بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت

نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہاں انتہا پسند ہندوؤں کےجنون اور غیر مہذبانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے


Editorial October 20, 2015
بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل بھی اپنا ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کر چکی ہے. فوٹو : فائل

ISLAMABAD: بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہاں انتہا پسند ہندوؤں کے جنون اور غیر مہذبانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کا سیکولرازم جلد ہی انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں دم توڑ دے گا۔

پیر کو ممبئی میں انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا کے کارکنوں نے کرکٹ بورڈ کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر ششانک منوہر کو دھمکیاں دیں کہ وہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار سے ملاقات منسوخ کر دیں اور انھیں واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر ششانک منوہر کی دعوت پر بھارت گئے تھے جہاں بی سی سی آئی ہیڈ کوارٹر میں دونوں سربراہان کرکٹ کے درمیان ملاقات جاری تھی کہ اس دوران انتہا پسند ہند تنظیم شیوسینا کے کارکنوں نے دفتر پر دھاوا بول دیا ، جاری ملاقات کو روک دیا اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری کے مطابق رواں سال دسمبر میں پاک بھارت سیریز سے متعلق چیئرمین پی سی بی شہریار خان کو بھارت آنے کی دعوت دی تھی تاکہ سیریز کے معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

شیوسینا کے انتہا پسند کارکنوں کے دھاوے کے بعد دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈ کے سربراہان کی ملاقات منسوخ کر دی گئی۔ ان متشددانہ کارروائیوں کے باعث سیکولر اور بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ بھارت کے انتہا پسند ہندو اب کھیل کے بھی دشمن بن گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی مقابلے ٹی ٹوئنٹی کے لیے بھارت محفوظ جگہ بھی ہے یا نہیں۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈ سن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کے بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کی۔

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی جارحانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا روز کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آرہا ہے، پہلے وزیراعظم نریندر مودی جلسے جلوسوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہے پھر انھوں نے سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کرا دیا، اپنے وزیراعظم کی انتہا پسندی، جارحانہ اور احمقانہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کو بھی شہ ملی اور انھوں نے بھارت میں موجود مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر بھی زندگی کا دائرہ تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔

انتہا پسند ہندوؤں کے ساتھ ساتھ بھارتی پولیس بھی وحشی پن پر اتر آئی ہے گزشتہ دنوں ممبئی میں اس نے گھر سے کام پر جانے والے دو بے گناہ مسلمان نوجوانوں آصف شیخ اور دانش کو پاکستان اور داعش کا ایجنٹ قرار دے کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت نے مہاراشٹر میں ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹہ بھی ختم کردیا جب کہ گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی ۔

انتہا پسند ہندو آئے دن مسلمانوں پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر انھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بی جے پی حکمران جماعت کے رہنما کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ جس نے گوشت کھانا ہے وہ پاکستان چلا جائے۔ چند روز قبل سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی سے قبل انتہا پسند ہندوؤں نے کتاب کے پبلشر اور آرگنائزر کے چہرے پر کالک مل دی۔ اب انھوں نے مقبوضہ کشمیر کے رکن اسمبلی انجینئر رشید کے منہ پر سیاہی پھینک دی اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ دنوں شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد پاکستان غزل گائیک استاد غلام علی کا ممبئی میں طے شدہ کنسرٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح کراچی سے ممبئی جانے والا پاکستانیوں کو ہوٹل کی سہولت فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث انھیں رات فٹ پاتھ پر گزارنا پڑی۔ انتہا پسند ہندوؤں کے مظالم صرف مسلمانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ دوسری اقوام بھی ان سے محفوظ نہیں رہیں۔

گزشتہ دنوں مشرقی پنجاب میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں گروگرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے خلاف سکھوں نے شدید مظاہرہ کیا اسی طرح بنگلور میں انتہا پسند بلوائیوں نے ٹانگ پر ٹیٹو بنوانے پر آسٹریلوی جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا یہ جوڑا بھارت سیاحت کے لیے آیا ہوا تھا۔ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد اور مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں سے تنگ آ کر بھارتی ادیبوں نے سرکاری اعزازات واپس کرنے شروع کر دیے ہیں اب تک 41 ادیب ایوارڈ واپس کر چکے ہیں۔

نامور شاعر منور رانا جو مسلمان ہیں نے بھی ایوارڈ واپس کر دیا ہے، بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل بھی اپنا ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔پاکستان کو بھارتی حکومت اور ہندوؤں کے اس انتہا پسندانہ رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہاکی' کرکٹ سمیت دیگر کھیل کھیلنے سے واضح طور پر انکار کر دینا چاہیے تاکہ پوری دنیا پر یہ واضح ہو سکے کہ بھارت غیر ملکی ٹیموں کے لیے ایک محفوظ جگہ نہیں رہی۔