چین کی برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

چین کے صدر شی جن پنگ نے برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں


Editorial October 23, 2015
چین کے صدر شی جن پنگ نے برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، فوٹو:فائل

چین کے صدر شی جن پنگ نے برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امید ظاہر کی ہے کہ چین سے معاہدوں کے بعد دنیا بھر سے برطانیہ کے لیے سرمایہ داری کا دروازہ کھل جائے گا۔ برطانیہ اور چین نے 18 ارب ڈالر مالیت سے جوہری توانائی کے پلانٹ کی تعمیر کے معاہدے پر بھی دستخط کر دیے، اس جوہری پلانٹ سے توانائی کا حصول 2025ء تک ممکن ہوگا اور تعمیر کی لاگت کا 30 فیصد یعنی 6 بلین ڈالر چین دے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ برطانیہ کے دوران طے پایا۔ چینی صدر شی شی پنگ نے، جو چینی کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی ہیں، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر 40ارب برطانوی پاؤنڈ (62 ارب ڈالر) کے ایٹمی توانائی کے معاہدے پر دستخط کیے۔

واضح رہے کسی مغربی ملک میں چن کی یہ پہلی جوہری سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر میں چن کی سرکاری جوہری کمپنی ایک تہائی یعنی 18 ارب پاؤنڈ لگائے گی۔ چینی صدر نے کہا کہ برطانیہ کو سرمایہ کاری کے لیے مغربی دنیا کا گیٹ وے قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر برطانوی اپوزیشن کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ کیا اب برطانیہ کو چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر آنا بند ہو گئی ہیں۔ تاہم حکومتی ذرایع کا کہنا تھا کہ چین کی ترقی کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں۔ اس کی معیشت کا حجم برطانیہ سے کئی گنا زیادہ ہے۔

معاہدے کے تحت سفوک میں سزویل اور ایسیکس میں براڈویل کے دو دیگر جوہری منصوبوں پر بھی کام ہو گا۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے اس سے تقریباً 25 ہزار افراد کو روزگار ملے گا اور 60 لاکھ گھروں کو وافر بجلی ملے گی۔ پلانٹ کی تعمیر فرانسیسی توانائی کمپنی ای ڈی ایف چین کی سرکاری جوہری توانائی کی کمپنی سی جی این کے ساتھ مل کر کرے گی۔

چین کی طرف سے یہ برطانیہ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے چینی صدرشی جی پنگ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہنکلے پاور پلانٹ تاریخی منصوبہ ہو گا، فرانس دو یورپین پریشرائزڈ ریکٹرز تعمرکرے گا اور یہ پلانٹ دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں گے، چینی کمپنی سی جی این 6 بلین پاؤنڈ دے گی اور ہم اب اس حالت میں ہیں اگلے چندہفتوں میں اس حوالے سے سرمایہ کاری کی منظور ی دیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان سول ایٹمی توانائی کا بھارت جیسا معاہدہ صرف امریکا سے ہی کیوں کرنا چاہتا ہے کیا چین سے یہ معاہدہ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ برطانیہ نے کیا ہے؟ اگر پاکستان چین کے ساتھ ترجیحات پر مبنی سرمایہ کاری کے معاہدے کرے تو زیادہ فائدے مند ہوں گے۔