بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکا کے حوالے

واشنگٹن میں وزیراعظم نوازشریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے درمیان بلیئر ہاؤس میں ملاقات ہوئی


Editorial October 23, 2015
واشنگٹن میں وزیراعظم نوازشریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے درمیان بلیئر ہاؤس میں ملاقات ہوئی، فوٹو:فائل

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات میں انھیں کراچی، فاٹا اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کارروائیوں سے خطے کی صورت حال خراب ہونے کا خدشہ ہے جب کہ اس موقع پرمشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے علاوہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ملوث ہونے کے ثبوتوں پر مبنی تین دستاویزات امریکی حکام کے حوالے کیں۔

ان دستاویزات میں دہشت گردوں کو ''را'' کی جانب سے فراہم کی گئی فنڈنگ ، اسلحہ اور بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن میں وزیراعظم نوازشریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے درمیان بلیئر ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں چوہدری نثار، خواجہ آصف، اسحاق ڈار، سرتاج عزیزاورطارق فاطمی شریک تھے جب کہ امریکی وفد میں رچرڈ اولسن، پیٹر لیوے اورلورل ملر شامل تھے۔

ملاقات میں پاک امریکا تعلقات سمیت خطے کی صورتحال پر بات ہوئی۔ وزیراعظم نوازشریف نے امریکی وزیر خارجہ کو بھارت کے ساتھ امن کے لیے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے نکات سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور وہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم تخریبی قسم کی کارروائیوں سے خطے کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ جان کیری نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں کامیابی وزیراعظم نوازشریف کی امن قائم کرنے کی پالیسی کا ثبوت ہے۔ امریکا پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط کرے گا اور پاکستان میں توانائی کی ضروریات کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گا۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھارت کو چار نکاتی امن فارمولا دیتے ہوئے اسے جنگ نہ کرنے کی معاہدے کی پیش کش کی تھی مگر بھارت کی طرف سے امن کی اس خواہش کو مسترد کرتے ہوئے روایتی الزام تراشی ہی کو دہرایا گیا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے واشنگٹن پہنچنے پر پاکستانی امریکن کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اسی مسئلے کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے امن فارمولے کا بھارت نے تو مثبت جواب نہیں دیا مگر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے بھی امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی انھوں نے بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ جارحانہ رویہ ترک کر کے پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو بھی بھارتی مداخلت کے تمام ثبوت پیش کر چکا ہے اب اس نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو بھی تمام ثبوت فراہم کر دیے ہیں لیکن ابھی تک امریکا کی جانب سے اس مسئلے کی جانب کسی مذمتی ردعمل کا اظہار سامنے نہیں آیا بلکہ اس کی توجہ کا مرکز دہشت گردی کا موضوع ہی رہا جسے اس نے علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے مل کر نمٹنے کے عزم ہی کو دہرایا۔

امریکا کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا بھی ہاتھ ہے اور وہ اس مقصد کے لیے افغانستان کی سرزمین کو بھی استعمال کر رہا ہے جب تک امریکا بھارتی مداخلت اور افغانستان کے راستے دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کرتا پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے، حیرت انگیز امر ہے کہ امریکا دہشت گردی کا سبب بننے والے اصل مسئلے کی طرف توجہ نہیں دے رہا، اس تناظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔ امریکا پاکستان میں ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے لیکن اس نے کبھی بھارت کے ایٹمی پروگرام پر اس قسم کا اظہار نہیں کیا جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اصولوں سے کھلم کھلا انحراف کر رہا ہے، یہ امر امریکا کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کسی قسم کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا، اب پاکستان نے بھارتی جارحیت روکنے کے لیے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا انکشاف کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمایندہ تہمینہ جنجوعہ نے جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جوہری تعاون کے امتیازی معاہدے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی موجود رہے گی، جنوبی ایشیا کے خطے کو مستقل طور پر پرامن بنانے کے لیے پاک بھارت باہمی تنازعات کا حل ہونا ناگزیر ہے اس کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو آگے بڑھ کر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔