ناران میں برفباریانفرااسٹرکچر ندارد

آزاد کشمیر میں بارشوں سے نظام زندگی مفلوج اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعد رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔


Editorial October 27, 2015
چھٹیوں کے دوران ایک ہی مقام پر سیاحوں کا رش بھی انتظامی مسائل پیدا کرتا ہے، فوٹو : فائل

HYDERABAD: قیامت خیز گرمی کے بعد موسم نے اپنے تیور بدلنے شروع کردیے ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش اور برفباری سے موسم سرد ہوگیا جب کہ آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات میں 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔

اطلاعات ہیں کہ سیاحتی مقام ناران میں محرم کی چھٹیوں کے دوران دو سے ڈھائی فٹ کی غیر متوقع برفباری ہوئی جس میں سیاح پھنس کر رہ گئے، مسلسل برفباری سے ناران بازار میں سڑکیں بند اور سیکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ سیاحوں کے مطابق برف ہٹانے کے لیے مشینری اور انتظامیہ بھی غائب ہے۔

220 کلومیٹر طویل شاہراہ کاغان کا 85 کلومیٹر حصہ بند ہے۔ اب تک ناران شہر میں ڈھائی فٹ، جھیل سیف الملوک، بیسر اور بٹہ کنڈی میں 3 فٹ جب کہ بابو سرٹاپ پر 4 فٹ سے زیادہ برف پڑچکی ہے۔ بلاشبہ ناران میں اکتوبر کی برفباری نے چالیس سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان میں بارش اور پہاڑوں پر مسلسل برفباری سے شاہراہ قراقرم، سکردو اور شاہراہ گلگت بلاک ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

آزاد کشمیر میں بارشوں سے نظام زندگی مفلوج اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعد رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ مظفر آباد کا لیپہ اور ودای نیلم سے زمینی رابطہ کٹ گیا، متعد سیاح بھی پھنس گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں سیاحتی سیکٹر کی بہتری کے لیے کبھی بھی خاطر خواہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ ارض پاک پر بے شمار مقامات قدرت کی صناعی کا شاہکار ہیں جہاں سیاحوں کے لیے سہولتیں فراہم کرکے نہ صرف بہترین زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے ذریعے پاکستان کی ایک خوبصورت تصویر بھی دنیا کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے لیکن یہ ہماری نااہلی ہے کہ اس جانب سے پہلوتہی برتی جارہی ہے۔

سیاحتی مقامات کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کی جانب توجہ نہیں دی جارہی، مری سے آگے جائیں تو سڑکیں و پل ندارد جب کہ راستے مسدود ہیں، ملک میں بے شمار خوبصورت مقامات ہونے کے باوجود سیاح چند مخصوص مقامات کی سیر تک محدود ہیں، جب کہ سندھ میں گورکھ ہل پرکشش مقام ہے۔

جہاں برفباری ہوتی ہے، رانی کوٹ، کوٹ ڈیجی، بھنبھور، نوکوٹ فورٹ، موئن جودڑو، کیرتھر نیشنل پاک، مکلی میں کینجھر جھیل، بلوچستان میں زیارت پنہوں فورٹ( سسی پنہوں کی یادگار)، استور جزیرہ و ہفت کوہ ساری مشہور ہے، مہر گڑھ میں سات ہزار سال قدیم آثار،پنجاب میں مری ،فورٹ منرو، تونسہ بیراج، کلر کہار جھیل، قلعہ روہتاس، جب کہ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر وادی، سوات، مالم جبہ، مرغزار، کالام وغیرہ نیز کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جن تک رسائی کا انفرااسٹرکچر بہتر کیا جائے تو سیاحت کے نئے در وا ہوسکتے ہیں۔

چھٹیوں کے دوران ایک ہی مقام پر سیاحوں کا رش بھی انتظامی مسائل پیدا کرتا ہے، نئے مقامات پر سہولتیں دینے سے سیاحوں کو مزید آپشن مل سکیں گے، نیز سیاحوں کی رہنمائی کے لیے میکنزم بنانا چاہیے۔