باچا خان ٹرسٹ …کثرت اولاد کا المیہ

غالب کی شاعری میں ایسے کئی اشعار ہیں جو کنفیوژن کری ایٹ کرتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq October 20, 2015
[email protected]

ISLAMABAD: قرض کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

اب یہ صرف اساتذہ ہی بتا سکتے ہیں کہ شعر میں صحیح بات کیا ہے، فاقہ مستی، مے پرستی یا خرمستی، لیکن باچا خان مرکز اور ٹرسٹ کی طرف سے جو خبریں مل رہی ہیں ان پر یہ تینوں ہی پھبتیاں کسی جا سکتی ہیں۔

غالب کی شاعری میں ایسے کئی اشعار ہیں جو کنفیوژن کری ایٹ کرتے ہیں اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ حضرت خود بھی اپنے وقت کے سب سے بڑے ''کنفیوژ'' تھے چنانچہ یہ کنفیوژن انھوں نے اپنے اشعار میں بھی خوب خوب بھری ہے، مذکورہ شعر ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی شعروں میں انھوں نے یہ التزام خاص طور پر رکھا ہوا ہے کہ لوگ خود بھی ان سے کنفیوز ہوں اور خلق خدا کو بھی کنفیوز کرتے پھریں، مثلاً

دل نادان تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

ایک صاحب ہمیشہ دل نادان کی جگہ ''دل نالاں'' پڑھتے تھے۔ ہم نے اپنے خیال میں ان کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ''دل نالاں'' نہیں بلکہ دل نادان ہے۔ بولے غلط، جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ یکسر غلط ہیں ، آخر غالب جیسے شخص سے ایسی غلطی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ ایک ''نادان'' سے ''دانائی'' کی توقع کریں۔

''نادان'' سے تو عام بات بھی نہیں پوچھی جا سکتی چہ جائیکہ اس سے ''درد کی دوا'' پوچھی جائے جب وہ نادان ہے یعنی جانتا نہیں ہے تو دل کے درد اور اس کی دوا کے بارے میں کیا جانتا ہو گا، یہ تو ایسا ہے جیسے کسی بچے اور وہ بھی بیمار بچے سے پوچھا جائے کہ یہ تم رو رہے ہو، اس کا علاج کیا ہے۔

اگر علاج اسے معلوم ہوتا تو پھر روتا کیوں... خود ہی اپنے درد کا علاج کر کے نجات پا لیتا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کوئی کتابت کی غلطی ہے، اصل لفظ ''دل نالاں'' ہے، وہ رو رہا تھا اس لیے مرشد نے پوچھا کہ تجھے ہوا کیا ہے اور بتا دو کہ تمہارے لیے کیا کیا جا سکتا ہے، ایسے اور بھی بہت سارے شعر ہیں لیکن اس وقت ہمیں جس شعر کا سامنا ہے اس میں مے پرستی، فاقہ مستی اور خرمستی کے علاوہ دوسری ہر قسم کی ''مستی'' بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ہوا یوں ہے کہ باچا خان مرکز جو اے این پی کا ہیڈ کوارٹر ہے ان دنوں سخت مالی بحران کا شکار ہے۔

ملازمین کو آٹھ ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، وہ ہر صبح اس ''امید'' پر آتے ہیں کہ آج کچھ مل جائے گا لیکن ایک پشتو ٹپہ کے مطابق میں روز ہنستے ہوئے وہاں جاتا ہوں اور روتے ہوئے واپس آتا ہوں۔پتہ نہیں یہ کیسے ہوا کیوں ہوا لیکن اتنا ہمیں پتہ ہے کہ کب ہوا؟ لگ بھگ اتنا ہی عرصہ پہلے اس مرکز اور ٹرسٹ کے ''مدار المہام'' کو اسلحہ سیکنڈل میں گرفتار کیا گیا تو چونکہ تنخواہیں اس کے دستخط سے جاری ہوتی تھیں، اس لیے سوکھا پڑ گیا۔ ویسے یہ بات اپنی جگہ بڑی ''عجیب و غریب'' ہے کہ باچا خان مرکز کا مدار المہام اور اسلحہ سیکنڈل۔دراصل باچا خان ٹرسٹ کے ساتھ بھی وہی ہوا ہے جو پاکستان میں تقریباً ہر محکمے کے ساتھ ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔

ادھر ادھر سے اتنے زیادہ لوگ بھرتی کیے گئے ہیں، اب اس ہاتھی کے بوجھ کو ٹرسٹ کی پتلی کمر اور کمزور ٹانگوں کے لیے اٹھانا دوبھر ہو گیا ہے جن کاموں کے لیے یہ لوگ بھرتی کیے گئے تھے ان میں سے ایک بھی نہیں ہو سکا، حتیٰ کہ عبدالولی خان کی معرکتہ آراء کتاب جو پاکستانی سیاست پر سب سے زیادہ مستند کتاب ہے جسے اردو میں چھاپنے کا منصوبہ تھا لیکن وہ کام بھی مکمل نہ ہو سکا، یہاں پر ٹرسٹ ہو بہو پشتو اکیڈمی کے ممثاثل ہو جاتا ہے۔

پشتو اکیڈمی میں پشتو کے نام پر اب تک پچاس سالوں میں اتنی رقم خرچ ہو چکی ہے کہ اس کا حساب کرنے کے لیے شاید ''صفر'' بھی کم پڑ جائیں لیکن اب تک پشتو لغت یا پشتو یا پشتونوں کی تاریخ پر بھی دو حرف نہیں چھاپے جا سکے، جب کہ باچا خان ٹرسٹ میں بھی بہت کچھ ہو چکا ہے۔

ٹائلیں سنگ مر مر کے فرش و فروش طرح طرح کے کمرے سب کچھ ہے، کئی لوگ کروڑوں کا تبرک لے جا چکے ہیں، پریس، آرٹ اور بہت کچھ خوب صورت ٹائلوں والے شعبے بھی موجود ہیں، ان کے دفاتر میں عملہ بھی ہے، لنگر کا انتظام بھی ہے لیکن ''کام'' ؟ وہ ایک لڑکے سے استاد نے پوچھا تم کتنے بھائی بہن ہو۔ لڑکا بولا، اٹھارہ ۔ استاد نے پھر پوچھا، تمہارے ماں باپ کام کیا کرتے ہیں۔ لڑکا بولا۔ بس یہی ''کام'' کرتے ہیں چنانچہ یہاں بھی سب مل کر ایک ہی کام کرتے ہیں اور وہ ہے ''ٹرسٹ کا بوجھ'' ہلکا کرنے اور یہ کام تقریباً ہو چکا ہے، کسی بھی دن خبر آسکتی ہے کہ

اسد اللہ خاں تمام ہوا
اے دریغا وہ رند شاہد باز

لگتا ہے باچا خان اور ولی خان دو ایسے شخص تھے جو کثرت اولاد کی وجہ سے ''لاولد'' ہو گئے ہیں۔