اللہ داد خان ناپرساں کی شادی اور خانہ …

اگر آپ برا نہ مانیں ویسے اگر مان بھی جائیں تو ہمارا کیا بگاڑ لیں گے کیونکہ اینٹ پتھر ہم تک پہنچ نہیں پائے گا


Saad Ulllah Jaan Baraq October 27, 2015
[email protected]

HYDERABAD: اگر آپ برا نہ مانیں ویسے اگر مان بھی جائیں تو ہمارا کیا بگاڑ لیں گے کیونکہ اینٹ پتھر ہم تک پہنچ نہیں پائے گا اور کوئی آلہ ضرر لے کر بھی ہم تک پہنچ نہیں پائیں گے، اس لیے کہ

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

ویسے بھی آپ نے ان لوگوں کا کیا بگاڑ لیا جو ستر سال سے وہی پرانی کہانیاں، وہی لوریاں آپ کو سنا رہے ہیں جو دادی اماں اپنے پہلوٹھے کے بچوں کو سنایا کرتی تھیں چنانچہ آپ کی اس مرنجا مرنج طبیعت کے پیش نظر اگر ہم بھی کوئی پرانی کہانی سنا دیں تو کیا حرج ہے۔ یہ قصہ رات سے ہمیں دم ہلا ہلا کر اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، جب ہم نے خبر سنی تھی کہ روس 2 ارب کی لاگت سے کراچی تا لاہور (1100) کلو میٹر گیس پائپ لائن ''ہمارے لیے'' بچھائے گا ۔

''ہمارے'' لیے پر جتنا ہو سکے زور ڈالیے کہ یہی لفظ ہی حاصل کلام ہے۔ کہانی اس نکمے نکھٹو نوجوان کی شادی کی ہے جس کا نام اللہ داد عرف ناپرساں تھا۔ اس کی آوارگی اور وقت بے وقت رشتہ داروں کے گھر آنے جانے اور ٹھونسنے سے تنگ آکر رشتہ داروں نے فیصلہ کیا کہ اس کی شادی کرا دی جائے تو اپنے گھر بار کا ہو جائے گا اور ہماری جان چھوٹ جائے گی کہ ادھر کھانا کھانے بیٹھے اور ادھر اس کا نزول ہوا۔

اس کے پاس تو کچھ تھا نہیں کیونکہ نہ کام کا تھا نہ کاج کا صرف دشمن تھا اناج کا چنانچہ رشتہ داروں نے اخراجات کی کمیٹی ڈال دی، کپڑے لتے کا ذمے چچا نے لیا، زیور بنانا ایک ماموں کے ذمے لگا، دعوت کا قرعہ فال پھوپھا کے نام نکلا باقی کے انتظام موسا نے سر انجام دیے۔

اللہ داد ناپرساں گاؤں میں اتراتا ہوا اور مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا پھرتا تھا اور جو بھی ملتا اسے خوش خبری سناتا کہ میری شادی ہو رہی ہے، ناواقف لوگ پوچھتے لیکن اخراجات ؟ بڑے فخر سے جواب دیتا ''اپنے'' ہیں نا ۔۔۔ پھر تفصیل بتاتا کہ فلاں رشتہ دار یہ کام کر دے گا، وہ کام فلاں کر دے گا اور فلاں کام کے لیے فلاں ہے نا ۔۔۔ فلاں فلاں نے شادی تو کرا دی لیکن یہ بھول گئے تھے کہ اس کے بعد گھر چلانے کے بھی اخراجات ہوتے ہیں، پٹھا تو سہرا باندھ کر آرام سے اینڈتا پھرتا تھا ۔

بے چاری بیوی نے یہاں وہاں کے سارے رشتہ داروں سے مانگ تانگ شروع کی۔ اپنا کوئی ایسا رشتہ دار چھوڑا اور نہ شوہر کا جس سے کئی کئی بار کچھ مانگا نہیں تھا، پورا سال تو جیسے تیسے کر کے گزر گیا۔ بیوی کی تو کچھ سنتا ہی نہیں تھا لیکن باہر یار دوست پوچھا کرتے بھئی شادی تو کر لی اب گھر کیسے چلاؤ گے۔ کہتا ،کیوں ماموں ہیں، چاچے ہیں، موسی، بوآ ہے، سسر ہے، سالے ہیں، ساڑھو ہیں، مزید پوچھا جاتا ۔۔ کہ فلاں کام کرو گے تو کسی نہ کسی رشتہ دار کا نام لے دیتا، فلاں ہے نا مثلاً ۔۔۔ بھئی گھر کا کیا کرو گے، مانگے کے گھر میں کب تک رہو گے۔

تمہارا اپنا گھر تو کھنڈر ہے اسے کون بنائے گا؟ فوراً کہتا ، چچا امریکا ہے نا، آخر وہ میرے لیے اور کیا کرے گا؟ دوسرا کہتا صرف گھر ہی تو نہیں فرنیچر اور سامان کون دے گا۔ بولتا واہ ماموں برطانیہ کس لیے گئے ہیں، اتنا فرض تو اس کا بنتا ہے، آخر بھانجا ہوں، اس کا ۔۔۔ اور کھانا پینا پکانا؟ اس کے لیے چچا برطانیہ ہے نا ۔۔۔ اور کپڑے لتے ؟ ماموں شیر داد کرے گا اور خرچ اخراجات؟ اس کے لیے خدا پھوپھا کو سلامت رکھے ۔۔۔۔ اور بعد میں بال بچے بھی ہوں گے ۔

ترنت جواب دیتا، اس کے لیے آنٹی آئی ایم ایف جو ہے اور دوا دارو کے لیے ؟ کمال ہے آخر نانی سعودی کو اللہ سلامت رکھے ۔ اس کے بعد کا قصہ بھی ہے لیکن ابھی اللہ داد ناپرساں کے کافی رشتہ دار باقی ہیں، رشتہ دار نہ بھی ہوں تو اسے کسی کو چچا ماموں انکل آنٹی بنانے کا ہنر آتا ہے، اگر یہ سارے رشتے ختم ہو جائیں تو سسرالی رشتہ داروں کی ایک لمبی فہرست بھی پڑی ہوئی اور پھر سب سے بڑھ کر جگت آنٹی آئی ایم ایف اور پڑوسی چین خان تھے تو کیا غم

تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے۔
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ میاں اللہ داد ناپرساں کو جانتے ہیں، ضرور جانتے ہوں گے، کافی مشہور و معروف بلکہ بدنام زمانہ ہستی ہے کیوں کہ اس کی شہرت صرف نکمے نکھٹو کی نہیں ہے بلکہ اور بھی اس کے اندر بہت سارے گن ہیں چونکہ ہاتھ پیر ہلائے بغیر یہ چچاؤں ماموں انکلوں اور آنٹیوں کا دیا کھاتا ہے، اس لیے ''مال مفت دل بے رحم'' کے فن میں بھی یدطولیٰ رکھتا ہے۔

روز اپنے نکمے نکھٹو مفت خور اور چور اچکے دوستوں کو بلاتا ہے اور کھلاتا پلاتا رہتا ہے چنانچہ اس کے گھر سے روزانہ بڑے چسکے دار قسم کے بگھاروں کی آوازیں اور طرح طرح کے اشتہا انگیز خوشبوؤں کی لپٹیں اٹھتی رہتی ہیں ۔کپڑا لتا بھی اعلیٰ درجے کا بلکہ امپورٹ شدہ استعمال کرتا ہے۔

کبھی کبھی تو ''لنگر'' بھی چلاتا ہے اور خیر خیرات کے لیے اس کے کوچے میں بھکاریوں کا ہجوم رہتا ہے۔لیکن اللہ داد خان ناپرساں کی کہانی یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آگے اس میں بڑے ہی بدصورت موڑ اور بھی آجاتے ہیں۔ ایک تو اسے بیکار بیٹھنے والوں کا وہ مرض لگ گیا جسے ''پجامہ ادھیڑ کر سیا کر'' کا عظیم الشان شغل بیکاری کہا جاتا ہے لیکن اپنا پجامہ تو اس کا تھا نہیں اس لیے جہاں کہیں کسی کا پھٹا ہوا پاجامہ دیکھتا فوراً جیب سے سوئی دھاگہ لے کر سینے بیٹھ جاتا، بہت دور دور تک اس کی یہ شہرت پھیل گئی کہ ایسا ایک شخص بھی ہے جو پرائے پاجامے سیتا ہے، وہ بھی بالکل مفت بلکہ دھاگہ سوئی بھی اپنا استعمال کر کے ۔۔۔۔ گاؤں کے کونے کونے میں اس کی مصروفیت پھیل گئی۔

اس کے علاوہ لوگوں کے دوسرے مسائل بھی دور دور سے پکڑ کر گھر گھسیٹ لاتا، ظاہر ہے کہ بیوی کو اس سے نالاں ہونا ہی تھا، تنگ آکر آخر ایک دن کام تلاش کرنے نکل گیا۔ بیوی بڑی خوش ہوئی لیکن ابھی پوری طرح مسکرا بھی نہ پائی تھی کہ موصوف واپس گھر پہنچ گیا اور اپنے مشہور جھلنگی چارپائی میں پڑ گیا۔ بیوی کے پوچھنے پر بتایا کہ ''امریکا خان'' کی گھوڑی نے افغانستان میں ایک بچہ دیا ہے جس کی دم بھی نہیں اور کان بھی ندارد ہیں۔ بیوی نے اپنا سر ہاتھوں سے اور اس کا سر دل ہی دل میں پیٹتے ہوئے کہا کہ آخر امریکا خان کی گھوڑی کے اس افغانی نژاد بچے سے ہمیں کیا۔

بولا ،کم بخت ذرا سوچو تو افغانستان میں کیچڑ کتنی ہے اگر کل کلاں کو یہ بچہ بڑا ہو کر کسی دلدل میں پھنس گیا تو لوگ اسے کہاں سے پکڑ کر نکالیں گے، لیکن کہانی کا یہ موڑ بھی اتنا خوب صورت نہیں بلکہ وہ ہے جب اس کے پڑوسی نے اس سے اس کے صحن میں ہو کر بازار جانے کا راستہ مانگا اور اس نے کرائے کی لالچ میں آکر اپنے گھر کے عین درمیان میں سے اسے راستہ دے دیدیا، اس کے آگے کہانی کے اوراق پھٹے ہوئے ہیں۔

اس لیے معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا ہوا ۔۔۔۔ لیکن اندازہ یہ ہے کہ راستہ چوڑا ہوتے ہوتے نہ جانے بہت دور تک پھیل گیا ہو گا، پڑوسی کو آخر کار اپنے راستے کا تحفظ بھی تو یقینی بنانا تھا، اگر اس کے بھوکے بچے راستے سے گزرنے والے مال کو لوٹنا شروع کر دیتے تو ؟؟؟ پھٹے ہوئے آخری ورق پر صرف ایک ٹکڑا اور اس پر صرف ''ایسٹ انڈیا کمپنی'' کے الفاظ رہ گئے ہیں۔ نہ جانے اس کا مطلب کیا ہے؟