آرٹس کونسل کا ایک دیرینہ مسئلہ

آرٹس کونسل کے کئی ممبر صاحبان اور دوستوں کا اصرار ہے کہ ہم آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی کارکردگی پر قلم اٹھائیں


Zaheer Akhter Bedari October 23, 2015
[email protected]

آرٹس کونسل کے کئی ممبر صاحبان اور دوستوں کا اصرار ہے کہ ہم آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی کارکردگی پر قلم اٹھائیں۔ دوستوں کو یہ شکایت ہے کہ آرٹس کونسل ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کا نمایندہ ادارہ ہے لیکن عشروں سے آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مسئلہ حل ہی نہیں ہو پاتا عموماً یہ مسئلہ آرٹس کونسل کے سالانہ انتخابات کے موقعے پر اٹھایا جاتا ہے اور انتخابات مکمل ہوتے ہی یہ مسئلہ اگلے انتخابات تک پینڈنگ ہو جاتا ہے، یا زیر زمین چلا جاتا ہے۔

آپ حضرات کی شکایت بجا لیکن ایک غلطی آپ حضرات کرتے ہیں کہ آرٹس کونسل کے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو معاشرے میں ان کے مقام اور حیثیت سے الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ اسے ہم ملک کی بد قسمتی کہیں یا ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی کہ ہمارے مہذب معاشرے میں ان حضرات کی حیثیت اچھوتوں جیسی ہے جو گمنام زندہ رہتے ہیں، گمنام دنیا سے اٹھ جاتے ہیں یہاں میں ان ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کی بات نہیں کر رہا جو اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ہر محفل میں جگمگاتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالکوں کو نہ بے گھری کی شکایت ہوتی ہے نہ بد حالی کی نہ بے روزگاری کی کیوں کہ ''ھٰذا من فضل ربی'' ان پر ہمیشہ سایہ فگن رہتا ہے۔

آپ دوستوں نے بالکل درست کہا ہے کہ آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مسئلہ عشروں سے لٹکا ہوا ہے صرف آرٹس کونسل کے انتخابات کے موقعے پر باہر آتا ہے۔ انتخابات کے بعد پھر ایک سال تک پردہ کر لیتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کوئی سا بھی ہو الیکشن لڑنے والوں کو ووٹ کے حصول کے لیے ووٹرز کے سامنے کچھ چارمنگ آئٹم بھی رکھنے پڑتے ہیں اور آرٹس کونسل کے کرایے کے مکانوں میں رہنے والے ممبر حضرات کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی سے زیادہ چارمنگ آئٹم اور کیا ہو سکتا ہے، ہمارے مہربان سحر انصاری بھی کرائے کے مکان ہی میں زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں، دوسرے کرایہ داروں کی طرح سحر انصاری کو بھی اپنے ایک ذاتی مکان کی ضرورت ہے اور وہ آرٹس کونسل کی بڑی فعال شخصیت بھی ہیں۔ لیکن وہ بھی آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے ایک سرد آہ بھر کر رہ جاتے ہیں تو ہما شما کس کھاتے میں آ سکتے ہیں۔

ہمیں یاد ہے بلکہ اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے درویش صفت وزیر اعلیٰ نے ایک سے زیادہ مرتبہ آرٹس کونسل کو یقین دلایا کہ بہت جلد اس کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو زمین الاٹ کر دی جائے گی لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ایک بارقائم علی شاہ نے آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو 300 ایکڑ زمین دینے کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا تھا لیکن بے چارے کریں کیا ایک جان سو کام ہیں کس کو یاد رکھیں کس کو بھول جائیں۔ اطلاع یہ ہے کہ شاہ صاحب حکم دے دیتے ہیں لیکن ہماری مُنہ زور بیورو کریسی بعض احکامات کو بوجوہ پیڈنگ میں ڈال دیتی ہے۔ سو شاہ صاحب کے اعلان بیوروکریسی کی دروازوں میں رہ جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے آرٹس کونسل میں ایسے فعال بندے نظر نہیں آتے جو وزیر اعلیٰ کے احکامات کو فالو کریں اور بیورو کریسی کے سر پر سوار رہیں۔

مجھے یاد ہے یہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے کی بات ہے، رائٹرز گلڈ کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے راقم الحروف اور انور شعور نے بہت بھاگ دوڑ کی بلکہ متعلقہ حکام کا جینا حرام کر دیا تب کہیں جا کر گلڈ کے لیے 25 ایکڑ زمین الاٹ ہوئی لیکن بد قسمتی یہ رہی کہ قسمت سے ملنے والی اس زمین کو استعمال کرنے میں اتنی سستی یا کاہلی کا مظاہرہ کیا گیا کہ لینڈ مافیا نے اس زمین پر قبضہ کر لیا اور ہمارے ادیب شاعر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ لینڈ مافیا سے قبضے چھڑوا رہی ہے اگر گلڈ کے کرتا دھرتا اپنے آپس کے جھگڑوں کو پس پشت ڈال کر گلڈ کی 25 ایکڑ زمین کو قبضہ مافیا سے چھڑانے کی سنجیدہ کوشش کریں تو اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی الائٹی زمین حاصل کر لیں گے۔ اس طرح وہ بے گھر ادیب اور شاعر جو ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں گزارتے آ رہے ہیں شاید اپنا گھر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ خاکروب موچی قصائیوں کی تنظیمیں بھی اپنی محنت لگن اور کوششوں سے اپنی رہائش کے لیے اپنی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے زمینیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ملک کے اس ادبی اور فنی ایلیٹ کو اب تک رہائش کی سہولتیں حاصل نہ ہو سکیں۔ ہمارے علم کے مطابق آرٹس کونسل کے سرپرستوں میں ایک سنجیدہ اور فعال شخصیت ڈاکٹر عشرت العباد کی ہے۔

ان کا شمار وعدہ پورا کرنے والوں میں ہوتا ہے آرٹس کونسل کی باگ ڈور بھی ایک فعال بلکہ غیر معمولی فعال شخصیت احمد شاہ کے ہاتھ میں ہے احمد شاہ کا شمار عملی لوگوں میں ہوتا ہے موصوف نے اب تک فنکاروں کے لیے بہت ساری سہولتیں فراہم کی ہیں۔ آرٹس کونسل کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ادیبوں، شاعروں کے علاوہ فنکار بھی ہیں اور فنکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی رہائش سے محروم ہے اگر احمد شاہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لیں تو بے گھر ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو اپنا گھر دستیاب ہو سکتا ہے یہ کوئی عیش و عشرت کے حصول کا مسئلہ نہیں بلکہ انسان کی بنیادی ضرورت کا مسئلہ ہے جسے جائز طریقے سے پورا ہونا چاہیے، آرٹس کونسل کے دوستوں کے اصرار پر ہم نے یاد دہانی کر دی ہے اب ان دوستوں کی ذمے داری ہے کہ وہ برادرم احمد شاہ سے رجوع کریں۔

عام طور پر رہائش کے لیے پلاٹوں کے حصول پر زور دیا جاتا ہے اور پلاٹوں پر مکانوں کی تعمیر کے لیے سیکڑوں ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ اسکیم 33 وغیرہ میں سیکڑوں ایکڑ زمینیں حاصل کرنے کے بجائے اگر فلیٹس اسکیم کے لیے چند ایکڑ زمین حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کام زیادہ آسانی سے ہو سکتا ہے شہر کے مختلف علاقوں میں ایکڑوں زمین پڑی ہوئی ہے کیا ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے لیے حکومت سندھ چند ایکڑ زمین نہیں نکال سکتی؟ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں بات صرف توجہ اور اہمیت کے ساتھ دلچسپی اور درست سمت میں کوشش کی ہے، بہر حال ہم نے اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے، آگے آرٹس کونسل کے عمائدین جانیں اور ارکان آرٹس کونسل جانیں۔

مقبول خبریں