ضمنی انتخابات کے میلے اور روزگار
ہمارا تو خیال تھا بلکہ جناب کپتان پر یقین تھا کہ وہ اس انتخاب کو ہر گز ہر گز تسلیم نہیں کریں گے
بات ہی ایسی ہے کہ شکایت کا پیدا ہونا لازمی ہے حالانکہ اس سے پہلے عمران خان سے ہمیں کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ جب سے انھوں نے ''سیاست'' جوائن کی ہے تب سے ہم اس کے مداح اور فین چلے آرہے ہیں، وہ جو بھی بات کرتے ہیں جو بھی بولتے ہیں اور جو بھی ''چاہتے'' ہیں اس پر ہم ان کے اور مداح اور فین ہوتے چلے جارہے تھے لیکن افسوس کہ ایاز صادق والے ضمنی انتخاب کو تسلیم کر کے انھوں نے ہمارا دل توڑ دیا بلکہ ساتھ مروڑ اور نچوڑ بھی لیا۔
ہمارا تو خیال تھا بلکہ جناب کپتان پر یقین تھا کہ وہ اس انتخاب کو ہر گز ہر گز تسلیم نہیں کریں گے بلکہ دو چار اور مقامات پر کچھ جتن کر کے ایسے ''میلوں'' کا انتظام کر دیں گے کہ جس میں اس حلقے کے عوام کو اور ملک بھر کے خواص کو کچھ نہ کچھ تو ہاتھ آہی جاتا ہے، آپ خود احتساب کریں اس الیکشن پر فریقین کے کل ملا کر ایک یا نصف ارب روپے تو خرچ ہوئے ہی ہوں گے، ظاہر ہے کہ یہ روپے کسی نہ کسی کو تو ملے ہوں گے۔
پریس، ٹرانسپورٹ، لکھائی والے، دیواروں پر طرح طرح کے کام کرنے والے مطلب یہ کہ ایک دنیا کو اس میں سے حصہ بقدر جثہ ملا ہو گا، یوں کہئے کہ اس حلقہ کے عوام اور پورے لاہور کے خواص کے ''گلے'' خوب خوب ''تر'' ہو گئے ہوں گے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہے، ہر سال ڈیڑھ سال کے بعد میلہ لگے تو سوچئے کہ کتنی خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اگر ہماری رسائی جناب کپتان خان تک ہوتی تو ہم ان سے درخواست کرتے کہ ضمنی انتخابات کا یہ سلسلہ بلکہ چشمہ فیض ہر حلقے میں جاری رکھنا چاہیے کیوں کہ ازلی و ابدی ''خدا ماروں'' کو ویسے تو کچھ بھی نہیں ملتا، یعنی وہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر ساری دنیا دریا دریا سمندر سمندر بھی ہو جائے تو کچھ بدبختوں کی قسمت میں پھر بھی چاٹنا ہی لکھا ہوا ہے۔
آپ نے اکثر دیکھا اور سنا ہو گا کہ حکومتیں بڑے جتن کر کے اپنے ملک میں سیاحت اور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہتی ہیں تاکہ لوگ آئیں اور اپنا پیسہ اس ملک میں خرچ کریں جو کسی کو بھی ملے، ٹرانسپورٹ والوں کو، ہوٹلوں والوں کو اور مختلف اشیاء بیچنے والوں کو ... یعنی وہ جہاں کہیں بھی خرچ کرتے ہیں ملک کا فائدہ ہوتا ہے یعنی پیسہ ملک میں آجاتا ہے، ہمارا خیال ہے اور ہم خود بھی کہتے ہیں کہ بڑا نیک خیال ہے کہ اپنی سیاحت کی تو ماں ہی مر چکی ہے اور دوسری بھی ایسی کوئی سبیل نہیں بچی ہے، اپنی حکومتوں کے ''حسن انتظام'' کی وجہ سے ۔ تو کیوں نہ ان انتخاب ہی کو ایک دھندہ سمجھ کر اختیار کیا جائے۔
باہر کا پیسہ تو پتہ نہیں کہ آئے گا یا نہیں آئے گا کیوں کہ اگر سوئس بینکوں سے بھی آئے تو وہ بھی اپنا ہی پیسہ ہوتا ہے لیکن اتنا تو ہے کہ عوام کی مفلسی اور بیروز گاری کو سہارا مل جائے گا۔ پارٹیوں کے کارکن بھی اپنے گلے پھاڑنے کا کچھ صلہ پا سکیں گے اور انتخابی میلے کے باقی سارے متعلقین حتیٰ کہ بدبختوں کے بدتخت ووٹروں کو بھی ''حلق و زباں'' کی ''تری'' مل جائے گی، ایک مرحلے پر یہ جانکاہ خبر آئی تھی کہ تحریک انصاف نے نتائج قبول کر لیے، یہ سن کر ہمارا دل ''غڑوپ'' کر کے کسی گہرے کنویں میں جا گرا۔
سوچتے سوچتے دل ڈوب سا جاتا ہے میرا
ذہن کی تہہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں
ہمارے ذہن کی تہہ میں اگر کوئی دریا نہیں تو گہرا کنواں ضرور ہے اور خطرہ تھا کہ دل ڈوب ڈوب جائے گا کہ اچانک خبر آئی کہ ایسی کوئی بات نہیں صرف چوبیس سو ووٹوں کا فرق ہے اور چوبیس سو ووٹوں کی بساط ہی کیا ہے، جائزہ لیا جارہا ہے اور غالب گمان ہے کہ بات بن جائے گی اور یہ میلہ آگے بھی جاری رہے گا، اس لیے میلے میں ''اسٹال'' لگانے والوں کو اپنے اسٹال سمیٹنا نہیں چاہیے، صرف اوپر ترپال کھنیچ کر اسٹول پر بیٹھ جائیں،میلے میں ایکسٹیشن کا اعلان ہونے ہی والا ہے، بلکہ ایک اور نہایت ہی حوصلہ افزا ہمت افزا امید بردار خبر یہ بھی آئی ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک کرتا دھرتا نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور نہ جانے کہاں کہاں تک جا سکتے ہیں ،گویا ... پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
سانگہ بہ نن صبا کے گل شی
مائے پہ سر کے سرے غوٹی لیدی دینہ
یعنی شاخ چند ہی دنوں میں پھولوں سے لدنے والی ہے کیوں کہ میں نے کونپل میں ''سرخ شگوفے'' دیکھے ہیں، توقع تو ہمیں یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نہ سہی عوام ہمیں ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازیں کیوں کہ یہ جو آئیڈیا ہم دے رہے ہیں، یہ پاکستانی عوام کے ہر مسئلے کا حل، ہر دکھ کا علاج اور ہر روگ کی دوا ہے، ھوالشافی ۔۔۔ یہ چار پانچ سال کے بعد انتخابات کا سلسلہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے، کچھ ایسا کیا جائے کہ ہر مہینے کسی نہ کسی حلقے میں ضمنی انتخابات منعقد ہوتے رہیں اور ہمارے خیال میں اس کام کے لیے سب سے ماہر ترین، تجربہ کار اور سیانے شخص ہمارے کپتان صاحب ہیں کیوں کہ کسی بھی جگہ کسی بھی حلقے میں وہ دوبارہ انتخابات کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ کچھ اور لوگ بھی اس ہنر میں طاق ہوں لیکن جناب کپتان اس وقت میرٹ پر سب سے آگے ہیں، وہ چاہیں تو تینوں صوبوں میں سال کے بارہ مہینے، مہینے کے تیس دن اور دن کے چوبیس گھنٹے ضمنی انتخابات کا میلہ لگوا سکتے ہیں۔ دھرنے کے ذریعے عوام کو مستفید کرنے کا فن اس پر اضافی ہے۔ ہم نے تین صوبے اس لیے کہا ہے کہ چوتھا صوبہ تو ہر قسم کی دھاندلی اور بے قاعدگی سے پاک صاف اور شفاف ہے بلکہ باقی صوبوں میں ''میلے'' منعقد کرانے کا کام یہی صوبہ فنانس کرتا ہے جو کچھ بھی باقی صوبوں میں کیا جانا مقصود ہوتا ہے۔
اس کے لیے سارا مال مصالحہ اسی صوبے سے وایا بنی گالہ پہنچتا ہے اور چونکہ اس میں نہایت ہی انصاف کی صاف و شفاف حکومت ہے اس لیے کسی دھاندلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، کسی کو ثبوت چاہیے ہو تو تازہ ترین بلدیاتی انتخابات کی شفافیت کو دیکھ سکتا ہے۔ ہم حساب کتاب میں چونکہ بے حد کمزور ہیں، اس لیے یہ نہیں جانتے کہ اس وقت ان تینوں صوبوں میں کتنی صوبائی اور قومی نشستیں ہیں لیکن کم از کم تین چار سو فرض کر لیجیے ان سب میں اگر ضمنی انتخابات کے میلے برابر چلتے رہیں تو عوام کے گھر روز گوشت پکے گا پلاؤں کھائیں اور حلوہ ٹھونسیں گے۔
کیوں کہ ادھر ادھر کے اہل حساب سے ہم نے پتہ کیا ہے، قومی اسمبلی کے الیکشن میں 15 تا 50 کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے بلکہ یوں کہئے کہ بتاشوں کی طرح پھینکا جاتا ہے، صوبائی حلقوں میں 10 تا 20 کروڑ تخمینہ ہے، ظاہر ہے کہ بارات کی طرح یہ اوپر سے پھینکا جاتا ہے اس لیے ہر کسی کو کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔ اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ پچھلے انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ ایک امیدوار کے انتخابی مرکز میں ایک پاگل کا آنا جانا کچھ زیادہ ہو رہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے بھی سو پچاس روپے مل جاتے ہیں کیوں کہ مخالف امیدوار کے پوسٹر دکھا کر اسے پھاڑنے کے کام پر لگایا گیا ہے۔
وہ گلی گلی پھرتا تھا اور دکھائے گئے پوسٹر کو پھاڑتا تھا۔ کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکتا تھا، پاگل جو تھا بے چارا، یہ الگ بات ہے کہ پاگل اتنا پاگل بھی نہ تھا ، مخالف امیدوار کو پتہ چلا تو اس نے سو کی جگہ دو سو روپے دے کر پورس کا ہاتھی بنا دیا، اس کاروبار کو اگر دوام مل جائے تو ایک مستقل روزگار کی سبیل بھی نکل سکتی ہے، بس کپتان صاحب کو ان کے لیے مواقع پیدا کرنا چاہیے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ''اپنے'' صوبے کے عوام کو تو اس فیض عام سے محروم رکھا جارہا ہے تو یہ راز کی بات ہے کہ وہاں اس کے دوسرے ''مواقع'' پیدا کیے جاتے ہیں مثلاً بلدیاتی الیکشن یا شغل ''اتحادات'' وغیرہ، ہمارے ساتھ مل کر ہاتھ اٹھائیں کہ خدا کپتان صاحب کو اور زیادہ ہمت عطا فرمائے۔