوں کی اس برین واشنگ کو مغربی ملک اہمیت دیتے ہیں؟
بیسویں صدی جنگوں اور نفرتوں کی صدی کہلاتی ہے دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان مارے گئے، یقیناً یہ ایک بہت بڑا نقصان تھا لیکن ان عالمی اور علاقائی جنگوں میں ہزاروں سال کا ارتقائی سفر طے کر کے ایک اعلیٰ مقام پر پہنچنے والی انسانی تہذیب کو خطرہ لاحق نہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ایک واضح سمت میں سفر کرنے والی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی انسانی تہذیب کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن گئی ہے اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اگر کشمیر اور فلسطین کے مسائل عوام کی مرضی کے مطابق حل بھی ہو گئے تو شاید مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا یہ خطرناک کلچر ختم نہیں ہو گا کیونکہ مذہبی انتہا پسندی کو جو نظریاتی طاقت حاصل ہو گئی ہے اسے ختم کرنا نہ امریکا کے بس میں نظر آتا ہے نہ روس کے۔ امریکا ہزار ایٹم بم تو بنا سکتا ہے لیکن ایک خودکش بمبار پیدا نہیں کر سکتا۔ ایسی المناک اور خطرناک صورتحال میں اگر امریکا، روس، یمن اور شام میں الجھتے رہیں تو اس کا فائدہ کسے حاصل ہو گا؟ کیا روسی اور امریکی دانشوروں کے پاس اس کا جواب ہے؟